Home نقدوتبصرہ شہناز شورو کا افسانوی استفہامیہ- حقانی القاسمی

شہناز شورو کا افسانوی استفہامیہ- حقانی القاسمی

by قندیل

ہر کہانی زندہ نہیں رہتی اور نہ ہر افسانہ ذہن میں نقش کاالحجر ہوتا ہے ۔ کرۂ ارض میں کروڑوں کہانیاں لکھی جاچکی ہیں مگر ماورائے زمان ومکاں چنندہ کہانیوں کو ہی حیات دوام نصیب ہوئی ہے۔جن کہانیوں میں حیات بخش عناصر اور آفاقی افکار واقدار نہیں ہوتے وہ ایک مدت کے بعد دم توڑ دیتی ہیں۔جو کہانیاں لازمانیت سے جنم لیتی ہیں انھیں کہانیوں کو زندگی ملتی ہے۔ کچھ پرانی کہانیوں کو یاد کیجئے تو محسوس ہوگا کہ بہت سی کہانیوں کے الفاظ و کردار دونوں مر چکے ہیں اور اُن کہانیوں کی معنویت بھی معدوم ہوچکی ہے اور یوں بھی عہد کے اعتبار سے افسانوں کے فنی تلازمات اور فکری مطالبات بدلتے رہے ہیں۔ ہر نیا عہد نیا کردار مانگتا ہے اور نیا طرز احساس و اظہار بھی۔

نئے طور و طرز کو جن فنکاروں نے اپنی تخلیقیت کا حصہ بنایا ہے ۔ان میں ایک اہم نام شہناز شورو کا ہے۔ جن کے تخلیقی وجود کا ایک روشن حوالہ افسانہ ہے اورافسانہ نگاروں کے انبوہ میں ان کا انفراد و اختصاص یہ ہے کہ وہ اُن روایات و رسمیات سے ذرا منحرف ہیں جو ہمارے تخلیقی سماج میں بھی مروج ہیں۔ اُن کے افسانوں کی خاص بات یہ ہے کہ ان میں سوچ اور شبد کی ایک نئی دنیاآباد ہے۔ ان میں تحرک ، تلاطم اور تہیج ہے اور سابقہ ذہنی رویوں، تحفظات اور تعصبات میں محصور ذہنوں کو بدلنے کی پوری قوت بھی۔ افسانویت سے معمور ان کی بیانیہ ساخت میں اتنی استدلالی توانائی اور فکری تازگی ہے کہ تمام مخالف منطقیں منہدم ہوجاتی ہیں اور بیانیہ کا جادو سر چڑھ کر بولنے لگتا ہے۔ مکالموں میں بھی اتنی طاقت ہے کہ زنجیر میں جکڑے ہوئے زنگ آلود ذہن میں بھی تحرک اور طغیانی پیدا ہوجائے۔ ان کے افسانے مردہ ذہنی خلیوں میں بھی جان ڈال دیتے ہیں۔ یکساں واقعاتی ساخت میں بھی اُن کا بیانیہ دیگر بیانیوں سے مختلف ہوتا ہے۔

شہناز شورو کے افسانوں میں بے پناہ تقلیبی قوت ہے۔’ری ہیبیلیٹیشن سینٹر‘ کے ڈاکٹر سائمن کے بیان کی طرح کہ جس سے متاثر ہو کر اس افسانے کے کردار میسن کا سارا مریضانہ ذہنی رویہ تبدیل ہو جاتا ہے۔ میسن Mysogynist ہے اور اپنی ماں سے وہ شدید نفرت کرتا ہے۔اور ’شی شٹ دا ڈور ان مائی فیس‘ بار بار دہرا کر اپنی نفرت اور غصے کا اظہار کرتا ہے۔ وہ معالجوں کے سامنے بھی ’یو نو مائی مدر، یو نو مائی مدر، شی شٹ دا ڈور ان مائی فیس‘ دہرا تا رہتا ہے ۔سویٹ ہوم میںاس کی ماں ملنے آتی ہے مگر وہ ملنے سے انکار کر دیتا تھا ۔ اس کی جنونی کیفیت کا اعلاج ناممکن سا تھامگر مدرس ڈے کی مناسبت سے جب ڈاکٹر سائمن نے تقریر کی تو میسن کا رویہ بالکل بدل گیا۔ ڈاکٹر نے اپنی ماں کو یاد کرتے ہوئے جب اس کی غیر مشروط محبت کے حوالے دیے اور ماں سے جڑے ہوئے دل سوز واقعات بیان کیے تو میسن کی ذہنی کیفیت بالکل تبدیل ہو گئی اور وہ پوچھنے لگا کہ کیامیری ماں ملنے نہیں آئی اور پھر روز اپنی ماں سے متعلق پوچھنااس کا معمول بن گیا۔ اس کی نفرت محبت میں بدل گئی،اور اس نے اپنی ماں کو خط بھی لکھا۔مگر وہ خط جب پہنچا تو اس کی ماں کا انتقال ہو چکا تھا۔

شہناز شورو نے نہایت خوبصورتی سے اور بہت ہی مؤثر انداز میں ڈاکٹر سائمن کے اس بیان کو تحریر کیا ہے جس کا ایک ایک لفظ میسن کی روح میں اتر گیا۔

