شیخ حمد ایوارڈ برائے ترجمہ اور بین الاقوامی مفاہمت کی تقریبات کے ضمن میں عربی اردو ترجمے کی صورتحال پر علمی مذاکرہ

دوحہ(ایجنسی) شیخ حمد ایوارڈ برائے ترجمہ اور بین الاقوامی مفاہمت کی تقریبات کے ضمن میں ہر سال ایوارڈ کی میڈیا کمیٹی، ایوارڈ کے لیے منتخب کی گئی زبانوں میں عربی ترجمے کی صورتحال کو سامنے لانے کے لیے مذاکروں اور سیمیناروں کا اہتمام کرتی ہے۔ اسی ضمن میں ہندوستان میں عربی سے اردو اور اردو سے عربی ترجمے کی موجودہ اور تاریخی صورتحال اور اس حوالے سے افراد اور اداروں کی خدمات اور پیش آمدہ مشکلات کے وقیع موضوع پر علمی آن لائن مذاکرے کا اہتمام کیا جس میں شیخ حمد ایوارڈ کی میڈیا ایڈوائزر ڈاکٹر حنان الفیاض نے بذات خود شرکت کی۔ ویبنار کی نظامت میڈیا پرسنالٹی اور ترجمہ نگار عبید طاہر نے کی، جبکہ شرکا میں جامعہ ملیہ اسلامیہ میں عربی شعبے کے صدر اور صدارتی ایوارڈ یافتہ پروفیسر عبدالماجد القاضی اور شعبے کے سابق سربراہ پروفیسر حبیب اللہ خان، علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبۂ عربی کے پروفیسر صدارتی تمغے سے سرفراز ثناء اللہ ندوی اور جے این یو میں اسلامی اور افریقی اسٹڈیز سینٹر کے سابق سربراہ اور صدارتی ایوارڈ کے حامل پروفیسر مجیب الرحمن شامل تھے۔
پروفیسر حبیب اللہ خان نے ہندوستان میں تراجم کے سلسلے میں اداروں اور افراد کی خدمات کا جائزہ لیا اور بتایا کہ اٹھارہ ہزار سے زیادہ کتابیں اداروں کی سطح پر عربی سے ترجمہ کی گئی ہیں جبکہ شخصی خدمات کا اندازہ لگانا ممکن ہی نہیں ہے۔ پروفیسر مجیب الرحمن نے اپنی ریسرچ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ 90فیصد تراجم عربی سے اردو میں کیے گئے ہیں جبکہ صرف 10فیصد اردو سے عربی میں کیے گئے ہیں، انہوں نے اس کے اسباب اور تدارک کے ذرائع پر بھی روشنی ڈالی۔
ویبنار کے تیسرے موضوع یعنی ترجمے کے میدان میں ذاتی تجربات کو پروفیسر ثنااللہ ندوی نے موضوع گفتگو بناتے ہوئے کہا کہ مترجم کے لیے ضروری ہے کہ وہ دونوں زبانوں پر مہارت کے ساتھ ساتھ اصل متن کے موضوع سے بھی واقفیت رکھتا ہو۔ مثال کے طور پر اگر فن معماری کی کتاب ہے تو اس فن کی اصطلاحوں اور ناموں کے متعلق اس کو پوری معلومات ہوں اور اسی طرح دیگر علوم و فنون۔ ویبنار کے آخری مقرر پروفیسر عبدالماجد قاضی نے درست ترجمے کی راہ میں حائل رکاوٹوں کا علمی اور تحقیقی جائزہ لیا اور بالخصوص شعری ترجمہ کرتے ہوئے ممکنہ پریشانیوں کی وضاحت کی اور مثالوں کے ذریعے واضح کیا کہ ایک لفظ کے ادھر اُدھر ہونے سے کس طرح اصل متن کی روح ختم ہوسکتی ہے۔ ویبنار کے آخر میں ایوارڈ کمیٹی کی میڈیا ایڈوائزر ڈاکٹر حنان الفیاض نے مقررین کی وقیع گفتگو پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ایوارڈ کے وژن، مقاصد، شرائط اور اس کی مالیت اور تقسیم کے طریقہ کار پر روشنی ڈالی، جس کے بعد ویبنار کے ناظم اور ہندوپاک کے لیے میڈیا کمیٹی کے کوارڈینیٹر عبید طاہر نے شرکا اور آن لائن دیکھنے والے تقریباً چار ہزار ناظرین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے دو گھنٹے سے زیادہ جاری رہنے والے وقیع اور علمی مذاکرے کے اختتام کا اعلان کیا۔ انہوںنے بتایا کہ ایوارڈ میں شرکت اور تفصیلات کے لیے ویب سائٹ www.hta.wa پر رابطہ کرسکتے ہیں۔