Home قومی خبریں شاہین باغ:مظاہرین کومثبت نتائج کی امید

شاہین باغ:مظاہرین کومثبت نتائج کی امید

by قندیل

نئی دہلی:دہلی کے انتخابی موسم میں شاہین باغ پرجم کرسیاست کی گئی اورترقیاتی امورچھوڑکربی جے پی نے بس شاہین باغ کوبدنام کرنے اوراس کاانتخابی فائدہ اٹھانے کی ہرممکن کوشش کی،طرح طرح سے میڈیاٹرائل کیاگیالیکن ان کے عزم میں کمی نہیں آئی بلکہ فائرنگ،اشتعال انگیزیوں،فرقہ پرستوں کی گرفتاریوں کے باوجودان خواتین نے نہایت عزم وحکمت عملی کامظاہرہ کیاہے جس سے متاثرہوکرپورے ملک میں پرامن احتجاج ہورہاہے۔ شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف شاہین باغ میں خاتون مظاہرین نے دہلی میں ہونے والے انتخاب کے ایام کو شاہین باغ کے تعلق سے تکلیف دہ قرار دیتے ہوئے کہاکہ اب انتخاب ہوچکا ہے امید ہے کہ اب شاہین باغ خاتون مظاہرین کے بارے میں غلط بات نہیں کہی جائے گی۔شاہین باغ خاتون مظاہرین نے کہاکہ دہلی میں جب سے انتخاب کی تاریخ کا اعلان ہوا تھا اس وقت تک سے اب تک اس کے بار میں طرح طرح کی باتیں کرکے ہمیں ذہنی طور (مینٹل ٹارچر) پرپریشان کیا گیا۔ کبھی ہمیں 500روپے لیکر بیٹھنی والی بتایا گیا تو کبھی بریانی کھانے والی بتایا گیا۔کبھی گولی چلاکر ہمیں خوف زدہ کرنے کی کوشش کی گئی، تو کبھی کسی کو بھیج کر ہمارے خلاف سازش کی گئی۔ کبھی جینے کی آزادی کے نعرے کو جناح کی آزادی کا نعرہ کا الزام لگاکر ہمیں ملک کا غدار بتایاگیا۔انہوں نے کہاکہ ہم لوگ سب کچھ سہتے رہے اورپرامن طریقے سے مظاہرہ کرتے رہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم لوگ سمجھ رہی تھیں کہ یہ سب دہلی میں ہونے والے اسمبلی الیکشن کی وجہ سے کیا جارہا ہے۔اب جب کہ الیکشن ختم ہوگیا ہے اور حق رائے دہی کا عمل پورا ہوگیا ہے اب امید ہے کہ ہمارے احتجاج کے بارے میں کوئی غلط بات نہیں کہی جائے گی۔ بلکہ ہماری آواز سنی جائے گی۔انہوں نے کہاکہ 56ویں دن کے اس دھرنے میں ہمیں تمام لوگوں کا ساتھ ملا ہے اور سب کی حمایت حاصل ہوئی ہے۔ یہ دھرنا دراصل صلح کل اور کل مذاہب کے احترام کی علامت بھی رہا ہے اور تمام طبقوں نے یہاں آکر قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف ہمارے موقف کی تائید کی ہے اور اس قانون کو مسلمانوں سے زیادہ ہندوؤں کے لئے خطرناک بتایا ہے خاص کر دلتوں، قبائیلیوں، بنجاروں اور کمزور طبقوں کے لئے جن کے پاس نہ گھر ہے نہ ہی زمین اور نہ ہی کوئی دستاویزات۔ انہوں نے کہاکہ یہ دھرنا ہر طرح کے نشانے پر ہونے کے باوجود ہر روز کچھ نیا کرتا گیا اور تمام طبقوں کو جوڑنے میں کامیاب رہا ہے۔ خواتین مظاہرین نے امید ظاہر کی ہے کہ حکومت ان کی آواز کو ضرور سنے گی اور اس قانون میں جو تفریق ہے اسے ختم کرنے کی کوشش کرے گی۔