’’ڈاکٹر سائمن بولے، آج جب ہم سب ماؤں کو یاد کر رہے ہیں، ان کا ذکر کر رہے ہیں، میں اپنی ماں کو بہت مس کر رہا ہوں۔ بڑا عجیب لگتا ہے ماضی کو یاد کرنا یا ماضی میں رہنا مگر ماضی سے کٹ کر آپ بھلا کیسے جی سکتے ہیں۔ ماضی ہمارے صحیح الدماغ ہونے اور زندہ ہونے کی علامت ہے۔ تصور کریں کہ اگر اچانک ہم سے ہمارا ماضی چھین لیا جائے تو ہماری حیثیت تو بالکل ایک نوزائدہ بچے کی سی ہو جائے گی۔ اور اس عمر میں، اس ڈیل ڈول اور چہرے مہرے کے ساتھ، بغیر یادداشت کے ہمیں کیا لوگ نارمل لوگوں میں شمار کریں گے۔ اس لیے اپنے ماضی کو قبول کیجیے، اس سے محبت کیجیے یانہ کیجیے مگر اس سے سیکھئے۔ خواہ وہ اچھا ہے یا برا۔ وہ آپ کا ہے اور اس کے بغیر آپ ادھورے ہیں۔ اسی طرح آپ کی زندگی میں جو لوگ آ پ کو قدرت کی طرف سے ملے ان کی قدر کیجئے کہ ان کے بغیر آپ کی زندگی نہایت مشکل ہو سکتی تھی۔ بالخصوص ماں کی۔ جو آپ کی پہلی نرس، آپ کی پہلی پناہ گاہ، آپ کی پہلی دوست، استاد، سبھی کچھ ہوتی ہے۔ اس کی محبت غیر مشروط ہوتی ہے۔ وہ آپ کی طرف اٹھنے والی ہر غلط نگاہ کا سامنا کرتی ہے۔ وہ آپ کی ڈھال ہوتی ہے۔ اور تاعمر آپ کے لئے ایک سائبان بن کر رہتی ہے۔ آپ کو ایک بے بس گوشت کے لوتھڑے سے ایک صحت مند اور مضبوط انسان بناتی ہے۔ اور کیسا المیہ ہے کہ ہم میں سے کئی لوگ اس کی طرف سے بخشی ہوئی طاقت اور صلاحیت کو اسی کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔ اسی کو سکھانے اور پڑھانے لگ جاتے ہیں جس نے ہمیں بولنا اور اس دنیا میں اٹھنا بیٹھنا سکھایا ہوتا ہے۔ وہ جو خود بھوکی رہ کر ہمیں کھلاتی ہے ہم اس پر چار پیسے خرچ کرتے ہوئے ہچکچاتے ہیں۔ وہ جو ہماری بیماری میں پوری پوری رات جاگ کر ہماری تیمارداری کرتی ہے، اسے اس کی بیماری میں ہم تنہا چھوڑ دیتے ہیں۔ جس کے ساتھ ہمارا احساس ، محبت اور عقیدت کا رشتہ ہونا چاہیے، ہم اس سے اس کی قربانیوں اور مہربانیوں کا حساب مانگتے ہیں۔ میں کبھی کبھی سوچتا ہوں، جب ہم ایسے بے لوث اور عظیم رشتے کے منکر ہو سکتے ہیں تو پھر ہمارا کیا اعتبار۔‘‘

موضوعی بنت اوراظہاری ساخت کے اعتبار سے یہ بہت پر اثر افسانہ ہے جس میںایک ماں کی عظمت کے ساتھ ساتھ پدرسری سماج کی وحشیانہ ذہنیت کو بیان کیا گیا ہے کہ کس طرح اس کا باپ ماں پر حملہ آور ہوتا تھا، گالیاں دیتا تھا، برتن توڑتا تھا اور ماں لرزتے لفظوں سے التجا کرتی رہ جاتی تھی۔ماں کا وہ خوف زدہ چہرہ جب یاد آتا تو ڈاکٹر سائمن کی روح کانپ اٹھتی تھی۔ ڈاکٹر سائمن آخر تک یہ جان نہیںپایا کہ’ وہ آدمی کون تھا جس کی دہشت نے اس کا کومل بچپن اور ماں کا جو بن چاٹ لیا تھا۔‘

کہانی کار کا مشاہداتی اور تجرباتی دائرہ وسیع ہوتو کہانی ایک دائرہ سے نکل کرمختلف ثقافتی اور تہذیبی دائروں میں داخل ہوجاتی ہے اور اس طرح کہانی کار کا موضوعاتی کینوس وسیع سے وسیع تر ہوجاتا ہے۔ جس سماج سے شہناز شورو کا تعلق ہے اُن کے افسانوں میں صرف اپنا کلچرل اور سوشل لینڈ اسکیپ نہیں ہے بلکہ اجنبی، ثقافتی ، سماجی ساخت اور مظاہر سے بھی اُن کے افسانوں کا رشتہ ہے۔ ان کے افسانوں میں غیرمتجانس، متبائن، متغایر اور متنوع معاشرے کا عکس ملتا ہے۔’کارپوریٹ دنیا‘ ایک ایسا ہی افسانہ ہے جس میں انہوں نے جانسن جیسے کردار کے ذریعہ ایک ایسے سماج کی تصویر کشی کی ہے جہاں سرمایہ دار اور استعماری ذہنیت دوسری نسل کے ساتھ جارحانہ رویہ اختیار کرتی ہے اور اس کے لیے جواز بھی فراہم کرتی ہے۔ انھوںنے ایک ایسے کیپٹلسٹ معاشرے کی تصویر کشی کی ہے جہاں ہر شخص مشینی اور غیر جذباتی زندگی گزارتا ہے ، جہاں خود غرضی اور بے چینی معاشرے کا بنیادی جزو ہے، جہاں تعلقات صرف مفادات کے حصول کا ذریعہ ہے، جہاں دوسروں کی زمین اور دولت پر قبضہ کرنے کی ہوس ہے۔ جہاں سیولائزیشن کے نام پر استحصال ہوتا ہے۔استعماری اور سرمایہ دارانہ ذہنیت نسلی منافرت کو بڑھاوا دے کردوسری قوموں کی زمین ،آسمان اور سارا سرمایہ چھین لینا چاہتے ہیں۔ اس معاشرے کے انسانیت سوز کرائم کی کتنی پر اثر تصویر کھینچی ہے۔ استعماریت کا جارحانہ روپ پیش کیا ہے۔ جانسن نے شدت جذبات میں وہ سارے حقائق پیش کر دیے ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس طرح عالمی سطح پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی جاتی رہی ہے:

’’لوگ سمجھتے ہیں کہ سب سے زیادہ تعداد میں انسان نازی جرمنی کے ہاتھوں مارے گئے۔

ہمارے آبا و اجداد کا نہیں! زمین پر اتہاس کا سب سے بڑا قتل عام، یہاں امریکہ کی زمین پر ہوا۔ ہماری تاریخ پڑھو جو ہمارے بزرگوں نے انتہائی نا مساعد حالات کے باوجود رقم کی 100ملین نیٹوامریکنز کی گردنیں اڑائی گئیں۔ لوگ اپنے گھروں سے محروم ہوئے ان کے گھر تباہ کر دئے گئے۔ آج بھی سینکڑوں کی تعداد میں ہماری عورتیں مسنگ ہیں۔ ہزاروں بچوں کا کبھی کوئی سراغ نہ ملا۔ ان بد نصیبوں کا کوئی سراغ نہیں ملتا‘‘

یہ ایک پر درداذیت ناک داستان ہے جس سے بہت سی محکوم قوموں اور نسلوں کے سلسلے جڑے ہوئے ہیں۔اس نوع کی جارحیت صرف ایک زمین کے ساتھ جڑی ہوئی نہیں ہے بلکہ جارحیت کا یہ سلسلہ آج کے جمہوری عہد میں بھی جاری و ساری ہے کہ جہاں بغیر جرم کے بھی سزائوں کا دستور ہے۔ ایک خاص نسل یا قوم کو ٹارگیٹ کرنے کی روش عام ہے۔جانسن کا یہ بیان دیکھیے جس سے استعماری اور اقتداری طاقتوں کی زہریلی ذہنیت بے نقاب ہوتی ہے:

’’ہم بہت آسان ٹارگیٹ ہوتے ہیں۔ ہم پہ الزام لگانا نہایت آسان ہوتا ہے۔ کسی بھی قضیے، جھگڑے، بحثا بحثی، منہ ماری، منشیات فروشی یا دیگر چھوٹے بڑے کیس میں اگرنیٹیو امریکن انوا لوہے تو سوفیصد یقین رکھو کہ قصوروار وہی ٹھہرایا جائے گا۔ الزام لگانے والا جانتا ہے کہ کوئی بھی ہمیں ملزم نہیں بلکہ ہر ایک مجرم سمجھے گا حتی کہ یہاں کا قانون بھی۔ آج بھی ہزاروں کی تعداد میں افریقن امریکن یہاں کی جیلوں میں ٹھنسے ہوئے ہیں جو وکیلوں کی فیسیں ادا نہ کرسکنے کی وجہ سے مقدمہ نہیں لڑ سکتے۔‘‘

کارپوریٹ دنیا کا یہ بہت بھیانک سچ ہے جو اس افسانے کے ذریعے بیان کیا گیا ہے۔ افسانہ تہہ دار ہے ،کئی تناظر میں اس کی تفہیم کی جا سکتی ہے اورعصریت سے جوڑ کر اس کے بہت سے سیاسی معانی اور مفاہیم نکالے جا سکتے ہیں۔

عورت شہناز شورو کے افسانوں کا موضوعی مرکز ہے۔ ان کے بیشتر افسانے نسائی شناخت کے ارد گرد طواف کرتے ہیں۔ مگران کے یہ افسانے دیگر تانیثی مزاحمتی بیانیہ سے ذرا الگ ہیں کہ انھوں نے صرف نسائی وجود کی داخلی کیفیات اورکنہیات کی عکاسی نہیں کی ہے بلکہ ذکراساس سماج اور سیاست کے رویوں کو بے نقاب کرکے انھیں ملزموں کے کٹہرے میں بھی کھڑا کیاہے۔شہناز شورو نے Gender Sensivity Issues پر افسانے لکھے ہیں۔ عورت کی غربت، صحت، تعلیم، روزگار، سیاست ، آزادی ، خود مختاری اور اس سے جڑے ہوئے سارے مسائل اُن کے موضوعات میں شامل ہیں۔شہناز نے جس طور پر پدرسری سماجی ساخت کے خلاف احتجاج کیا ہے اس میں جو توانائی اور قوت ہے وہ بہت کم افسانہ نگاروں کے یہاں نظر آتی ہے۔ان کے افسانوں میں نئے عہد کی عورت کی سائیکی، اقداری تصادم، نفسیاتی کشمکش ، سماجی، سیاسی اور جذباتی رد عمل ملتا ہے ۔ در اصل آج کے عہد کی عورت تمام مذہبی سماجی زنجیروں کو توڑنے کی طاقت رکھتی ہے۔ اس لیے وہ ان تمام ممنوعہ موضوعات کو بھی دائرہ اظہا ر میں لاتی ہیں جن سے پدرسری معاشرہ کو خطرہ لاحق ہوتاہے۔ خاص طور پر وہ رجعت پسندانہ ممنوعات جن سے حقوق انسانی کی نفی ہوتی ہے اور جن سے نسائی حقوق اور ان کے اختیارات کو سلب کئے جانے کا ایک جبری سلسلہ جڑا ہوا ہے۔ شہناز شورو کے ایک افسانہ کا یہ اقتباس دیکھیے:

