شاہد ماکلی: نئی جہات کا شاعر-کبیر اطہر

اگر آپ غزل کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو آپ اسے ایک سیماب صفت صنفِ سخن پائیں گے کبھی بھی اس کا مزاج یکساں نہیں رہا، میر، غالب، اقبال، فیض اور ظفر اقبال تک آتے آتے اس نے کئی چولے بدلے۔ فیصل عجمی جیسے مظاہرِفطرت اور احساسات و جذبات کی نیرنگیوں کو متشکل کرنے والے شاعر جب غزل میں در آئے تو غزل کی خوبصورتی کو چار چاند لگ گئے۔ اگرچہ غزل کا بنیادی ایسنس(Essence) ہمیشہ محبت رہا ہے، مگر ہر تازہ کار شاعر نے اس کے ایسنس (Essence) کو اپنے ٹیسٹ (Taste)کے مطابق کچھ نہ کچھ ضرور بدلا۔ تلازمہ کاری کے ساحروں نے اپنے لفظوں سے رنگوں کا کام لے کر اسے ایک تھری ڈائمنشنل (Three Dimensional) روپ دیا جس میں غزل کا شعر آپ کو صرف سنائی ہی نہیں دیتا بلکہ اب دکھائی بھی دیتا ہے:

سنائی دینے سے آگے نکل گئی ہے غزل
جو سنتے وقت دکھائی بھی دے جدید سمجھ

میرے نزدیک یہ وہ عروج تھا جو اب تک غزل نے حاصل کیا،مگر اچانک کہیں سے ایک شاعر نمودار ہوا جس نےاپنی تلازمہ کاری سے تلازمہ کاری کے ساحروں کو بھی ششدر کر کے رکھ دیا اور وہ شاعر کوئی اور نہیں، شاہد ماکلی ہے۔ غزل کی اب تک کی تلازمہ کاری انسانی جذبات و احساسات کے ساتھ ساتھ مناظرِفطرت تک محدود تھی، مگر اس شخص نے اسے وسعت دے کر اس دروازے پر لا کھڑا کیا ہے، جہاں سے اب اسے کائنات کے اسرارورموز کا چوگا بھی ملتا ہے۔ یہ غزل کا اعجاز ہے کہ جب بھی کوئی شخص شہرت کی طمع و لالچ کے بغیر خلوصِ دل سے اس کے قریب آیا اس نے اسے کبھی مایوس نہیں کیا اور غزل کی اسی خوبی نے اسے ہمیشہ زندہ رکھا ہے شاہد ماکلی کی غزل میں کائنات کے اسرارو رموز پر مشتمل تلازمہ کاری اتنی برجستہ اور اتنے رچاو کے ساتھ متشکل ہوتی ہے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔شاہد ماکلی نے اپنی ریاضت سے اس تلازمہ کاری کو اپنے لیے اتنا سہل کر لیا ہے کہ خود اسے بھی پتہ نہیں چلتا کہ وہ ایسا کچھ کر رہا ہے اور میرے خیال میں اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ اس کا جدید سائنسی علوم کا مطالعہ اور ان سے رغبت عشق کی معراج کو پہنچے ہوئے ہیں؛ اس لیے یہ علم اس کے وجود میں رچ بس گیا ہے اور اب وہ خون کی طرح اس کے جسم میں گردش کرتے کرتے اس کے لاشعور کا حصہ بن گیا ہے، یہی وجہ ہے کہاس کی غزلیں ایک عام قاری کو بھی اپنی زبان و بیان اور مضامین کی ندرت سے اتنی ہی متاثر کرتی ہیں جتنی سائنسی شعور رکھنے والے کسی شخص کو۔
یوں تو اس کی ہر غزل میں سائنسی شعور کے حامل کئی اشعار ہوتے ہیں، مگر میں صرف پانچ سات اشعار پر ہی بات کروں گا اور وہ بھی زیادہ تر ان کے سائنسی اوصاف پر ورنہ بات بہت طویل ہو جائے گی۔ایک شعر دیکھیں:

نگہ پڑی تو نظر آیا اک مقام پہ میں
ہٹی جو آنکھ تو آفاق بھر میں پایا گیا

شعر اپنی تلازمہ کاری میں اتنا مکمل ہے کہ پہلی قرات میں ہی قاری کو جکڑ لیتا ہے اور ہر پڑھنے والا اسے اپنی زندگی کے کسی بھی تجربے سے منسلک کر سکتا ہے مگر اس شعر کا پر لطف پہلو اس کا کوانٹم مکینکس(Quantum Mechanics) کی کوپن ہیگن انٹرپریٹیش(Copenhagen Interpretation)سے جڑا ہونا ہے، یعنی یہ شعر ایک پارٹیکل (Particle) کی بے قوت پارٹیکل(Particle) اور ویو(Wave) نیچر کا بیانیہ بھی ہے۔ ایک پاررٹیکل (Particle)صرف اس وقت تک پارٹیکل(Particle) ہے جب آپ اسے دیکھتے ہیں بصورتِ دیگر وہ ویو(Wave) کی فارم میں ہوتا ہے لیکن شاعر نے اپنے ہونے کی ویو(Wave) کے دائرے کو آفاق تک پھیلا کر اسے شعریت سے بھر دیا ہے۔ایک اور شعر دیکھیں:
سیاہ ہونے کو ہے روشنی کا مستقبل
سفر اندھیرے کا ہے تابناک ہونے کو

سیاہی جو کہ ایک منفی استعارہ ہے اس کا تابناک بونا ایک نیا زاویۂ نظر ہے آپ اسے اپنے ملکی حالات پر طنز بھی سمجھ سکتے ہیں اور مرنے کے بعد قبر کی زندگی سے بھی جوڑ سکتے ہیں یا پھر اپنے کسی ذاتی تجربے سے آپ اس سے کوئی اور معنی بھی اخذ کر سکتے ہیں مگر اس میں جو کائنات کے اختتام کا زاویہ ہے جب ہمارے سورج نے مر کھپ جانا ہے۔ ہر طرف اندھیرے کی حکمرانی ہونی ہےاور بس! وہ شاہد ماکلی کے سائنسی شعور کی دین ہے:

کرن سے تیز ہے رفتار بے خیالی کی
ہماری گرد کو تارے نہیں پہنچ سکتے

اس شعر میں تلازمہ کاری کا فسوں اپنے جوبن پر نظر آتا ہے اور شعر میں یہ جادو بے خیالی کے لفظ کی دین ہے شاعر چاہتا تو مصرعے میں معمولی ردو بدل سے بے خیالی کی جگہ خواب یا خیال کا لفظ بھی لگا سکتا تھا، مگر شعر میں وہ حسن پیدا نہ ہوتا جو بے خیالی کے لفظ نے اسے بخشا ہے اور یہ بے خیالی نجانے کتنے خیالوں سے بھری ہوئی ہے، جو شاعر کے ذہن سے تخلیقی عمل کے دوران گزرتے ہیں۔اس شعر کا بیانیہ بظاہر ایک شاعرانہ تعلی لگتا ہے، مگر مستقبل میں اگر معلوم پڑا کہ کائنات میں کچھ ایسا بھی ہے، جو روشنی کی رفتار سے زیادہ تیز حرکت کر سکتا ہے تو شاہد ماکلی "بے خیالی” کے استعارے سے اس کی پیشین گوئی کر چکا ہے:

نئے جہانوں میں لے جاتے ہیں مجھے شاہد
یہ گیارہ شعر ہیں گیارہ جہات میرے لیے

یہ شاہد ماکلی کی گیارہ شعروں پر مشتمل غزل کا مقطع ہے۔اب تک کی شاعری شش جہات کی لفاظی سے بھری پڑی ہے مگر شاہد ماکلی کے گیارہ جہان ہیں۔اس شعر کے قریب تر معانی تو یہی بنتے ہیں کہ اس غزل کا ہر شعر خوبیِ خیال کے حوالے سے ایک جہان ہے اور یہ غزل گیارہ مختلف جہانوں پر مشتمل ہے۔اب آپ آئیں اس کے اندر کائنات کے اسرارورموز کی تلازمہ کاری پر ہم اپنے فزیکل ورڈ کو چار ڈائمینشنز(Dimensions)میں لیتے ہیں یعنی اوپر نیچے آگے پیچھے دائیں بائیں اور چوتھی ڈائمنشن(Dimensions)وقت کی ہے، تو شاہد ماکلی یہ گیارہ جہات کہاں سے لے آیا جو کہ اس کے گیارہ جہان ہیں۔ در اصل یہ گیارہ جہات کا آئیڈیا(Idea) سٹرنگ تھیوری(String theory) سے ماخوذ ہے جس پر کام کرنے والے مانتے ہیں کہ ہمارے فزیکل ورڈ (Physical word)میں ان چار ڈائمینشنز(Dimensions)کے علاوہ سات اور ڈائمینشنز(Dimensions)بھی ہیں، جن تک ابھی ہماری رسائی نہیں۔ فزیسسٹ(Physicist)کئی عشروں سے اس تھیوری(Theory)پر کام کر رہے ہیں، اگرچہ اس تھیوری(Theory)کو ابھی تک کوئی بہت بڑا بریک تھرو نہیں ملا، مگر فزیسسٹ(Physicist)سمجھتے ہیں کہ یہ تھیوری کائنات میں موجود تمام فورسز کو یونیفائی (Unify)کرنے کا بہترین ماڈل(Model) ہے۔ سو یہ گیارہویں جہت دراصل سٹرنگ تھیوری(String theory)کے حوالے سے ایک تلمیح ہے، جس کو فزکس(Physics) کا شعور رکھنے والا کوئی بھی شخص آسانی سے سمجھ سکتا ہے۔ اس تلمیح کے حوالے سے ایک اور شعر دیکھیں:

چلو شش جہت سے نکلیں کسی گیارہویں جہت کو
ذرا اس کا بھید سمجھیں جو وہاں گزر بسر ہے
نیچے دیے گئے شعر میں کسی اور جہان میں اپنے ہمزاد کی موجودگی کا یہ بیانیہ بھی کووانٹم مکینکس(Quantum mechanics) کی مینی ورڈز انٹرپٹیشن(Many worlds interpretation)سے جڑا ہوا ہے:

کہیں مثلِ آئینہ ہیں متوازی کائناتیں
وہاں ایک آدمی ہے جو ہماری شکل کا ہے

اور یہ شعر دیکھیں جوکوانٹم مکینکس(Quantum Mechanics)کے ایک اہم نام ارون شروڈنگر( Erwin Schrödinger) کے تھاٹ ایکسپیریمنٹ (Experiment Thought) کا احاطہ کرتا ہے:

کبھی خبر لے اس آرزو کی جو قید ہے غم کے ساتھ دل میں
جو بلی ڈبے میں بند ہے دیکھ زندہ بھی ہے کہ مر گئی ہے

اور اس ایکسپیریمنٹ (Experiment) کی پوری ایمیجری(Imagery) اس شعر میں موجود ہے ۔ دل ایک ڈبہ آرزو ایک بلی غم ایک زہر۔ اس ایکسپیریمنٹ (Experiment) کی تفصیل لکھنے سے بات لمبی ہو جائے گی۔ اگر کوئی شخص اس میں دلچسپی رکھتا ہو تو گوگل پر سرچ کر سکتا ہے اور یہ شعر دیکھیں جو ایک چمکنے والی جیلی فش کے جین کو ایک خرگوش کے ڈی این اے میں داخل کر کے جیلی فش کی طرح خرگوش کو جگمگاہٹ سے بھرنے کے تجربے کی طرف اشارہ کرتا ہے:

جگنو کا جین پیڑ میں داخل کیا گیا
ہر شاخ جلتی بجھتی رہی رات بھر مری

بٹر فلائی ایفکٹ (Butterfly Effect) کو پینٹ کرتے ہوئے یہ دو شعر دیکھیں:

سبب کی لہر ادھر ارتعاش گیر ہوئی
ادھر ابھرنے لگے واقعات میرے لیے

ایک تتلی کے پر مارنے سے ہواؤں کی لہروں میں طوفان پیدا ہوا
کیسے چھوٹے وقوعے سے کتنے بڑے اک وقوعے کا امکان پیدا ہوا

کچھ عرصہ پہلے چار سو سے اوپر ایگزوپلانٹ(Exoplanet) دریافت ہوئے جن کے نام مختلف ممالک سے مانگے گئے۔ پاکستان سے دیے جانے والے نام شمع اور پروانہ تھے اور یہ نام دو ایگزوپلانٹ(Exoplanet) کے رکھ دیے گئے ہیں، دیکھیں کس خوبصورتی سے دو گھسے پٹے الفاظ نئی معنویت کے ساتھ حسرت و یاس کی تصویر بنے اس شعر میں کھڑے ہیں۔ کیا حزن ہے اس شعر میں جو بزم زمین کی تھی وہ اب زمین سے باہر سجی ہوئی ہے:

نہ ڈھونڈھیے کہ یہاں شمع ہے نہ پروانہ
زمیں کی بزم ہے شمسی نظام سے باہر

الغرض شاہد ماکلی کی شاعری کا جہان الگ ہے اتنا الگ کہ کوئی چاہ کر بھی اس کی ہمسری نہیں کر سکتا کیونکہ ایسی شاعری کرنے کے لیے جس لگن اور جذبے کی ضرورت ہوتی ہے، وہ بہت خاص ہے اور اس کے سوتے اس علم سے پھوٹتے ہیں، جس کی جڑیں مستقبل میں ہیں، یہ آنے والے زمانوں کی شاعری ہے، ان زمانوں کی جو ہماری آنے والی نسلوں کو دستیاب ہوں گے، وہ نسلیں جن کے رہن سہن کے ساتھ ساتھ غم بھی ہم سے مختلف ہوں گے اور خوشیاں بھی۔ جن زمانوں میں مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کا راج ہو گا، چیزیں پروگرامڈ (programed) ہوں گی، شاید ہمارے جذبات بھی، یہ اس زمانے کی شاعری ہے، جس میں گفتگو کرنا بھی شاید ایک عیاشی کے زمرے میں آئے۔ ہمارے ارد گرد سائی بورگز ہوں گے یا جینیٹک انجینرنگ (Genetic Engineering).سے انسانوں کی بگڑی ہوئی شکلیں ٹرانس ہیومنزم (Transhumanism) کیا کیا گل کھلا سکتی ہے یہ سوچ کر دل دہل جاتا ہے۔
اس شاعری میں جہاں آنے والے زمانوں کے محاسن کی آپ کو فوٹو گرافی ملتی ہے وہاں اس دور کے المیوں کی بھیانک تصویریں بھی جا بجا نظر آتی ہیں۔ شاہد ماکلی کے سائنسی شعور کے حامل شعروں میں سے کچھ مزید اشعار دیکھیں:

