شہریت ترمیمی بل: دستور سے کھلواڑ

 

معصوم مرادآبادی

ہندوستان کے سیکولرجمہوری آئین پر ایک ایسا خطرناک ہتھوڑا چلنے والا ہے جس کی زد میں آنے والی ہر چیز ٹوٹ پھوٹ کر رہ جائے گی ۔حکومت شہری قانون میں ایک ایسی تباہ کن ترمیم کرنے جارہی ہے جو مذہبی تعصب اور مسلم دشمنی کی بدترین مثال ہے۔عام خیال یہ ہے کہ مجوزہ شہریت ترمیمی بل مسلمانوں کو حاشیہ پر پہنچانے کے لئے لایا گیا ہے لیکن حقیقت میں اس قانو ن کی ضرب مسلمانوں سے زیادہ اس ملک کے سیکولر جمہوری آئین پر پڑے گی جو یہاں کہ ہر شہری کو یکساں حقوق فراہم کرتا ہے اور ان کے ساتھ مذہب و ملت اور رنگ ونسل کے نام پر کسی بھی قسم کی تفریق گوارا نہیں کرتا ۔در حقیقت ہندوستان کے سیکولر جمہوری آئین کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس ملک کے تمام باشندوں کو ایک خوبصورت لڑی میں پرو رکھا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ فرقہ پرست اور فسطائی طاقتوں کی تمام ریشہ دوانیوں کے با وجود ہندوستان متحد ہے اور یہاں کے باشندے سکون کی زندگی بسر کررہے ہیں ۔لیکن اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ سکون وقرار زیادہ دنوں کا مہمان نہیں ہے کیونکہ ملک میں ایک ایسی خطرناک وبا پھیلنے والی ہے جو ہنستے مسکراتے چہروں کوحواس باختہ کردے گی ۔اس بات کا تو سبھی کو اندازہ تھا کہ یہ حکومت اقتدار پر اپنی گرفت مضبو ط کرنے کے بعد سب سے پہلے ملک کے آئین کی سیکولر بنیادوں سے چھیڑ چھاڑ کرے گی تاکہ یہاں ہندو راشٹر بنانے کا خواب پورا ہوسکے ۔لیکن اس بات کا کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ یہ کام اتنی جلدی شروع ہوجائے گا اور حکومت کا رخ مکمل طور پر ہندتو کے ایجنڈے کی طرف مڑ جائے گا ۔

مرکزی کابینہ نے گذشتہ بدھ کو شہریت ترمیمی بل کا جو مسودہ منظور کیا ہے اور جو پارلیمنٹ کے رواں اجلاس میں پیش کیا جانے والا ہے‘ اس کی رو سے افغانستان،بنگلہ دیش اور پاکستان کے غیر مسلموں (ہندو ،سکھ ،جین ،بودھ ،پارسی اور عیسائی)کو ہندوستانی شہریت ملنے کی راہ بہت آسان ہوجائے گی ‘ جبکہ پڑوسی ملکوں میں رہنے والے کسی بھی مسلمان کے لئے ہندوستانی شہریت حاصل کرنا جوئے شیر لانے سے کم نہیں ہوگا ۔یہی وجہ ہے کہ اس بل کو اپوزیشن جماعتوں نے ہندوستانی آئین کی بنیادی رو ح پر سب سے بڑا حملہ قرار دیا ہے اور اسے دستور میں کی جانے والی سب سے تباہ کن ترمیم سے تعبیر کیا جارہا ہے ۔حال ہی میں بی جے پی سے علیحدہ ہونے والی شیو سینا نے بھی اس بل کی مخالفت کااعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ہم اس بل کی مخالفت کریں گے ۔ہندوستان سے در اندازوں کو نکالنا تو ٹھیک ہے لیکن ہم مذہب کی بنیاد پر شہریت دینے کے خلاف ہیں۔‘‘دوسری طرف سی پی ایم کے سرکردہ لیڈر سیتا رام یچوری نے بل کو غیر دستوری قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مذہبی بنیاد پر لوگوں کو شہریت نہیں دی جا سکتی ۔لیکن بی جے پی ممبر پارلیمنٹ روی کشن کا کہنا ہے کہ ’’ہندوستان میں ہندوئوں کی آبادی 100کروڑر ہے‘ ایسے میں ہندوستان ایک ہندو راشٹر ہے ۔‘‘