’’کیسا لگا تمہیں ڈپارٹمنٹ؟

ٹھیک ہے۔۔۔۔ تھوڑا چیلنجنگ یوں ہے کہ ان موضوعات پہ ہم اپنے معاشرے میں بات نہیں کر سکتے کیوں کہ یہ ٹاپکس ٹابوز میں شمار کئے جاتے ہیں مگر یہاں ان پر اس قدر ریسرچ ہو چکی ہے کہ یہ عام سے موضوعات بن گئے ہیں۔

ارے نہیں۔۔۔ یہ بالکل عام موضوعات نہیں ہیں۔ یہاں بھی یہ ممنوع موضوعات ہیں۔ یہ تو اس ڈپارٹمنٹ کا کمال ہے جس نے ہم جیسوں کو ایک پلیٹ فارم دیا ہوا ہے جس میں ہم نہ صرف اپنا کیس بیان کر سکتے ہیں بلکہ ایک دوسرے کے مسائل بھی سمجھ سکتے ہیں اور پھر ریسرچ کے لیے تو یہ ڈپارٹمنٹ ہے ہی آئیڈیل۔ امریکہ جیسے ملک سے بھی جہاں لوگوں کے خیال سے فریڈم آف اکسپریشن سب سے زیادہ ہے، وہاں سے بھی اسٹوڈنٹ یہا ںآتے ہیں تاکہ اپنی مرضی سے بغیر کسی دباؤ کے ریسرچ کر سکیں۔ اور شروع میں تو یہ ڈپارٹمنٹ کھولنے پر بڑی لے دے ہوئی تھی۔ دو سال تک یوں لگتا تھا کہ انتظامیہ اسے چلنے نہیں دے گی۔ مگر اب چونکہ یہ ڈپارٹمنٹ پیسہ بنانے کی ٹکسال میں ڈھل چکا ہے اور پیسہ سب کو پیارا ہے لہٰذا اب یہ یونیورسٹی کا چہیتا ڈپارٹمنٹ ہے۔‘

’گمشدہ‘ ایسا ہی ایک افسانہ ہے جس میں وہ موضوعات شامل ہیں جو معاشرے میں ممنوع سمجھے جاتے ہیں۔ اس افسانہ میںایک ناول کے حوالے سے عورتوں کی جنسی کیفیات اور ترجیحات وغیرہ کو بیان کیا گیا ہے۔ خاص طور پر ایل جی بی ٹی اور کویرتھیوری پر بھی گفتگو ہے۔ ناول میں جو کچھ بیان کیا گیا ہے وہ مردانہ مغلوبیت کے زیر اثر صدیوں پرانی سوچ کے برعکس ہے۔ شہناز شورو نے اس ناول کے مواد، موضوع اور کردارکے حوالہ سے مختلف ملکوں کے جنسی تصورات کو اپنے افسانے کا مرکز بنایا ہے۔ اورایشیائی ریسرچر کی پسپائی کو بھی بیان کیا ہے کہ آج کے عہد میں جب اس طرح کے تصورات پر گفتگو عام سی ہو گئی ہے مگر ایشیائی سوچ کے حامل افراد شرمندگی محسوس کرتے ہیں۔ آج کے معاشرے میں ان جنسی موضوعات پر گفتگو یوں لازمی ہے کہ اس سے عدم واقفیت کی وجہ سے ذہنی مریضوں کی تعداد بڑھتی جاتی ہے اور زندگی میں ہزاروں پیچیدگیاںپیدا ہو جاتی ہیں اور سیکڑوں زندگیاں تباہ و برباد ہو جاتی ہیں۔لڑکیاں خود کشی کرنے لگتی ہیں اور جنسی تجربات کی وجہ سے ان کی زندگی انتشار، الجھن کا شکار ہو جاتی ہے۔معاشرہ جنھیں انفرادی مسائل کہہ کر لاتعلقی کا اظہار کرتا ہے۔ یہی لا تعلقی سماج میں بہت سے مسائل کو جنم دیتی ہے۔ یہ صرف آج کے انفرادی مسائل نہیں ہیں بلکہ اجتماعی زندگی سے جڑے ہوئے مسئلے ہیں جن کا حل تلاش کیا جانا بہت ضروری ہے۔شہناز شورو نے اس افسانے میں جنسی مسائل سے عدم آگہی کی وجہ سے پیش آنے والی دشواریوں کا بھی ذکر کیا ہے کہ اگر لڑکیاں ان مسائل سے آگاہ نہ ہوئیں تو نہ صرف ذہنی مریض بن جاتی ہیں بلکہ نشے کی عادی ہو جاتی ہیں۔ دراصل جس ناول کا ذکر اس افسانے میں ہے اس میں سیکشوئل مسائل، تجرد، سیکس،لیزبین اور گے کا ذکر ہے ۔ شہناز شورو نے اس ناول کے حوالے سے ممنوعہ موضوعات کوموضوع بحث بنایا ہے اور دقیانوسی، رجعت پسندانہ سوچ پر کاری ضرب لگاتے ہوئے کئی سوالات بھی کھڑے کیے ہیں۔