ہر ایک شخص کے سینے میں دھات کا دل ہے
نہ سمجھو خوبی یہاں پر تپاک ہونے کو

بلائیں پردۂ سیمی پہ جلوہ گر ہوں گی
نئی کہانی کی بنیادیں خوف پر ہوں گی

ہم ان میں بیٹھ کے گھومیں گے کائناتوں میں
نئی سواریاں کرنوں سے تیز تر ہوں گی

نظامِ دہر مشینوں کے ہاتھ میں ہو گا
جدید دور کی تہذیبیں بے بشر ہوں گی

چھڑی تو پھر نہ رکے گی حیاتیاتی جنگ
ہماری زندگیاں خوف میں بسر ہوں گی

اور اب تو چاند پہ آباد کاری ہونے لگی
چمکتی وادیاں انساں کا مستقر ہوں گی

یہ مشینوں کی ہے دنیا یہاں کام کیا ہے دل کا
نہ یہاں خدا ہے کوئی نہ یہاں کوئی بشر ہے

یہ پیڑ بیج تھا یہ بحر بوند تھا شاہد
یہ لمحہ پھیل کے ممکن ہے عہد بن جائے

ہزار نوری برس پر تھا میری رات سے دن
میں آپ مٹ گیا یہ فاصلہ مٹاتا ہوا

کلون شہروں میں چلتے پھرتے دکھائی دیں گے
کہ آدمی کی نقول تیار ہو رہی ہیں

کھڑے ہوئے تھے کہیں وقت کے کنارے پر
پھسل کے جا گرے اک اور ہی زمانے میں

مری تو آہ بھی شاید ہوا سے بھاری ہے
زمین تک ہی رہی آسمان تک نہ گئی

میں کائناتی سفر میں اکائی تک پہنچا
فزکس ہو گئی روحانیات میرے لیے

مجھے دیکھنا پڑے گا کوئی دوسرا جزیرہ
یہ ہوائیں سانس بھر ہیں یہ سمندر اوک بھر ہے

تو پکڑتا ہاتھ میرا تو یہ دوری دو قدم تھی
نئی کائنات مجھ سے کئی نوری سال پر ہے

پھرتی ہے کہکشاوں کے مرکز کے آس پاس
حیرت کہیں اندھیرے کے اندر نہ گر پڑے

عالم میں ہے تاریک توانائی سے پھیلاؤ
بڑھتی ہوئی دوری سے ہے وسعت میرے دل میں

کیا جانے آشنائی میں کتنا سمے لگے
اب تک تو اجنبی ہے بشر کائنات میں

دوری ہزار نوری برس کی بھی ہیچ ہے
دل دل سے ربط میں ہے اگر کائنات میں

دبوچ لیتا ہے دل کا سیاہ روزن اسے
قریب سے جو کوئی روشنی گزرتی ہے

کائناتیں مری تشریح طلب ہیں اب تک
اک مساوات مساوات سے ٹکراتی ہے

صحرا نورد ہو نہ گئے ہوں خلا نورد
وحشت کا رخ ہے دشت سے مریخ کی طرف

مجھے تو لگتا ہے چکھ لی ہے روشنی میں نے
کوئی چمکتا ہوا ذائقہ زبان پہ ہے

یہ کائناتی ذہانت کا دور ہے بھائی
یہاں خدا کا تصور کچھ اور ہے بھائی

میں تجھ کو ماضی میں جا کے ممکن ہے دیکھ پاؤں
بشر تجازب کی لہر دریافت کر چکا ہے

شاہد ماکلی نے ان خیالوں کو غزل کا موضوع بنایا ہے جو نظم میں بھی مشکل سے سماتے ہیں اور وہ بھی زبان و بیان کے ساتھ کسی کھلواڑ کے بغیر اور یہ کام کوئی سچا فنکار ہی کر سکتا ہے۔ شاہد ماکلی واقعی فزکس(Physics) کو روحانیات کے مقام تک لے آیا ہے، سو اس کی جتنی بھی تحسین کی جائے کم ہے:

وہ شخص طاق ہے رنگوں کی شاعری میں کبیر
کہ اس کے ہاتھ سے ساتوں میں دل دھڑکتا ہے