‘شاکر ‘ اور ‘مشکور ‘کی بحث ـ محمد فیصل شہزاد

 

فیس بک پر ایک بار پھر لفظ مشکور کی وہی پامال بحث دیکھی جو برسوں پہلے دم توڑ چکی اور عملا اب مخالفین مشکور بھی مشکور کا عربی والا استعمال چھوڑ چکے ہیں۔

بنیادی بات یہ ہے کہ مشکور اور شاکر کا وہ استعمال جو خواص و عوام شروع سے کرتے آئے ہیں، وہ عربی سے بالکل الگ ہے۔ اکابر میں سے صرف جوش صاحب نے اس پر اصرار کیا کہ شکریہ ادا کرنے والا اپنے آپ کو شاکر کہے مگر اس کو کبھی قبول عام حاصل نہیں ہوا۔ جیسا کہ جوش صاحب کے مزید اس طرح کے دو تین لسانی اعتراضات کو ماہرینِ زبان نے غلط ثابت کیا ہے۔

 

سید سلیمان ندوی رحمہ اللہ اپنی کتاب نقش سلیمان میں لکھتے ہیں:

لفظوں کے لینے اور نکالنے میں عربی و فارسی و سنسکرت ڈکشنریوں کو کسوٹی بنانا اور ان میں سے دیکھ دیکھ کر لفظوں کو چننا اور کام میں لانا ہماری زبان کے حق میں زہر ہے۔ اس کی سچی کسوٹی رواج اور چلن ہے۔ آج جو لفظ عربی، فارسی، ترکی، ہندی، مرہٹی، گجراتی، پرتگالی اور انگریزی کے عام طور سے برتے جا رہے ہیں، وہ ٹھیٹ ہندوستانی الفاظ ہیں، ان کو اسی تلفظ کے ساتھ بولنا چاہیے، جس کے ساتھ وہ بولے جاتے ہیں ـ

عربی میں مشکور اس کو کہتے ہیں جس کا شکریہ ادا کیا جائے، مگر ہماری زبان میں اس کو کہتے ہیں جو کسی کا شکریہ ادا کرے۔ اسی لیے مشکور کی جگہ بعض عربی کی قابلیت جتانے والے اس کو غلط سمجھ کر صحیح لفظ شاکر یا متشکر بولنا چاہتے ہیں، مگر ان کی یہ اصلاح شکریے کے ساتھ واپس کرنی چاہیے ـ

خود لفظ شکریہ کو دیکھیے کہ اصل عربی مگر شکل عربی نہیں۔ اب اس سے ہم نے دو الفاظ بنائے ہیں: شکر اور شکریہ!

خداتعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں اور انسانوں کا شکریہ۔ وہ ناشکرا ہے جو زبان کی اس توسیع کی قدر نہیں کرنا چاہتا۔ (نقوش سلیمان از سید سلیمان ندوی)

اور پھر زبان کی درستی کی سب سے بڑی دلیل تو (خواص کا) کثرت استعمال ہے۔ کہتے ہیں کہ زبان درست کرنی ہے تواس زبان کے اہل زبان اور خواص کو بولتا سنو۔

اب ذرا اندازہ تو کیجیے کہ خدائے سخن حضرت میرتقی میر، مرزا غالب، علامہ اقبال، اسی طرح نثر نگاروں میں شبلی، آزاد، منٹو، کرشن، تارڑ اور ایک بہت طویل فہرست خواص کی ہے، جنھوں نے مشکور کو شکرگزار کے معنی میں کثرت سے استعمال کیا ہے۔

 

اصولا بھی دیکھا جائے تو ویسے بھی کسی زبان کا کوئی لفظ کسی دوسری زبان میں دخیل ہو جائے تو اس دخیل لفظ کا صرف نسبی تعلق پچھلی زبان سے رہ جاتا ہے، باقی اس پر اگلی زبان کے اپنے قواعد لاگو ہوجاتے ہیں۔

 

قصہ مختصر،مشکور بمعنی شکرگزار کے اتنا ہی ٹھیک ہے جیسے لفظ راشی اردو میں رشوت لینے والے کے لیے درست ہے ،جب کہ یہ عربی سے آیا ہے اور وہاں رشوت دینے والے کے لیے بولا جاتا ہےـ

 

عربی سے آنے والے ایسے اور بھی بے شمار الفاظ ہیں، جنھیں پچھلے برس مکتب علوم شریعت میں ’’تصرفات اردو‘‘ کے عنوان سے ایک ادبی سرگرمی کے تحت جمع کیے تھے۔ اس ادبی سرگرمی میں ایسے الفاظ کی نشان دہی کرنے کا کہاگیا تھا،جو عربی زبان میں کسی اور معنی میں ہوں اور اردو میں اس کے معنی یا استعمال میں تبدیلی آگئی ہو۔

ہم نےدرج ذیل 15 الفاظ کی نشاندہی کی:

 

1)… غریب: عربی میں بمعنی اجنبی،جب کہ اردو میں بمعنی مفلس۔

2) …راشی: عربی میں بمعنی رشوت دینے والا،جب کہ اردو میں بمعنی رشوت لینے والا۔

3) …مشکور: عربی میں بمعنی جس کا شکریہ ادا کیا جائے، جب کہ اردو میں بمعنی شکرگزار۔

4)… سلوک: عربی میں بمعنی چلنا،جب کہ اردو میں بمعنی برتاؤ۔

5)… فتنہ: عربی میں بمعنی آزمائش،جب کہ اردو میں بمعنی فساد۔

6)… لطیفہ: عربی میں بمعنی نکتہ،جب کہ اردو میں بمعنی چٹکلا۔

7) …غرور: عربی میں بمعنی دھوکا،جب کہ اردو میں بمعنی تکبر۔

8)… ناظرہ: عربی میں بمعنی دیکھنے والی،جب کہ اردو میں بمعنی قرآن کریم دیکھ کر پڑھنا۔

