شہریت ترمیمی قانون:سپریم کورٹ کا روک لگانے سے انکار،مرکزکونوٹس،اگلی سماعت22جنوری کو

 

نئی دہلی:شہریت ترمیمی قانون کو چیلنج کرنے والے پیٹیشنزکی پہلی سماعت کے بعد سپریم کورٹ نے قانون پر روک لگانے سے انکار کردیاہے البتہ مرکزی حکومت سے کہاہے کہ اس پر غورکرے کہ کیاشہریت ترمیمی قانون دستور کی مخالفت کرتا ہے؟اس معاملے کی اگلی سماعت22جنوری کوہوگی۔اس سماعت میں پیٹیشنرزکی جانب سے سینئر وکیل کپل سبل نے نمایندگی کی،انہوں نے کہاکہ اس قانون کو نافذنہیں کیاجانا چاہیے کیوں کہ اس میں کئی قانونی خامیاں ہیں،جبکہ اٹارنی جنرل کے کے وینوگوپال نے روک لگائے جانے کی مخالفت کی۔قابل ذکرہے کہ پارلیمنٹ سے شہریت ترمیمی بل پاس کیے جانے کے بعد اب تک اس کے خلاف سپریم کورٹ میں تقریباً 60پٹیشنز دائر کیے گئے ہیں۔اس قانون کے مطابق بنگلہ دیش،پاکستان اور افغانستان سے31دسمبر2014سے پہلے ہجرت کرکے آنے والے چھ مذہبی طبقات (ہندو، سکھ، بودھ، عیسائی،پارسی اور جین)کو ہندوستانی شہریت دیے جانے کی تجویز ہے جبکہ ان میں مسلم مہاجرین اور پناہ گزینوں کوشامل نہیں کیاگیاہے۔اپنی نوعیت کا یہ پہلا نہایت متنازع قانون ہے جس کی وجہ سے پورے ملک میں احتجاج کا طوفان برپاہے اور ہر طبقے کے لوگ اس قانون کے خلاف سڑکوں پر آگئے ہیں۔اس کے خلاف کئی پیٹیشنز متعددممبران پارلیمنٹ کی طرف سے بھی داخل کیے گئے تھے۔سب سے پہلے انڈین یونین مسلم لیگ کے چار ممبران پارلیمنٹ نے اس کے خلاف سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایاتھا،ان کے علاوہ کانگریس کے جے رام رمیش،آرجے ڈی کے منوج جھا،اے آئی یوڈی ایف کے مولانا بدرالدین اجمل اور جمعیت علمائے ہند وغیرہ کی طرف سے بھی اس قانون کے خلاف پٹیشن دائر کیاگیا تھا۔ان تمام پٹیشنز میں اسی بات کوبنیاد بنایاگیا تھاکہ یہ قانون مذہب کی بنیاد پرلوگوں کے درمیان تفریق کرتاہے اور ہندوستان جیسے سیکولر ملک میں مذہب کی بنیاد پر شہریت دینے کا جواز نہیں ہے۔