شکیل رشید:ایک منفرد اور بےباک صحافی-جاوید جمال الدین

آج اپنے دوست بلکہ انجمن اسلام ہائی اسکول ، فورٹ ممبئی کے ساتھی اورممبئی اردو نیوز کے مدیر جناب شکیل رشید کے بارے میں بات کریں گے،شکیل رشید سے اسکول کے دور میں ہلکی سی جان پہچان رہی،جیسے کہ ہمیشہ ہوتا ہے،کیونکہ ہم میٹرک تک الگ الگ ڈیویژن میں رہے ۔پھر ہائر سکنڈری کادور الگ ہوتا ہے۔آج اور اُس زمانے میں بھی انجمن اسلام میں وڈالا، سیوری، گوونڈی، مانخورداور اسی طرح کے علاقوں سے طلبا آتے تھے۔شکیل رشید بھی سیوری میں رہتے تھے بلکہ آج بھی وہیں رہائش پذیر ہیں۔اترپردیش کے لوگ بڑی تعداد میں یہاں رہتے ہیں اور رفیع احمد قدوائی نامی شاہراہ سے لگے قدوائی نگر ایک بڑی مسلم آبادی ہے اورریڈی میڈ کپڑوں کی نیشل مارکیٹ بھی یہیں ہے۔اس علاقے کو شہرت 1993ء میں فسادات کے دوارن ملی جب ہلال مسجد(ہری مسجد) میں نہتے نمازیوں کو گولیوں سے بھون ڈالا گیا اور جسٹس سری کرشنا نے بذات خود یہاں کا دورہ کیا اور جانبداری کرنے والے پولیس آفیسرز اور اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی سفارش کی تھی۔اس پر پھر کبھی کچھ لکھوں گا۔ مجھے توآج شکیل رشید کی بات کرنی ہے۔
دوستو!میں نے جب جرنلزم میں قدم رکھا تو شکیل رشید اس میدان میں چند سال گزار چکے تھے،بزرگ صحافی جناب خلیل زاہد کی سرپرستی میں جاری اخبار عالم میں سرگرم رہے،ہم دونوں صحافت میں ساتھ ساتھ ہی رہے،لیکن کافی عرصہ تک ساتھ کام کرنے کا موقع نہیں ملاتھا،یہ موقع 1995ء کے بعد ملا،شکیل رشید نے مرحوم مدیر محترم جناب ہارون رشید کی ایما پر روزنامہ” انقلاب” میں شمولیت اختیار کرلی اوراس دوران اپنی ایک خواہش پوری کرنے کے لیے ایک اور سنئیر صحافی سعید حمید بھی انقلاب سے وابستہ ہوگئے ،سعید حمید اور شکیل رشید Exclusive رپورٹنگ کے ماہر رہے ہیں اور اُس دوڑ میں ریحانہ بستی والا بھی شامل تھیں ،سو انقلاب کے صفحۂ اول نے ایک نیا رنگ روپ اختیار کرلیا تھا، سونے پہ سہاگہ یہ کہ مدیر ہارون رشید بھی صفحۂ اول کو سجانے اور سنوارنے میں لگ جاتے تھے،اور شام 5 بجے ہی لیڈ اسٹوری بن جاتی تھی، لیکن 2000ء سے پہلے پہلے ان دونوں کے لیے ایک شرارتی نے لابنگ کرنا شروع کردی ،سعید حمید نے سازش کی بو سونگھ لی اور آہستہ سے اپنی راہ لے لی تھی،ان کا تکلف بر طرف ان کی شناخت ہے،روزنامہ”سہارا” جوائن کرنے پر سعید حمید نے میٹنگ میں میری حوصلہ افزائی کی اور سب کے سامنے کہاتھا کہ "اب میں بڑی بے فکری سے جنوبی ممبئی میں رہ کر خبریں تلاش کروں گا۔”
خیر شکیل رشیداس سازش کا شکار بن گئے اور ایک اصل صحافی اور بہترین انسان کو نشانہ بنا دیا گیا۔ہمتِ مرداں مددِ خدا کے مترادف انہیں روزنامہ "اردو ٹائمز” میں پورا پورا موقع ملا۔ایک حق دار کو پہلے "اردو ٹائمز” میں اور پھر روزنامہ "ممبئی اردو نیوز "میں حق مل گیا ،یہی حق میرے معصوم دوست عبدالرحمن صدیقی کو بھی ملا ہے۔ اس کے لیے جناب امتیازمنظور احمد کا میں مشکور ہوں۔قدرت کا ایک نظام ہے اور ہر کسی کو دیر سویر اس کارزق اور حق مل جاتا ہے ،جس کا وعدہ ہےـ
اگر انقلاب میں شکیل رشیدکے خلاف ایک بدبخت نے سازش کی تو کیا ہوا ، اللہ تعالیٰ نے ان پر دوسرے دروازے کھول دیے ،ہر طرح سے موقع دیا اور پرنٹ لائن میں نام آنے کی ہرایک صحافی کی تمنا ہوتی ہے،وہ خواب شرمندۂ تعبیر ہوچکا ہے۔فرض کیجیے اگر وہ انقلاب میں ہوتے توکبھی مدیر نہیں بن سکتے تھے۔
آج شکیل رشید کے مضامین صرف ان کے اخبار میں نہیں بلکہ میں نے دلی،کولکاتہ،پٹنہ ،لکھنو،اورنگ آباد،ناندیڑہی نہیں بنگلور، حیدرآباد قیام کے دوران مختلف اردو اخبارات کی زینت بنتے دیکھا ہے۔ وہ صحافتی، سیاسی، سماجی،علمی وادبی اور مذہبی حلقوں میں کافی مقبول ہیں۔ان کاہی بوتا ہے کہ قربانی کے موجودہ مسئلہ اور لیڈرشپ کی ناکامی پر کھل کر لکھ رہے ہیں اور بلکہ ارباب اقتدار کو بھی نشانہ بنانے سے نہیں چوکتے ہیں۔مسلکی نفرت پھیلانے والوں کو بھی نہیں بخشتے ہیں۔
شکیل رشید ایک کم گو، مخلص، سادگی پسند انسان ہیں،بڑی خندہ پیشانی سے ملتے ہیں اور بڑی دھیمی آواز میں بات کرتے ہیں ،لیکن مدلل جوابات اور باتوں سے میدان مار لیتے ہیں۔
یہ بھی عجیب بات ہے کہ ان سے ملاقات ہوتی ہے تو شکیل رشید ان علاقوں میں ملتے ہیں جہاں کتابوں کی دکانیں ہیں ۔یہ اتفاق ہی ہے کہ وہ بھنڈی بازار،جے جے اسپتال اورمحمد علی روڈ پر کتب فروشوں کی دکانوں کے آس پاس مل جاتے ہیں اور ان کے ہاتھ میں خریدی گئی کتابوں کی تھیلی ضرور رہتی ہے۔کتابوں سے بیزاری کے دور میں بھی اپنے مطالعے کے شوق کو پورا کرنا کوئی اُن سے سیکھے۔لاک ڈاؤن نے اس شوق کو انتہا پر پہنچا دیاہوگا، میرا خیال ہے اورصحافی دوست بھی اس بات کا اعتراف کریں گے کہ پڑھنے پڑھانے کے میدان میں شکیل رشید ‘نمبر ون’ ہیں۔ شکیل رشید کواپنا صحافتی پیغام پہنچانے کا پورا پورا موقع ملا ہے اور مستقبل میں بھی وہ بے باکی سے اظہار کرتے رہیں گے۔یہی میری اُمید اور نیک خواہشات ہیں۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*