شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج کومولاناولی رحمانی کی حمایت 

 

پٹنہ:امیر شریعت مولانا محمد ولی رحمانی نے اپنی صحافتی ملاقات میں کہاہے کہ مرکزی حکومت نے اپنی فرقہ وارانہ پالیسی کی تحت سیٹیزن شپ امیڈمنٹ ایکٹ بنایا ہے اوراین آر سی کونافذ کرکے مسلمانوں کو پریشان کیا جائے گا،انہوں نے یہ بھی کہا کہ مہینوں پہلے جب میں نے این آر سی کے نافذ ہونے کی بات کہی تھی تو دانشوروں اورذمہ دار شخصیتوں نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا تھاکہ اس طرح مسلمانوں کو ڈرایا جارہا ہے،بہت سارے تبصرے کیے گئے مگر اب صورتحال واضح ہوچکی ہے۔امیرشریعت مولانا محمد ولی رحمانی نے یہ بھی کہا ہے کہ 19 اور 21دسمبرکو کئی سیاسی پارٹیوں،سماجی تنظیموں اور بہت سی انجمنوں کی طرف سے ملک گیرپیمانے پر مظاہرہ ہونے والا ہے،بہت بڑی تعداد میں پرامن طریقے سے ان مظاہروں میں شرکت کرنی چاہیے اور این آر سی اور غیرآئینی قانون کے خلاف پرامن مظاہرے کا حصہ بننا چاہیے۔بعض صوبوں میں علیحدہ علیحدہ مظاہروں کا پروگرام بنایاگیاہے۔خیال رہے کہ احتجاج امن کے ساتھ ہو، کوشش کرنی چاہیے کہ اس طرح کا اقدام متحدہ ہو اور ان کو کامیاب بنانے کی بھرپور کوشش کرنی چاہیے۔اس طرح انھوں نے راجدکے بہاربندکوبھی کامیاب بنانے کی اپیل کی ہے ۔امیرشریعت مولانا رحمانی نے کہاہے کہ اب لانبی اور مسلسل جدو جہد کا وقت ہے۔ پوری امت کو اپنی صلاحیت کے مطابق حالات کا مقابلہ کرنا ہے۔پوری امت کو اخلاص وللہیت کےساتھ مسلسل کوشش،حوصلہ،ہمت،سمجھداری سے کام لینا ہے۔اپنے وطنی بھائیوں کےساتھ مل کر اس غیرجمہوری،غیرآئینی قانون کے خلاف باحوصلہ تدبیریں کرنی ہیں، یہ لڑائی بھارت کے آئین اور جمہوریت کو بچانے کے لیے اور ملک کو مضبوط کرنے کے لیے لڑنی ہے،راجیہ سبھا میں جن پارٹیوں نے اس وحشی،غیرآئینی بل کی مخالفت کی تھی اور پارلیمنٹ سے باہر جن شخصیتوں نے مخالفت میں آواز بلند کی اور کررہے ہیں ان کا ساتھ دینا ہے اوران کوساتھ لینا ہے،امیرشریعت مولانا محمد ولی رحمانی نے کہا کہ یہ ہندو مسلم مسئلہ نہیں ہے اگر ایسا ہوتا تو آسام میں غیرمعمولی مظاہرے نہیں ہورہے ہوتے اور ممتابنرجی سمیت پانچ صوبوں کے چیف منسٹر نے ان کے خلاف رائے ظاہر نہیں کی ہوتی اور اس قانون اوراین آر سی کے خلاف آواز نہ بلند کی ہوتی۔