شہریوں کا قتل عام اور اسرائیل کی توسیع پسندانہ جارحیت انسانیت پر بدنما داغ،ملی تنظیموں کامشترکہ اعلامیہ

نئی دہلی:ملی تنظیموں نے مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی ہے۔کل دارالعلوم دیوبندنے اپنااکیلابیان جاری کیاتھاجس کے بعدسوشل میڈیاپرتنقیدہوئی تھی کہ اس طرح تنہابیان جاری کرنے کے بجائے مشترکہ بیان جاری کیاجاتاتوکچھ مفیدتھا۔جب کہ صرف لیٹرپیڈکھیلنے سے کچھ نہیں ہونے والاہے کیوں کہ یہ لیڈران سعودی عرب کے خلاف کھل کربولنانہیں چاہتے۔اس بیان پرمولانا خالد سیف اللہ رحمانی،کارگزار جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ،مولانا محمود اسعد مدنی: جنرل سکریٹری جمیعت العلماء ہند، سید سعادت اللہ حسینی: امیر جماعت اسلامی ہند،مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی: ڈائریکٹر امام ولی اللہ انسٹی ٹیوٹ دہلی،مولانامحمد سفیان قاسمی: مہتمم دارالعلوم (وقف) دیوبند اورڈاکٹر منظور عالم: جنرل سکریٹری آل انڈیا ملی کونسل کے دستخط ہیں۔بیان میں کہاگیاہے کہ ہم فلسطینی شہریوں پر اسرائیل کی جارحیت اور وحشیانہ مظالم کی سختی سے مذمت کرتے ہیں۔یہ پرتشدد کاروائیاں اب اسرائیل کا سالانہ معمول بن چکی ہیں۔ مسجد اقصی اور پورے یروشلم کے تعلق سے اسرائیل کی نیت اسی دن سے خراب ہے جس دن سے وہ سرزمین فلسطین پر قابض ہوا ہے۔وہ غرب اردن کے وسیع علاقے پر قبضہ کرکے اسے اپنے اندر ضم کرنا چاہتا ہے اور مشرقی القدس (یروشلم) کے تاریخی کردار، جغرافیہ اور ڈیموگرافی کو بدل کر اس پر مکمل قبضے کے لئے سرگرم ہے۔ موجودہ تصادم اور یروشلم میں فلسطینیوں کے احتجاج کا سبب بھی اسرائیل کی جارح توسیع پسندانہ کاروائی ہے۔ بد امنی کی چنگاری اس وقت بھڑکی جب اسرائیلی حکومت نے، تمام عالمی قوانین اور معاہدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے،مسجد اقصی کے ہم سایہ قدیم فلسطینیوں کو ان کے آبائی علاقوں، شیخ جراح وغیرہ سے بے دخل کرنے کی مہم شروع کی۔اسرائیل یکے بعد دیگرے فلسطینی علاقوں پر قبضہ کرکے، ان کے گھروں اور زمینوں پر ناجائز تسلط کرکے، اور فلسطینیوں کو بے گھر کرکے یہاں بازآبادکاروں کی نئی کالونیاں بسارہا ہے۔صیہونی حکومت کے ان غاصبانہ عزائم اور اس کی بربریت کے خلاف فلسطینیوں نے اس وقت کاروائی کی، جب اس نے یروشلم کے قدیم فلسطینی شہریوں کووہاں سے جبرا ًنکالنے اور ان پر مظالم کا نیا سلسلہ شروع کیا۔فلسطینیوں کے بیشتر احتجاجات اور ان کے انتفاضات کا سبب مسئلہ فلسطین کا یہی پہلو ہے۔ غزہ پر اس کے حملوں، فلسطینی شہریوں پر اس کے روز مرہ کے مظالم اور مشرق وسطی میں اس کی خفیہ اورعلانیہ سفارتی سرگرمو ں کا یہی واحد مقصدہے۔ اسرائیل اقوام متحدہ کے متعدد فیصلوں کی اور انسانی حقوق کے مسلمہ چارٹ کی عدول حکمی کا مرتکب ہوتا رہا ہے اور دوطرفہ معاہدوں میں بھی وہ خود جس بات کو قبول کرتاہے،بعد میں اس سے مکر جاتا ہے۔مقامی سیاسی مفادات کے تحت وہاں کے سیاست دان اور حکمران اپنی جارحیت وقتا فوقتاً تیز کردیتے ہیں۔اسرائیل کی ان سب زیادتیوں کی طویل تاریخ رہی ہے۔