’’ناول کا ایک دوسرا رخ وہ ناکام یا کامیاب تجزیے اور تجربے تھے جو صدیوں سے انسان رتی رتی جمع کرتا، اکیسویں صدی تک لے آیا ہے۔ مگر یہاں بحث یہ بھی تھی کہ آیا یہ انسانی تجربات ہیں یا صرف مردانہ تجربات اور ان سے اخذ کردہ نتائج کا نچوڑ؟ نہ غم تھا، نہ غصہ بس اصرار تھا۔ لکھنے والی کا اصرار کہ اگر موجود اور تاریخی اعتبار سے قابل قبول بیس صدیوں تک عورت کو دنیا کی تجربہ گاہ میں مردوں کے تجربات کے لئے ایک آبجیکٹ کی طرح استعمال کر ہی لیا گیا ہے، تو اب ذرا اس آبجیکٹ کے احساس سے بھی رجوع کر لیا جائے تاکہ سماج اور نظام کی اکائیوں اور دہائیوں کے مرتب کردہ ڈھانچے میں سسکتی روحوں کے درد تک رسائی کا کوئی در امکان تو کھلے۔ اب عورت، بحیثیت انسان اس نظام حیات اور حیات کائنات میں اپنا گمشدہ حصہ تلاشنے کے ساتھ ساتھ، ماضی اور حال میں شراکت داری کی بنیاد پر مستقبل میں اپنے حقوق اور متوازن حصے کے لئے اصرار کرتی ہے تودنیا کے ایوانوں میں ہلچل کیوں؟ تاریخ، سماجیات، مذاہب اور قوانین کی از سر نو تشکیل کے تقاضے پر اتنا واویلا کیوں؟ کیا انسان اکیسویں صدی میں بھی اتنا پابند اور اپنے وجود کے اثبات کا ادراک کروانے میں ایسا ناکام ہے کہ کسی معتوب کو حق دینے کے سوال پر قدغن لگے، کہن، سیاہ پوش و سیاہ بخت شخصی و گروہی اجارہ داریوں کے محل متزلزل ہونے لگیں؟‘

شہناز شورو نے صرف معاشرتی کرب اور المیہ کو بیان نہیں کیا ہے بلکہ اپنے افسانوں میں بہت سے سوالات قائم کیے ہیں۔ یہ سارے سوالات پدر سری سماج کے فکری نظام پر سوالیہ نشان قائم کرتے ہیں۔ انہی سوالات نے شہناز شورو کے افسانوں کو ایک تانیثی ڈسکورس میں تبدیل کیا ہے۔ یہ دراصل افسانوی بیانیہ نہیں بلکہ کلامیہ بھی ہیں اور یہی کلامیہ شہناز کے افسانوں کی عصری معنویت پر مہر ثبت کرتا ہے۔ اگر صرف وہ عورتوں کے داخلی کوائف اور جذبات کے بیان پر مرکوز ہوتیں تو شاید ان کے افسانوں میں وہ منطقی قوت نہ آپاتی جس کی وجہ سے ان کے افسانوں کا اثر اور اعتبار قائم ہے۔

شہناز شورو کے افسانوں میں عورت بطور متن ہے اس لیے مختلف ملکوں، ثقافتوں اور قوموںمیں اس متن کی جتنی بھی صورتیں اور شکلیں ہیں وہ سب ان کے افسانوں کا حصہ بن جاتی ہیں۔ اس طرح ان کا افسانہ کسی خاص قوم یا معاشرہ کی عورتوں کی داخلی کیفیات و جذبات کا آئینہ نہیں بلکہ خواتین کی اجتماعی نفسیات و کیفیات بلکہ یہ کہنا بہتر ہوگا کہ عورتوں کی اجتماعی انفرادیت کا عکس بن جاتا ہے۔

شہناز نے بروکن، ڈسفنکشنل فیمیلیز، عورتوں کی تنہائی، اداسی، مردوں کی عیاشی، بے وفائی اور اس کے نتیجے میں عورتوں کی برباد ہونے والی زندگی پر بھی افسانے تحریر کئے ہیں۔ ’قدرت کے بچّے‘ایک اہم افسانہ ہے جس کے دو کردار ڈیوڈ اور سارہ ہیں۔ افسانہ میں سارہ کن اذیتوں اور کیفیتوں سے گزرتی ہے اس کا بہت ہی خوبصورت بیانیہ شہناز شورو کے اس افسانے میں ہے۔

’’تنہائی اور اُداسی بے کراں ہوئی تو اس نے فرٹیلٹی کلینکس سے رابطہ کرنا شروع کیا اور بالآخر ایک اچھے سپرم بنک سے رابطہ ہوگیا۔ معمولی ٹیسٹس اور مختلف ادویات کے کورسز کروانے کے بعد سپرم بنک نے ایک صحت مند ڈونر کے سپرمز ملتے ہی اس سے رابطہ کیا۔ ڈونر کی نسل اور رنگت کے متعلق سارہ نے اپنے سوالنامے کے جواب میں واضح طور پر لکھا تھا کہ اسے اس سے غرض نہیں۔ عام طور پر سپرم بنکز انتظار کے لئے دو سے تین سال کا وقت لیتے ہیں۔ مگر سارہ کے کیس میں محض سات ماہ میں ڈونر کا بندو بست ہوگیا تھا۔

عام دنوں کی مصروف زندگی میں تنہائی کا آسیب یوں نہیں لپٹتا تھا جیسا کہ اس دن اس پر سوار ہوا جب وہ فرٹیلٹی کلینک میں سپرم انسرٹ کروانے پہنچی۔ نرس نے کہا تھا کہ ایک صحت مند سپرم ہی کافی ہوگا پریگنینسی کے لئے مگر 37 سال کی عمر میں وہ کوئی خطرہ مول نہیں لینا چاہتا تھی لہٰذا اس نے تینوں سپرم انسرٹ کرنے کے لئے کہا۔‘‘

فطری عمل سے غیر فطری عمل کی طرف مراجعت کے لیے دراصل مرد معاشرہ ذمہ دار ہے۔ شہناز شورو نے تمام مسائل کی جڑوں تک پہنچنے کی کوشش کی ہے ۔ اسی ذیل میں وہ افسانے بھی آتے ہیں جو کنواری ماؤں کے حوالے سے لکھے گئے ہیں۔ ’بخت آور‘ میں بھی ایک کنواری ماں کا ذکر ہے کہ کس طرح معاشرہ عورتوں کے ساتھ نہ صرف جنسی جبر واستحصال کا رویہ روا رکھتا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں پیش آنے والی اذیتوں اور بدنامیوں کی بھی پرواہ نہیں کرتا۔

