24.2 C
نئی دہلی
Image default
تجزیہ

شاہین باغ سے شاہین باغ تک- معصوم مرادآبادی

 

پولیس نے شاہین باغ کے احتجاجی مقام کو کورونا وائرس کے بہانے تہس نہس کردیاہے۔ آ ج اس بے نظیر احتجاج کا 101 واں دن تھا۔ آ ج ہی صبح مرادآباد کی عیدگاہ میں گزشتہ 29 جنوری سے جاری خواتین کے انتہائی کامیاب دھرنے کی جگہ پر بھی بلڈوزر چلا دیا گیا ۔ اس سے ایک دن قبل لکھنؤ کے گھنٹہ گھر اور دیوبند میں جاری جرات مند خواتین کے دھرنے کو بھی ختم کیا گیا تھا۔

یہ سب کارروائیاں کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کی احتیاطی تدابیر کے نام پر کی گئی ہیں۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ حکومت اور اس کی مشینری سیاہ قانون کے خلاف جاری اس موثر تحریک کو ختم کرنے کا بہانا ڈھونڈ رہی تھی چونکہ اس تحریک کے نتیجہ میں پوری دنیا شہریت ترمیمی قانون کی تباہ کاریوں کی طرف متوجہ ہوئی اور اس نے شہریت کو مذہب سے جوڑنے کے فارمولے کو پوری طرح مسترد کردیا۔ یہی وجہ ہے کہ اس قانون سازی کے خلاف سپریم کورٹ میں جو 160 عرضیاں داخل کی گئی ہیں ان میں ایک عرضی اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن نے بھی داخل کی ہے اور خود کو اس میں پارٹی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

شہر یت ترمیمی قانون کے ساتھ ساتھ شاہین باغ پروٹسٹ کا مسئلہ بھی سپریم کورٹ میں زیر سماعت تھا اور احتجاجی خواتین سے مذاکرات کرنے کے لئے سپریم کورٹ نے باضابطہ مذاکرات کار متعین کئے تھے۔ جنہوں نے اپنی رپورٹ عدالت میں پیش کردی تھی۔

حقیقت یہ ہے کہ شاہین باغ کااحتجاج پوری دنیا میں سیاہ قانون کے خلاف مزاحمت کی ایک علامت بن گیا تھا ۔ جس کی قیادت ہماری غیور خواتین کررہی تھیں۔اس احتجاجی تحریک کو بدنام کرنے اور کچلنےکی کوششیں روز اول سے ہورہی تھیں اور شمال مشرقی دہلی کا فساد بھی اس تحریک میں شامل لوگوں کو دہشت زدہ کرنے کے لئے ہی برپاکیا گیا تھا ۔لیکن جان ومال کے اتنے بڑے نقصان کے باوجود لوگ خوفزدہ نہیں ہوئے اور وہ دہلی سے لکھنؤ تک پوری قوت کے ساتھ ڈٹے رہے۔ شاہین باغ کی طرز پر پورے ملک میں دوسو سے زیادہ مقامات پرخواتین کے دھرنے ہوئے اور ان میں سے کئی آ ج بھی چل رہے ہیں۔شاہین باغ میں آ ج کی پولیس کارروائی کے نتیجے میں دھرنے کا سازو سامان ضرور ضائع ہو گیا ہے لیکن اس سے ان لوگوں کے حوصلے نہیں ٹوٹے ہیں جو اس ملک میں ظلم اور ناانصافی کے خلاف جنگ لڑرہے ہیں۔ اس تحریک میں شامل خواتین نے حوصلے نہیں ہارے ہیں اور انھوں نے اپنا احتجاج سوشل میڈیا کے ذریعے جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ ملک میں حالات نارمل ہونے کے بعد یہ تحریک دوبارہ رفتار پکڑے گی ۔شاہین باغ ظلم وناانصافی کے خلاف مزاحمت کی ایک تحریک ہے اور تحریکوں میں کبھی کبھی قدم پیچھے بھی کرنے پڑتے ہیں۔ہمارے وہ مائیں بہنیں اور بیٹیاں مبارکباد اور تحسین کی مستحق ہیں جنہوں نے اس تحریک کو کامیابی سے ہم کنار کیا اور کورونا وائرس کی وجہ سے ہی سہی این پی آر کا پہلا مرحلہ کھٹائی میں پڑ گیا۔

ادھر آ ستم گر ہنر آزمائیں

تو تیر آزما ہم جگر آزمائیں

متعلقہ خبریں

Leave a Comment