قابل ذکر بات یہ ہے کہ مودی سرکار ایک طرف تو پڑوسی ممالک سے ہندوستان آنے والے غیر مسلموں کو طشتری میں سجا کر ہندوستانی شہریت پیش کررہی ہے جبکہ دوسری طرف پڑوسی ملکوں میں ظلم و بربریت کا شکار ہوکر ہندوستان آنے والے مسلمانوں کو دہشت گرد قرار دے کر سرحد پار دھکیلا جارہا ہے ۔اس کی ایک مثال پڑوسی ملک میانمارسے ہندوستان آنے والے ستم رسیدہ روہنگیا مسلمان ہیں۔جنہیں ملک بدر کرنے کے لئے حکومت یہ تاویل پیش کر تی رہی ہے کہ یہ لوگ ملک کی سلامتی کے لئے خطرہ ہیں ۔روہنگیا مسلمانوں کو ہندوستانی شہریت دینا تو دور کی بات ہے انہیں بطور پنا ہ گزین ہندوستان میں رہنے کی اجازت بھی نہیں دی جارہی ہے ۔یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ پاکستان ،بنگلہ دیش اور افغانستان سے جو غیر مسلم ہندوستان میں داخل ہوں گے ان کے ہندوستان کا دوست ہونے کی کیا ضمانت ہوگی ۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ مودی سرکار کا سب سے بڑا مشن اس ملک کے مسلمانوں کودیوار سے لگانا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کی مذہبی پہچان مٹانے کے لئے ہر وہ کام کیا جارہا ہے جس کی ہمارا دستور نفی کرتا ہے ۔تین طلاق کے خلاف ظالمانہ قانون کی منظوری کا معاملہ ہو یا پھر دفعہ 370کو ختم کرنے کی بات۔مسلمان ابھی با بری مسجد کی اراضی رام مندر کی تعمیر کے لئے دیئے جانے کا زخم بھولے بھی نہیں تھے کہ شہریت ترمیمی بل کی صورت میں ان پر ایک نئی تلوار لٹکا دی گئی ہے ۔بار بار یہی کہا جارہا ہے کہ کسی بھی گھس پیٹھئے کو ملک میں نہیں رہنے دیا جائے گا اور انہیں چن چن کر ملک بدر کیا جائے گا لیکن اسی سانس میں یہ بھی کہا جارہا ہے کہ پڑوسی ممالک سے آنے والے غیر مسلم ہمارے بھائی ہیں اور وہ ستائے ہوئے پناہ گزین ہیں لہٰذا انہیں کسی بنیادی دستاویز کے بغیر بھی شہریت دی جائے گی لیکن اگر کسی مسلمان کو پڑوسی ملک میں ستایا جارہا ہوگا اور وہ ہندوستان میں پناہ حاصل کرنے یا یہاں کی شہریت حاصل کرنے کا طلب گار ہوگا تو اسے اس کی ہر گز اجازت نہیں ملے گی ۔

یہ بات سبھی کو معلوم ہے کہ ہندوستان کا آئین شہریت کے معاملے میں کسی بھی شخص کے ساتھ بھید بھائو نہیں کرتا ۔وہ ہر شہری کو خواہ اس کا مذہب کچھ بھی ہو ایک ہی نگاہ سے دیکھتا ہے اور اسے یکساں حقوق فراہم کرتا ہے ۔دستور کی دفعہ 14میں اس کی مکمل ضمانت دی گئی ہے لیکن موجودہ حکومت آئین میں پہلی بار ایک ایسی ترمیم کا دروازہ کھول رہی جس کی بنیاد صرف اور صرف مذہب ہے ۔یعنی یہ ترمیم خاص مذہب کے ماننے والوں کو دستوری تحفظ فراہم کرتی ہے جبکہ دوسرے مذہب کے پیروکاروں کو اس قسم کا تحفظ دینے سے انکار کرتی ہے ۔اگر واقعی مودی سرکار شہریت ترمیمی بل کو پارلیمنٹ سے منظور کرانے میں کامیاب ہوگئی تو یہ ہمارے دستور پر اتنا بڑا ظلم ہوگا جس کی مثال آزاد ہندوستان کی تاریخ میں نہیں ملے گی ۔اس ترمیم کے وجود میں آتے ہی ہندوستان اسرائیل کی صف میںکھڑا ہوجائے گاجہاں کی نسل پرست حکومت صرف یہودیوں کو شہریت عطا کرتی ہے۔شہریت ترمیمی بل کا بنیادی مقصد این آر سی کے شکنجے میں پھنسی ہوئی بی جے پی کی گردن کو باہر نکالنا ہے ۔جس کا اشارہ کانگریس ممبر پارلیمنٹ گورو گگوئی نے کیا ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ’’ این آر سی کے حتمی ڈرافٹ میں جو 19لاکھ لوگ باہر ہوگئے ہیں ان میں سے بیشتر ہندوستانی ہیں۔اب حکومت شہریت ترمیمی بل کے ذریعہ غیر دستوری طریقے سے غیر مسلموں کو شہری بنا نا چاہتی ہے ۔‘‘