’’دل تڑپنے لگا۔۔۔۔۔ کیسے اٹھوں، کہاں سے جھانکوں، کیسے دیکھ لوں اس ننھی سی جان کو ۔۔۔۔۔ مگر میں تو کروٹ تک نہیں بدل سکتی تھی۔ دہشت سے جسم کانپ رہا تھا۔ کیسا ہوگا؟ کوئی تو باپ بھی ہوگا اس کا۔۔۔۔۔ دنیا میں آنے کا جرم۔۔۔۔۔ کس شکم میں رہا ہوگا اتنے مہینے۔۔۔۔۔ اور کس کے خوف سے پورا بچہ۔۔۔۔۔۔ وہ بھی بیٹا اٹھا کر گٹر کنارے ڈال دیا۔ اخبار میں بھی کبھی کبھار لگتی تھی۔

کنواری ماں کے گناہ کی سزا۔

نہ کنواری ماں کا مطلب سمجھ میں آیا، نہ گناہ کا اور نہ ہی سزا اور جزا کی رام کہانی کو عقل کبھی مان سکی۔ جسمانی ملاپ کا گناہ۔۔۔۔۔۔۔ اور عورت کی بیضہ دانی میں مرد کے سپرم جانے کا جرم۔‘‘

مرد معاشرے کے جرم اور گناہ کی گواہی دیتے کئی اورافسانے ہیں جن میں کنواری ماں اور آنر کلنگ کو انہوں نے موضوع بنایا ہے۔ ’شہر بیاباں‘ میں بھی اسی طرح کا موضوع ہے۔ ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیے۔ جس سے انتظامیہ کی بے بسی اور معاشرے کی بے حسی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے:

’’اللہ کے احکام کے ساتھ دھو کہ … قانون کے ساتھ فراڈ … اور وہ بھی میرے علاقے میں .. ایس ایچ او نے صحافیوں کے سامنے کاغذ کے پلندے لہرائے۔ ایک معصوم جان کا قتل ہوا ہے … دنیا اولاد نرینہ کے لیے دعائیں مانگتی ہے اور یہاں خدا کے قہر کو آواز دینے کے لئے یہ ناجائز کام کیا گیا ہے جو یوں ایک نوزائیدہ بچے کی لاش گندے پانی کے جو ہڑ میں پھینکی گئی ہے۔ وہ لوگ نہایت چالاک ہیں اور اس گناہ عظیم کو چھپانے کی کوششوں میں مصروف تھے مگر پولیس سمجھ گئی تھی کہ یہ کس کنواری ماں کے دلال کا کام ہے اور ہم چوبیس گھنٹوں کے اندر اندر ان تک پہنچ بھی چکے تھے۔ میں نے اللہ کو حاضر و ناظر جان کر خود سے وعدہ کیا تھا کہ جس کسی نے بھی یہ مکروہ حرکت کی ہے، ہم اس سے سختی سے نمٹیں گے اور قانون کے کٹہرے میں لا کھڑا کریںگے۔ آج آپ کے سامنے پریس کانفرنس کرنے کا مقصد یہ تھا کہ آپ کو بتایا جائے کہ ہم نے اصل گناہ گار اور ان کے سہولت کاروں کو ڈھونڈ نکالا تھا۔ گرفتار لڑکی نے مجسٹریٹ کے سامنے اپنے گناہ کا اقرار کیا ہے اور میڈیکل رپورٹ سے بھی اس بات کی تصدیق ہو گئی کہ وہی اس واقعے کی ذمہ دار تھی۔ ہم چاہتے تھے کہ مقدمہ چلے اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق مجرم کو قرار واقعی سزادی جائے مگر افسوس کہ کل رات لاک اپ میں لڑکی نے بدنامی سے بچنے کے لیے خود کشی کر لی۔‘‘یہ خود کشی نہیں بلکہ ایک معاشرتی جرم ہے اور اس کے لیے ہمارا اجتماعی معاشرہ ذمہ دار ہے کہ عورت خود کشی نہ کرتی تو نہ صرف گھٹ گھٹ کو مرتی بلکہ طعن وتشنیع سے روز قتل ہوتی رہتی ۔

شہناز شوروکے افسانوں میں عورتوں کے انفرادی اور اجتماعی المیے کابیان ہے اور ان کے افسانوں میں عورت کا وجود تہذیبوں اور مذہبوں میں بٹا ہو انہیں ہے بلکہ عورت ایک اجتماعی وجود سے عبارت ہے ۔ اس لیے شہناز شورو کے افسانوں میں عورت ایک اجتماعی استعارہ ہے جس میں خطہ، رقبہ رنگ و نسل کی کوئی تخصیص نہیں ہے بلکہ اس میں ہر وہ وجود شامل ہے جسے مرد اساس معاشرہ نے عورت کے زمرے میں رکھا ہوا ہے۔

مختلف ادوار میں عورت کی علامتی شناخت بھی تبدیل ہوتی رہی ہے۔ کہیں وہ توانائی اور وحدت کی علامت ہے تو کہیں متاع تعیش اور تولیدی مشین اور کہیں بدی کا استعارہ۔ عورت کا کیریکٹرائزیشن مختلف طریقوں سے ہوتا رہا ہے۔ مثبت اور منفی دونوں طرح کی تصویر کشی ہوتی رہی ہے۔شہناز شورو کے افسانوں میں عورت کے کئی رنگ و روپ ہیں۔ وہ عورتیں بھی ہیں جن کی زمین اور آسمان دونوں چھین لیے جاتے ہیں اور آنکھوں سے سارے خواب بھی سلب کر لیے جاتے ہیں اور وہ عورت بھی ہے جو سیلف کنسٹرکٹ کی ایک مثال بن جاتی ہے۔ ’من کی ملکہ‘ سیلف کنسٹرکٹ سروسز سوسائٹل کنسٹرکٹ کلا ایک نمونہ ہے۔ یہ افسانہ مکمل طور پر ایک باغی لڑکی کی داستان ہے جو شوخ اور چنچل ہے۔ جو نہایت بے باک اور منہ پھٹ بھی ہے۔ترکی بہ ترکی جواب دینا جانتی ہے ۔ :

