شاعر-خلیل جبران

ترجمہ : احمد سعید قادری بدایونی

میں اس دنیا میں اجنبی ہوں اور اجنبیت و غربت کا جام ہمیشہ دل سوز اور تکلیف ده تنہائی سے لبریز رہتا ہے مگر اس کے باوجود بھی یہ اجنبیت مجھے ایک جادوئی ملک کی سیر کراتی رہتی ہے اور میرے سپنوں میں ایسے خیالی شہر دکھاتی ہے جس کو میں نے کبھی دیکھا ہی نہیں۔

میں اپنے گھر والوں اور دوستوں کے لئے بھی اجنبی ہوں کیونکہ اگر مُجھے اُن میں سے کوئی ملتا ہے تو میں خود سے سوال کرتا ہوں کہ” یہ کون ہے ؟ میں اِس کو کیسے جانتا ہوں ؟ کس رشتے کی ڈور نے ہمیں باندھ رکھا ہے اور میں کیوں اِس انسان کے پاس بیٹھ رہا ہوں ؟”ـ

میں اپنے آپ سے بھی اجنبی ہوں، یہاں تک کہ جب میں اپنی زبان کو بولتے سنتا ہوں تو میرے کان میری آواز سے سرگوشی کرنے لگتے ہیں، میں اپنی پوشیدہ ذات کو کبھی ہنستا، کبھی روتا تو کبھی ڈرا سہما پاتا ہوں حد تو یہ ہے کہ میرا وجود خود میرے وجود ہی سے حیران ہو جاتا ہے، پھر پریشان ہو کر میں اپنی روح سے سوال کرتا ہوں لیکن وہ بھی میرے سوالوں کا جواب دینے سے قاصر مجھے تنہائی و غربت کے اندھے کنویں میں پھنسا حیرت و استعجاب کی زنجیروں میں جکڑا ہوا چھوڑ کر چلی جاتی ہے۔

میں اپنے جسم کے لئے بھی اجنبی ہی ہوں کیونکہ جب میں آئینے میں اپنا چہرہ دیکھتا ہوں تو مجھے اپنے چہرے پر ایسے احساسات کے آثار نظر آتے ہیں جو میرے دل نے کبھی محسوس ہی نہیں کئے اور آنکھوں میں ایسی چیزوں کے مناظر دیکھتا ہوں جو میرے وجود کے کسی کونے میں کبھی رہے ہی نہیں ہیں۔

میں سڑکوں پر نکلتا ہوں تو لڑکیاں چیخ کر کہتی ہیں، "اِس اندھے کو سہارے کے لئے کوئی لاٹھی دے دو”، میں وہاں سے جان چھڑا کے بھاگتا ہوں تو آگے کُچھ بچیاں مل جاتی ہیں جو میرا دامن پکڑ کر کہتی ہیں، "یہ تو چٹان کی طرح بہرا ہے آؤ اِس کے کانوں کو سوزشِ عشق اور محبت و اُلفت کے نغموں سے آشنا کراتے ہیں” ـ میں اُنھیں وہیں کھڑا چھوڑ کرآگے بڑھتا ہوں تو کُچھ نوجوان مجھے گھیر کر کہنے لگتے ہیں، "یہ تو قبر کی طرح خاموش و گونگا ہے آؤ اِس کی زبان کی لُکنت نکالتے ہیں”ـ میں جیسے تیسے اُن سے اپنی جان بچا کر بھاگتا ہوں تو کُچھ اُدھیڑ عمر بوڑھے اپنی کپکپاتی انگلیوں سے میری طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں ” دیکھو اِس پاگل کو یہ جِن اور چڑیلوں کے چکر میں اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھا ہے”ـ

میں اس دنیا میں بھی اجنبی ہوں اور اِسی اجنبیت کے ساتھ میں نے مشرق و مغرب کی خاک چھانی ہے لیکن پھر بھی نہ ہی مجھے میرا سراغ ملا اور نہ ہی کوئی ہمدم و ہمنوا۔