واضح رہے کہ بی جے پی نے آسام میں بنگلہ دیشی مسلم دراندازوں کا مسئلہ بڑے زور شور سے اٹھایا تھا لیکن جب سپریم کورٹ نے اپنی نگرانی میں این آرسی نافذ کیا تو اس کے حتمی نتائج سے بی جے پی کے ہوش اڑ گئے ۔این آر سی کے حتمی ڈرافٹ میں جن 19لاکھ با شندوں کو غیر قانونی قرار دیا گیا ہے‘ ان میں اکثریت ہندوئوں کی ہے۔بی جے پی اس صورت حال سے اس حد تک پریشان ہے کہ وہ سپریم کورٹ سے این آرسی کے حتمی ڈرافٹ کو رد کرنے کا مطالبہ کررہی ہے ۔بی جے پی نے این آر سی کا توڑ کرنے کے لئے ہی شہریت ترمیمی بل پیش کیا ہے تاکہ غیر قانونی باشندوں کی فہرست میں صرف اور صرف مسلمانوں کے نام ہی درج ہوں اور باقی باشندے جائز اور قانونی شہری قرار دے دیئے جائیں ۔یہ سراسر فرقہ وارانہ اور مسلم دشمن سوچ ہے جس کے لئے حکمراں جماعت پوری دنیا میں بدنام ہے ۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ بی جے پی سرکار نے اپنے پچھلے دور اقتدار میں جب یہ بل پارلیمنٹ میں پیش کیا تھا تو اس کی سب سے زیادہ مخالفت شمال مشرقی ریاستوں کے با شندوں نے کی تھی اور اسے پوری طرح مسترد کردیا تھا ۔لہٰذا اب شہریت ترمیمی بل کا جو نیا مسودہ پیش کیا جارہا ہے‘ اس میں اس قانون سے شمال مشرقی ریاستوں کو مستثنیٰ قرار دے دیا گیا ہے ۔شمال مشرقی صوبوں کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش سے بڑی تعداد میں آئے ہندوئوں کو شہریت دینے سے اصل باشندوں کی حق تلفی ہوگی ۔لہٰذا حکومت نے شمال مشرقی ریاستوں کے احتجاج سے خوف زدہ ہو کر اس قانون سے انہیں علیحدہ کردیا ہے۔حال ہی میں وزیر داخلہ نے شمال مشرقی ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ ‘ وزرائے داخلہ‘ سیاسی لیڈروں اور مختلف گروپوں کے ذمہ داروں کو شہریت ترمیمی بل پر حمایت حاصل کرنے کے لئے نئی دہلی میں طلب کیا تھا ۔لیکن وزیر داخلہ اپنا مقصد حاصل کرنے میں بری طرح ناکام رہے چونکہ سبھی نے ان کی تجویز کو مسترد کردیا۔بیشتر اپوزیشن جماعتوں نے شہریت ترمیمی بل کے مسودے کو یہ کہتے ہوئے مسترد کردیا ہے کہ یہ دستور کے خلاف ہے اور اس میں مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ یہ قانون دستور کی دفعہ 14کی واضح خلاف ورزی ہے جو برابری کے حق کی بات کرتی ہے۔اس قانون میں سری لنکا اور نیپال جیسے پڑوسی ملکوں کے مسلمانوں کو بھی شامل کیا جانا چاہئے چونکہ بنگلہ دیش پاکستان اور افغانستان سے آنے والے غیر مسلموں کو شہریت دینے کی جو بنیاد تسلیم کی گئی ہے‘ اس کے دائرے میں سری لنکا اور نیپال کے مسلمان بھی آتے ہیں جو وہاں اقلیت میں ہیں۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*