شمع(نظم)

 

یوسف رضا (کیفی سلطان) 

میں جلتی ہوں

یہاں تک کہ اپنا وجود مٹادیتی ہوں

اور تمہیں راہ دکھاجاتی ہوں

شبِ غم ہو یاشبِ زفاف

شبِ ہجر یا پھر شبِ وصال

میرا ایک ہی کام ہے

جلتے رہنا

نہ کوئ غم،نہ کچھ احساس

نہ کسی سے کوئ گلہ

بس خوشی ہے یہ کہ میں کسی کے کام آسکی

میرا وجود نہ بچا تو کچھ غم نہیں

ہاں !غم ہے تو بس اتنا

میرا ہمسفر، میرا ہمدم، میرا ہم نفس

میرے ختم ہوتے ہوتے

خود بھی آخری سسکیاں لےرہا تھا

اسے خبر تھی…

زندگی تمام ہونی ہے

مگر! پھر بھی وہ شریکِ زندگی رہا

جب میرا وجود نہ بچا

تو وہ بھی لاوجود ہوگیا

یوسف رضا (کیفی سلطان)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*