مسجد اقصی ساری دنیا کے مسلمانوں کے لیے مقدس جگہ ہے اور اس کے ساتھ ان کے مذہبی جذبات وابستہ ہیں۔ شہر القدس (یروشلم) دنیا کے تین مذاہب کے لئے اہمیت کا حامل ہے۔ اس لیے اس مقام کی ڈیموگرافی اور اس کی حیثیت کو تبدیل کرنے کا کوئی اختیار اسرائیل کو حاصل نہیں ہے۔ اسرائیل کی کاروائیاں صریحاً غیر قانونی، تمام عالمی معاہدوں کے خلاف اور سارے عالم انسانیت کے خلاف جنگ کے مترادف ہیں۔ان مذموم کاروائیوں کو دنیا سے چھپایا جارہا ہے اور فلسطینیوں کی مزاحمتی کاروائیوں کی یک طرفہ طور پر تشہیر کی کوشش کی جارہی ہے۔ دنیا کو حقائق سے بے خبر رکھنے کے لئے جس طرح صحافیوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے اور ان کے دفاتر کو مسمار کیا جارہا ہے، یہ ساری آزاد دنیا کے لئے سنگین چیلنج ہے۔ ہمارے ملک کی موقر صحافتی تنظیموں، ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا، پریس کونسل آف انڈیا وغیرہ نے اس کی جس طرح مذمت کی ہے ہم ان کی تائید کرتے ہیں اور پوری دنیا کے صحافیوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس بربریت کے خلاف یک زبان ہوکر آواز اٹھائیں۔اس مسئلے کا فوری حل یہی ہے کہ القدس اور دیگر مسلمہ فلسطینی علاقوں سے اسرائیلی قبضے کو فوری ختم کرایا جائے اور اسرائیل کو اپنے تمام ظالمانہ و غاصبانہ ارادوں اور کاروائیوں سے رکنے کے لئے مجبور کیا جائے۔ ہم عرب اور مسلم ملکوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ متحد ہوکرفلسطین اور مسجد اقصی کے تحفظ کے لیے آگے آئیں اور سرگرم سفارتی کردار ادا کرکے اسرائیل کو ان مظالم سے باز آنے کے لئے مجبور کریں۔ ہم دنیا کے تمام انصاف پسند ملکوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس صریح جارحیت کے خلاف صرف مذمتی بیانات پر اکتفا نہ کریں بلکہ وہ سب اقدامات کریں جن کا، انسانیت دشمن اور قانون شکن ملکوں کے خلاف، اقوام متحدہ کا چارٹر حق دیتا ہے۔ اسرائیل پر دباو ڈالیں۔ اس کے خلاف سخت معاشی و سفارتی پابندیاں عائد کریں۔ صہیونی حکمرانوں اور فوجیوں نے غزہ اور دیگر فلسطینی علاقوں میں جن جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے، اس پر عالمی عدالت میں فرد جرم عائد کریں اور جنگی جرائم کے کٹہرے میں انہیں کھڑا کریں۔حکومت ہند ہمیشہ استعماری طاقتوں کے توسیع پسندانہ عزائم کے خلاف رہی ہے اور اس پالیسی کے تحت اس نے ہمیشہ فلسطین کی تحریک آزادی اور مظلوم فلسطینیوں کے حقوق کی حمایت کی ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ملک عزیز ہندوستان کے مندوب، جناب ٹی ایس ترومورتی کے اس اعلان کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں کہ ہندوستان فلسطین کے منصفانہ کاز کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔ ہم اپنی حکومت سے اس بات کی بجا طور پر توقع رکھتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ اس تاریخی اعلان کی پاسداری میں، وہ فلسطین پر اسرائیل کے ظلم کو ختم کرنے کے لئے کلیدی اور موثر رول ادا کرے۔