صبح بیدار ہوتا ہوں تو خود کو ایک ایسی تاریک اندھیری گفا میں قید پاتا ہوں جس کی چھت سے سانپ لٹکتے ہوتے ہیں تو زمین پر کیڑے مکوڑے سیر و تفریح کے موڈ میں ادھر اُدھر رینگتے پھرتے ہیں۔ پھر میں روشنی کے پیچھے نکل کھڑا ہوتا ہوں تو میرے جسم کا سایہ میرے پیچھے آنے لگتا ہے اور دل میں امنڈنے والے خیالات میرے آگے چلتے چلتے اچانک ایسی باتوں کی تلاش میں جو میری سمجھ سے پرے ہوتی ہیں اور ایسی چیزوں پر قبضہ کرکے جن کی مجھے کوئی ضرورت نہیں ہوتی،ایسے مقامات کی طرف نکل جاتے ہیں جن کو میں جانتا ہی نہیں۔
جب شام ڈھلے میں لوٹ کر آتا ہوں اور شُتر مرغ کے پنکھ اور آسٹرالگس کے کانٹوں سے بنے اپنے بستر پر لیٹتا ہوں تو انوکھے اور منفرد خیالات میری قربت کے منتظر میرے سینے سے آ لگتے ہیں اور ساتھ ساتھ کُچھ پریشان کُن، فرحت بخش اور تکلیف دہ احساسات بھی باری باری مجھ سے بغلگیر ہوتے رہتے ہیں ـ

جب آدھی رات ڈھل جاتی تو گزرے زمانوں کی بوسيده لاشیں اور بھولی بِسری قوموں کی روحیں غار کے شگافوں سے نکل کر میرے قریب آن بیٹھتی ہیں میں اُنھیں تکتا رہتا ہوں اور وہ مجھے، میں اُن سے باتیں کرتا ہوں، سوال کرتا ہوں اور وہ ہنس ہنس کر میرے ہر سوال کا جواب دیتی رہتیں ہیں لیکن جیسے ہی میں اُنھیں پکڑنے کی کوشش کرتا ہوں تو وہ دھوئیں کی طرح اُڑھ کر میری آنکھوں سے اوجھل ہو جاتی ہے۔

یقیناً میں اس دنیا میں اجنبی ہوں اور میرے وجود میں کوئی ایسا نہیں ہے جو میرے دل کی آواز سمجھ سکے۔

جب میں خالی بیاباں کی سیر کو نکلتا ہوں تو وادی کی گہرائی سے پہاڑ کی چوٹی تک ایک دوسرے سے منھ جوڑے پانی سے بھرے بادل جاتے نظر آتے ہیں، تو کبھی برہنہ پیڑوں کو پتّوں کا لباس زیب تن کرتے ہوئے دیکھتا ہوں جو دیکھتے ہی دیکھتے پھول اور پھل سے لد جاتے ہیں اور آن واحد میں اُس کے سارے پتّے بکھر بھی جاتے ہیں جس کے بعد اس کی ٹہنیاں نیچے جھک کر چتکبرے رینگتے سانپوں میں بدل جاتی ہیں تو کبھی مجھے غم اور خوشی کے ملے جھلے گیت گاتے پرندے اوپر نیچے آتے جاتے دیکھتے ہیں جو یکایک رک کر اپنے پروں کو کھولتے ہیں اور کھولے بالوں اور لمبی گردن والیں برہنہ عورتوں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں جو اپنی پلکوں پر عشق کا سرمہ لگائے، گلابی اور شہد کی طرح میٹھے ہونٹوں پر مُسکان سجائے مجھے دیکھتی ہیں، اپنے حسین نرم و نازک بخور اور رس پت سے معطر ہاتھوں کو میری طرف بڑھاتی ہیں اور پھر اچانک اپنے ہاتھوں کو پیچھے کھینچ میری نظروں سے چھپ کر کہرے کی طرح نظروں سے اوجھل ہو جاتی ہیں اور اپنے پیچھے فضا میں گونجتی مجھ سے ہنسی دللگی کرتی اپنی مَدُھر آواز چھوڑ جاتی ہیں۔

میں اس روئے زمین پر ایک اجنبی ہوں۔

میں ایک شاعر ہوں اور ہر اُس احساس، کرب اور اذّیت کو الفاظ و معانی کی لڑی میں پروتا ہوں جس کو زندگی نے بکھیر دیا ہے اور جذبات کے اُن حسین موتیوں کو سب کے سامنے لاتا ہوں جن کو زندگی بڑی بے اعتنائی اور لا پرواہی سے بے ربط لڑی میں پرو دیتی ہے۔ اِسی لئے میں اجنبی ہوں اور اُس وقت تک اجنبی ہی رہوں گا جب تک موت مجھے اپنی آغوش میں لے کر مجھے میرے وطن نہ لے جائے۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*