’’تو کیوں کی تھی ایسے شخص سے شادی؟

بات سن مجھے کوئی شوق نہیں تھا شادی وادی کا۔۔۔ سارا دن میرے آگے پیچھے بچھا جاتا تھا، منتیں کرتا تھا۔ ترلے کرتا تھا۔۔۔ کہتا تھا۔۔۔ منا لے گا باپ کو۔۔۔ ماں کو۔۔۔ اور جب نکاح کر لیا تو سور نے ۔۔۔ نظریں پھیر لیں ۔ کہتا ہے اس جلے ہوئے جسم کے ساتھ۔۔۔ کرنے سے گھن آتی ہے۔ کہتا ہے اس کی بیوی پانی پیتی ہے تو گردن سے پانی اترتا نظر آتا ہے۔ ۔۔کتا۔۔۔ اس کے ساتھ ہر سال بچے پیدا کرتا اور میرے ہر سال ابارشن ۔۔۔اس وعدے کے ساتھ کہ اگلا بچہ پیدا کروائے گا۔‘‘

یہاں مرد کی خود غرضی کو بہت بہتر طریقے سے بیان کیا گیا ہے کہ ایک عورت نے کس طرح زندگی جیسی انمول چیز کو بے رحمی سے گنوا دیا۔ یہ ایک عورت کی بغاوت تھی یا بربادی ۔ افسانے کا اختتامی اقتباس دیکھیے:

’’آج جب میں اس کی قبر کی سوکھی۔۔مردہ سی مٹی کی ڈھیری کے پاس کھٹری ہوئی تو لحظہ بھر کو۔۔ اس کے گدگداتے جملے، چہرے پہ شرارت کی آمیزش سے بنے نقوش میری آنکھوں کے سامنے لہرا گئے۔ میں سوچتی رہی۔ کچھ باغی دنیا کو تبدیل کر دیتی ہیں۔ نقشہ اور جغرافیہ بدل ڈالتے ہیں۔ ذہنوں اور زندگیوں کو مفہوم بخش دیتے ہیں۔ یہ کیسی بغاوت تھی یا اس طرز عمل کا کیا نام ہے؟ کیا مشرقی عورت کی بغاوت بھی صرف خود سے انتقام ہے۔۔۔ اپنی ہی بربادی کا نام ہے۔اپنی ہی ذات، جسم اور روح کو روندنے کا نام؟‘‘

آج کی عورتوں کوجو چیلنجز درپیش ہیں انھیں بھی شہناز شورو نے اپنے افسانے کا موضوع بنایا ہے اور پدرسری سماجی نظام کے رویوں کو بھی بے نقاب کیا ہے۔ در اصل جس طرح کی استحصالی پدرسری ساخت ہمارے معاشرہ میں رائج ہے اس کی وجہ سے عورتیں اپنے حقوق سے محروم ہیں۔ پدرسری جبر نے عورتوں کے ذہن اور بدن کو جن اذیتوں سے گزرنے پر مجبور کیا ہے اس کی وجہ سے عورتیں اب اپنی زبان اور بدن دونوں سے جواب دے رہی ہیں۔ ’جفا‘ ایک ایسا افسانہ ہے جس کے دو کردار ہیں، میاں اور بیوی۔ انیتا کو جب اپنے شوہر کے بارے میں پتہ چلتا ہے تو اس کے اعتماد، بھروسہ کی دیوار منہدم ہو جاتی ہے ۔ دیکھئے کہانی کتنے خوبصورت انداز میں بُنی گئی ہے کہ ایک بیوی اپنے شوہر سے کس طرح جذباتی انتقام لیتی ہے۔

’’مجھے بھی اعتراف کرنا ہے ایک بات کا

کہو۔ ” کبیر کا با اعتماد لہجہ اسے اکسا رہا تھا۔

مجھ سے بھی غلطی ہوئی۔۔۔ یہ کمزور لمحے میری زندگی میں بھی آئے۔ میں بھی خود پر قابو نہ رکھ سکی۔

اتنا بول کر انیتا خاموش ہو گئی۔ خاموشی کی آواز گویا قبر میں اتر گئی۔ مگر اب کبیر کی باری تھی پوچھنے کی۔

وہی کرنجی آنکھوں والا لمبا، پاپولر بیوروکریٹ ؟”

ہاں!” ایک لفظ کا مختصر جواب تھا انیتا کے پاس۔

ہوں۔۔۔۔ پتہ ہے کیا مجھے ایک بار شک ہوا تھا۔” کبیر کی فاتحانہ مسکراہٹ غرقاب ہو چکی تھی۔

” کیسے؟”

ایک پارٹی میں جس طرح تم نے اسے دیکھا تھا، اس نے مجھے چونکا یا تھا۔ اس طرح تم صرف مجھے ہی دیکھ سکتی ہو۔۔ مگر شاید یہ صرف میرا خیال تھا۔” دونوں کے درمیان صرف سانسوں کی آواز تھی اور جاں سوز لمحے کا بھاری پن۔

ایک بات پوچھوں؟”

ہاں۔۔۔ انیتا کھائی سے دو قدم پیچھے پلٹ آئی۔

کبھی سیکس کیا اس کے ساتھ ؟

ہاں۔۔۔” وہ پرسکون تھی۔

کتنی بار؟”