9) …تخلص: عربی میں بمعنی جدا ہونا،جب کہ اردو میں بمعنی شاعر کا نام۔

10) …عزیز: عربی میں بمعنی غالب،جب کہ اردو میں بمعنی رشتہ دار۔

11) …خطرہ: عربی میں بمعنی خیال،جب کہ اردو میں بمعنی اندیشہ۔

12)… حریف: عربی میں بمعنی ہم پیشہ،جب کہ اردو میں بمعنی دشمن۔

13)… قاصد: عربی میں بمعنی آسان سفر اور سیدھا راستہ،جب کہ اردو میں بمعنی نامہ بر۔

14)… تخلیق: عربی میں بکمال بنانے کو (مگر عدم سے وجود دینے کو نہیں) ،خوشبو لگانے یا نرم کرنےکے لیے کہا جاتا ہے ،جب کہ اردو میں کسی بھی تخلیقی کام کے لیے، مثلاً قلمی کاوشوں وغیرہ کے معنوں میں۔

15)…خصم: عربی میں خَصْم(ص پر جزم) کا مطلب ہے دُشمن، جس سے نکلا ہوا لفظ خُصُومت (دشمنی) اُردو میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ جب کہ اردو میں لفظ خصم شوہر کے لیے استعمال ہوتا ہے اور وہ بھی اِس تبدیلی کے ساتھ کہ ص پر جزم کی بجائے زبر لگا دی جاتی ہے (خَصَم)۔

٭

باقی احباب نے درج ذیل26 الفاظ کی نشاندہی کی:

1) …ابابیل: عربی میں بمعنی غول کے غول،جب کہ اردو میں بمعنی ایک چھوٹا سا سیاہ رنگ کا پرندہ جس کا سینہ سفید ہوتا ہے۔

2)… اخلاق: عربی میں بمعنی تمام عادات(جمع)،جب کہ اردو میں بمعنی رویہ (واحد و جمع)۔دونوں میں فرق یہ ہے کہ جب ہم کہتے ہیں کہ فلاں کے اخلاق اچھے ہیں تو یہ مطلب ہوتا ہے کہ اس کے لوگوں کے ساتھ رویے اچھے ہیں، یہ مطلب نہیں ہوتا کہ اس کی عادتیں اچھی ہیں۔

3)… وجہ: عربی میں بمعنی چہرہ،جب کہ اردو میں بمعنی سبب۔

4)… رقیب: عربی میں بمعنی نگہبان(اللہ تعالیٰ کا صفاتی نام بھی ہے) جب کہ اردو میں بمعنی معشوق کا دوسرا عاشق۔

5)… صنم: عربی میں بمعنی بت،جب کہ اردو میں بمعنی معشوق۔

6)… شراب: عربی میں بمعنی مشروب،جب کہ اردو میں بمعنی خمر۔

7) …سلامت: عربی میں بمعنی سلامتی،جب کہ اردو میں بمعنی سلامتی والا۔

8)… انا: عربی میں بمعنی میں،جب کہ اردو میں بمعنی خود داری۔

9) …عالَم: عربی میں بمعنی دنیا،جب کہ اردو میں بمعنی حالت بھی ۔

10)… عرض: عربی میں بمعنی پیش کرنا،جب کہ اردو میں بمعنی گزارش۔

11)… امیر: عربی میں بمعنی مسئول،جب کہ اردو میں بمعنی مسئول و مالدار۔

12)… شان: عربی میں بمعنی حالت،جب کہ اردو میں بمعنی شوکت۔

13)… خصم: عربی میں بمعنی مد مقابل،جب کہ اردو میں بمعنی مد مقابل و شوہر۔

14)… ردیف: عربی میں بمعنی پیچھے والا سوار،جب کہ اردو میں بمعنی قافیے کے بعد والا حصہ۔

15)… تلاشی: عربی میں بمعنی معدوم ہونا،جب کہ اردو میں بمعنی تلاش کرنا۔

16) …غصہ: عربی میں بمعنی غم،جب کہ اردو میں بمعنی غضب۔

17)… سبیل: عربی میں بمعنی راستہ،جب کہ اردو میں بمعنی راہ گیروں کو مفت پانی پلانا۔

18)… مقام: عربی میں بمعنی مرتبہ،جب کہ اردو میں بمعنی مسکن۔

19)… سبق: عربی میں بمعنی آگے ہونا،جب کہ اردو میں بمعنی درس۔

20)… حور: عربی میں بمعنی بہت زیادہ سفید و سیاہ آنکھوں والیاں،جب کہ اردو میں بمعنی جنت کی ایک خوبصورت عورت۔

21) …سابقہ: عربی میں بمعنی آگے بڑھنے والی،جب کہ اردو میں بمعنی گزشتہ ۔

22)… مرید: عربی میں بمعنی ارادہ کرنے والا،جب کہ اردو میں بمعنی متبع ۔

23) …شہر: عربی میں بمعنی مہینہ،جب کہ اردو میں بمعنی آبادی ۔

24)… دفتر: عربی میں بمعنی کاپی،جب کہ اردو میں بمعنی آفس ۔

25)… افواہ: عربی میں بمعنی بہت سے منہ،جب کہ اردو میں بمعنی سنی سنائی بات۔

26) …طریقہ: عربی میں بمعنی ارادہ کرنے والا،جب کہ اردو میں بمعنی طور۔

٭

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*