شاہین باغ کی دادی ٹائم میگزین کی سو مؤثر شخصیات میں شامل

نئی دہلی:این آرسی ؍سی اے اے کے خلاف احتجاج کا حصہ بننے والی اور شاہین باغ کی دادیوں میں سے ایک بلقیس کو ٹائم میگزین نے اس سال کی سو مؤثر شخصیات میں شامل کیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ این آر سی ؍سی اے اے کے خلاف ملک گیر احتجاج کی شروعات دسمبر کے وسط میں جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ہوئی تھی جس کا دائرہ بتدریج پورے ملک میں پھیل گیا۔ ان احتجاجی مقامات میں سب سے زیادہ شہرت شاہین باغ کو حاصل ہوئی جہاں ہزاروں خواتین رات دن ،سردی اور بارش کی پروا کیے بغیر بیٹھی رہیں اور انھوں نے حکومت کے سامنے ڈٹ کر اپنے موقف کو رکھا۔ شاہین باغ نے ہندوستان کے پچاسوں شہروں کو انسپائر کیا اور اس کے نتیجے میں ملک کے طول و عرض میں سیکڑوں مقامات پر خواتین احتجاجی دھرنوں پر بیٹھیں اور انھوں نے این آر سی ؍سی اے اے کے خلاف اپنے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے اسے واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ شاہین باغ کے دھرنے میں خصوصاً چند طویل العمر خواتین کو غیر معمولی شہرت حاصل ہوئی تھی جنھوں نے چوبیس گھنٹے احتجاج میں شامل رہیں انہی میں سے ایک بیاسی سالہ بلقیس بھی تھیں جنھیں ٹائم میگزین نے دوہزار بیس کی سو مؤثر شخصیات میں شامل کیا ہے۔ معروف صحافی رعنا ایوب نے ٹائم میگزین کے لیے اپنے مضمون میں لکھا ہے‘‘جب سے ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت نے دسمبر میں شہری شہریت ترمیمی قانون منظور کیا تھا ، تب سے وہ وہاں بیٹھی تھیں اورپورے  سردی کے موسم میں یہ سلسلہ جاری رہا۔ بلقیس ایک ایسی قوم میں مزاحمت کی علامت بن گئیں جہاں مودی حکومت کی اکثریت پسندانہ سیاست کے ذریعے منظم طور پر خواتین اور اقلیتوں کی آوازوں کو دبایا جارہا تھا۔ بلقیس نے سماجی کارکنوں اور طلبالیڈرز کو امید اور طاقت دی جنھیں سچائی کے لئے کھڑے ہونے پر سلاخوں کے پیچھے ڈالا جارہا تھا ، انھوں نے ملک بھر میں جاری احتجاجات کو کافی متاثر کیا’’۔