مرد کی آواز میں مرد نی تھی۔

کئی بار۔۔۔ جب جب تنہائی کا صحرا اندر پھیلا اور پیاس کی شدت سے حلق میں کانٹے بچھے۔ مگر دل پر بہت بوجھہ رہا۔ ہر بار یہ سب کرنے کے بعد دل ہی دل میںتمہاری یاد شدت سے آتی اور میں تم سے شرمندہ ہوتی۔ کبھی سوچتی تھی ایک بار تمہیں سامنے بٹھا کر خود کو ملامت کروں گی اور کبھی یہ کہ اپنی اس غلطی یا خطا کا تمہیں کبھی پتہ نہیں چلنے دوں گی۔ ‘‘

شہناز شورو کا انسانیت پسندانہ نقطہ نظر ہے ۔ اسی لیے وہ مذہبی ، نسلی، قومی ہر طرح کی شدت پسندی ، نرگسیت، ادعائیت کے خلاف ہیں۔’تیسری بیٹی‘ افسانہ میں انھوں نے مذہبی منافرت اور جنون کو اپنا موضوع بنایا ہے۔ تو ’کایا پلٹ‘ بھی مذہبی شدت پسندی کے خلاف شدید احتجاج ہے۔ وہ بنیادی طور پر انسانی اقدار پر یقین رکھتی ہیں۔ اسی لیے انھوںنے اپنے بیشتر افسانوں میں ہر طرح کے جبر اور جارحیت کے خلاف آواز بلند کی ہے ۔

شہناز شورو کی زبان قاری کے ذہن میں ایک جادوئی کیفیت پیدا کر دیتی ہے۔انھوں نے اپنے افسانوں میں کوڈ مکسنگ کا بھی خوب صورت تجربہ کیا ہے کہ وہ سندھی، انگریزی اور دیگر کئی زبانوں پر عبور رکھتی ہیں۔ ان کے مختصر جملے اور فقرے ذہن کے بہت سے دریچوں کو کھول دیتے ہیں۔ نہایت معنی خیز اور فکر انگیز جملوں کے ذریعے وہ جہان معنی آباد کر دیتی ہیںجن میں قاری فکر اور فلسفے کی نئی اور پرانی دونوں کائنات تلاش کر لیتا ہے۔

شہناز شورو کاافسانوی ایپی سینٹر عورت ذات ہے ۔عورت ان کے لیے آبجکٹ نہیں بلکہ سبجیکٹ ہے۔ اس لیے ان کے افسانوں کے بین السطور میں عورتوں کی حاشیائی حیثیت، سماجی ، سیاسی اور معاشی نا برابری،انفرادی آزادی ، خود مختاری،صنفی مساوات،مساوی مواقع، صنفی تشدد ، آنر کلنگ اور جبر و استحصال اور عورتوں کے وجود سے جڑے ہوئے دوسرے مسائل نظر آتے ہیں۔یہ وہ مسئلے ہیں جن کے حل کے لیے عورتیں مسلسل جدوجہد کر رہی ہیں۔ فیمینز م کی ساری تحریکیں اسی سلسلے سے جڑی ہوئی ہیں۔ تانیثیت کی جتنی بھی لہریں ہیں ہر لہر عورت کے حق کے لئے آواز اٹھاتی رہی ہے اور انہیں تحریکوں کا فیض ہے کہ عورتوں میں تانیثی آگہی پیدا ہوتی جارہی ہے۔ اگر Suffergetteتحریک نہ چلتی تو یورپی ممالک میں عورتیں حق رائے دہی سے محروم ہوتیں۔ پدر سری نظام اور سرمایہ داریت کے خلاف آواز نہ اٹھتی تو عورتوں پر تشدد کا سلسلہ دراز سے دراز تر ہوتا جاتا۔ صنفی مساوات پر زور نہ دیا جاتا تو عورتیں آج بھی کمتر ہی شمار کی جاتیں۔ ان تحریکوں کی وجہ سے عورتوں کو Backlash کا بھی شکار ہونا پڑا۔ مگر خواتین نے اپنی تحریک جاری رکھی۔ اسی لئے آج عورتوں کی حالت بہتر ہوئی ہے۔ گو کہ ابھی بھی Sexism کا خاتمہ نہیں ہوا ہے۔ پھر بھی پہلے سے حالات بہتر ہو رہے ہیں اور عورتوں کو مختلف سطحوں پر اسپیس بھی مل رہی ہے۔

شہناز شورو نے حیاتیاتی اور وجودیاتی مسائل پر بہت ہی پرقوت افسانے تحریر کئے ہیں۔ اُن کے یہ افسانے صرف تاثینی بیانیے ہی نہیں بلکہ کلامیے اور استفہامیے ہیں۔ جن میں شہناز نے سماجی، مذہبی اداروںاورمرد مرکوز مقتدرہ سے سوالات کئے ہیں اور ان کی رجعت پسندانہ، عورت مخالف سوچ پر شدید ضرب کاری کی ہے۔ شہناز شورو کے یہ افسانے نسائی وجود کی نفسیاتی، سماجی، معاشی اور سیاسی حرکیات کا آئینہ ہیں۔ انہوں نے جن مسائل اور موضوعات کو اپنے افسانوں کا محور بنایا ہے وہ آج جدید ترین تانیثی ڈسکورس کا حصہ ہیں ۔ شہناز کے یہ افسانے بنیادی طورپر تانیثیت مخالف مخاطبہ کا شدید ذہنی اور جذباتی ردعمل ہیں۔ شہناز شورو کا یہ بیانیہPatriarchal societal system کے خلاف ایک بیدار تانیثی ذہن کا تخلیقی ری ایکشن بھی ہے ۔

You may also like