جامعہ ملیہ اسلامیہ میں قومی شہریت(ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف طلبہ اور عام شہری 24 گھنٹے احتجاج کررہے ہیں۔ الیکشن کمیشن کی درخواست پر مظاہرین نے سات اور آٹھ فروری کو جامعہ کے گیٹ نمبر سات سے مظاہرہ ہٹالیا تھا کل رات سے دوبارہ اسی مقام پر دھرنا شروع ہوگیا ہے اور پوری آب و تاب کے ساتھ جاری ہے۔کل دیر رات مظاہرین سے اظہار یکجہتی کے لئے سابق وزیر سلمان خورشید جامعہ ملیہ اسلامیہ کے مظاہرہ پر پہنچے اور مظاہرین کا حوصلہ بڑھایا۔ اس کے علاوہ دہلی میں قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف خاتون مظاہرین کا دائرہ پھیلتا جارہاہے اور دہلی میں ہی درجنوں جگہ پر خواتین مظاہرہ مسلسل جاری ہے اور اس فہرست میں ہر روز نئی جگہ کا اضافہ ہورہا ہے،نظام الدین میں شیو مندر کے پاس خواتین کامظاہرہ جوش و خروش کے ساتھ جاری ہے جس میں شیو مندر سے بھی مدد لے لی جاتی ہے۔اس کے علاوہ راجستھان کے بھیلواڑہ کے گلن گری میں خواتین کے احتجاج جاری ہے اور وہاں خواتین نے ایک نیا شاہین باغ بناکر احتجاج کرنا شروع کردیا ہے۔اسی طرح راجستھان کے کوٹہ، جے پور اجمیر اور دیگر مقامات پر خواتین کے مظاہرے ہورہے ہیں۔مدھیہ پردیش کے اندورمیں کئی جگہ مظاہرے ہور ہے ہیں۔ اندور میں کنور منڈلی میں خواتین کا زبردست مظاہرہ ہورہا ہے۔ ملک میں اترپردیش قومی شہریت(ترمیمی) قانون، این آر سی، این پی آر کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کے لئے سب سے مخدوش جگہ بن کر ابھری ہے۔ وہاں 19دسمبر کے مظاہرہ کے دوران 22لوگوں کی ہلاکت ہوچکی ہے۔بلیریا گنج (اعظم گڑھ) میں پرامن طریقے سے دھرنا دینے والی خواتین پر پولیس نے حملہ کردیا تھا اور مولانا طاہر مدنی سمیت 20سے زائد خواتین پر ملک سے غداری سمیت کئی دفعات کے تحت مقدمات درج کئے گئے ہیں اس میں ایک نابالغ بھی شامل ہے۔ایف آئی آر، ملک سے غداری کامقدمہ،دھمکی اور دباؤ کے باوجود خواتین گھنٹہ گھر میں اور دیگر مقامات پر مظاہرہ کر رہی ہیں ور ہزاروں کی تعداد میں خواتین نے اپنی موجودگی درج کروارہی ہیں۔ شاہین باغ دہلی کے بعد سب سے زیادہ مظاہرے بہار میں ہورہے ہیں اور ہر روز یہاں ایک نیا شاہین باغ بن رہا ہے دیگر مقامات کے علاوہ ارریہ کے جوگبنی میں بھی خواتین کا مظاہرہ جاری ہے، اسی کے ساتھ مردوں کا مظاہرہ بھی مسلسل ہورہا ہے۔بھاگلپور میں بھی احتجاج شروع ہوگیا ہے۔ سہسرام میں بھائی خاں کے باغ میں 15ویں دن سے دھرنا جاری ہے۔ گیا کے شانتی باغ میں گزشتہ 29دسمبر سے خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔

You may also like

Leave a Comment