شہریت ترمیمی قانون ملک کے لیے کتناخطرناک ہے؟

 

ڈاکٹر فاروق اعظم قاسمی/دہلی

 

انگریزوں نے ہندوستان اور ہندوستانیوں کو لوٹنے کی نیت سے بہت سے کارنامے انجام دیے اور یہاں کی جتنی دولت سمیٹ سکتے تھےسمیٹی لیکن ان کے ان ہی کارناموں کی وجہ سے آزاد ہندوستان کے لیے ترقیوں کے بہت سے دروازے بھی کھلتے ہیں۔ دوسری طرف آج اپنے ہی دیش چلانے والوں نے اپنے ہی کچھ دیش واسیوں کو نیچے دکھانے یا انھیں نقصان پہنچانے کی نیت سے ایک ایسا کالا قانون پاس کیا ہے جو اوپر اوپر تو مسلمانوں کے خلاف لگ رہا اور یقینا ہے بھی لیکن:

لگے گی آگ تو آئیں گے گھر کئی زد میں

یہاں پہ صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے

لیکن جب گہرائی سے آپ اس قانون کا مطالعہ کریں گے تو دیش کے لیے کئی سنکٹ کھڑے دکھائی دیں گے جبکہ ان سنکٹوں سے دیش پہلے ہی سے جوجھ رہا ہے۔مثلا روزگار، معیشت اور بڑھتی ہوئی آبادی۔یہ انتہائی بنیادی مسائل ہیں۔

گزشتہ چھ برسوں سے روزگار کی کیا صورت حال ہے۔بس سمجھیے کہ حسب وعدہ سالانہ

دو کروڑ روزگار مہیا کرانے کے بجائے اس حکومت نے چھ برسوں میں نوے لاکھ برسر روزگار کو بے روزگار کردیا۔

اور معیشت پر تو ازخود اس نادان اور نااہل حکومت نے شب خوں مارا ہے وہ بھی ہمارے سامنے ہے۔نوٹ بندی سے عوام کو تڑپانے،بےموت مارنے،چھوٹے کاروباریوں کو پھانسی دینے اور BJP کے خزانے کو بھرنے کے علاوہ کیا ہوا؟ کالا دھن واپس آیا؟

جی ایس ٹی نے دیش کو فائدہ پہنچایا؟اگر پہنچایا تو دیش کا خزانہ خالی کیوں ہے؟

اور بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر کیا کیا دشواریاں ہندوستان کے سامنے ہیں اور کتنے مسائل آنکھ پھاڑے کھڑے ہیں؟ہر ان پڑھ اور پڑھا لکھا ان سے اچھی طرح واقف ہے۔کیا ہمارے اسکول،ہمارے ہسپتال،ذرائع حمل و نقل اور آبی ذخیرہ موجودہ آبادی کے لیے کافی ہیں؟؟ہماری عوام بھوک سے مر رہی ہے کہ نہیں،گندے نالے کا پانی پینے پر مجبور ہیں کہ نہیں،کیا ہمارے اسکولوں میں ناقابل یقین حد تک ٹیچروں کی کمی نہیں ہے؟کیا ہمارے ہسپتالوں میں برسرخدمت ڈاکٹرز اور مہیا سہولیات کافی ہیں؟

کیا ہم بسوں اور ٹرینوں میں بھیڑ بکریوں کی طرح سفر نہیں کر رہے؟

یہ وہ بنیادی اور حقیقی سوالات ہیں جن سے چشم پوشی نہیں کی جا سکتی۔اگر حکومت اس پیارے وطن کو مزید آگ میں جھونکنا چاہتی اور دیش واسی اسے بھگتنے کے لیے تیار ہیں تو ٹھیک ہے لیکن یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ:

نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤگے اے ہندوستاں والو!

تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*