شہیدِ ڈاکٹر مولانا عادل خان صاحبؒ- احمد خورشید صدیقی

استاذ محترم حضرت مولانا ڈاکٹر عادل خان صاحب شہیدِ حرمت صحابہ سے بندے کی سب سے پہلی ملاقات مفتی انور عزیز کے توسط سے ہوئی تھی، آپ نے کوالالمپور میں اپنے صاحبزادے کے ولیمے میں انور بھائی کو اور ان کے ساتھیوں کو (جِن میں بندہ بھی شامل تھا) دعوت دی تھی اور اپنے مزاج کے مطابق محبت اور بہت شفقت سے ملاقات واستقبال کیا تھا، جس وجہ سے میں پہلی ملاقات سے ہی آپ کا گرویدہ ہوگیا تھا۔

ڈاکٹر صاحب شہید جامعہ اسلامیہ عالمیہ مالیزیا میں دینی علوم کے شعبے میں ایسوسئیٹ پروفیسر تھے، بندہ کو آپ سے بطور شاگرد علمی استفادے کا موقع کم ملا ہے، لیکن ﷲ کا کرم ہے متعدد بار آپ کی مجلس میں شریک ہوتا رہا، اور کئی بار آپ کے دفتر میں ملاقات کی غرض سے جانا ہوا تو آپ نے کافی وقت دیا۔
ڈاکٹر صاحب مجھ سے دو وجہ سے خاص تعلق رکھتے تھے ایک یہ ہی کہ میری نسبت دیوبند سے ہے دوم یہ کہ میں حضرت قاری بشیر صدیق مدنی صاحب (جو نصف صدی سے مسجد نبوی میں قراءات عشرہ کے استاذ ومقرئ ہیں) کا شاگرد ہوں، جو ڈاکٹر صاحب اور شیخ المحدثين مولانا سلیم اللہ خان صاحب سے بہت تعلق رکھتے ہیں۔
استاذ محترم کی مجھ پر نوازشوں میں سے ایک یہ ہے کہ کچھ طلبہ ڈاکٹر صاحب سے قرآن کریم کی اجازت کی درخواست کی، آپ نے بندہ سے کہا کہ ان کا قرآن تم سُن لینا، جس کی تجوید وقراءت تمہیں صحیح معلوم ہو اُسے ہم اجازت دے دیں گے. مجھے ہمت نہیں ہوئی کہ اپنے ساتھیوں سے کہوں کہ مجھے قرآن سُناؤ، اس کے بعد ڈاکٹر عادل صاحب اجازت دیں گے، کچھ عرصہ گزر گیا اور ہم طلبہ پھر آپ کے دفتر میں جمع ہوئے، طلبہ نے اجازت کی دوبارہ درخواست کی، تو ڈاکٹر صاحب نے بندے کو دیکھ کر کہا : آپ نے اِن سے ابھی تک قرآن نہیں سُنا؟ میں نے عرض کیا کہ میری ہمت نہیں ہوئی کہ میں اپنے ساتھیوں کا سُنوں اور طے کروں کس کی تلاوت صحیح ہے اور کس کی نہیں.
ڈاکٹر صاحب نے مسکرا کر کہا: اِس میں ہمت نہ ہونے کی کیا وجہ ہے؟ میں نے تمہیں ذمہ داری دی ہے، اور اب ان طلبہ کے سامنے دوبارہ کہ رہا ہوں کہ آپ لوگ احمد کو قرآن سُنائیں، جس کی تلاوت اصول تجوید کے مطابق ہوگی اُسے میری طرف سے اجازت ہے۔

آپ کو ٢٠١٧ میں اپنے والد گرامی شیخ المحدثين حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب کی رحلت کے بعد وفاق المدارس العربیہ بحیثیت رکن رکین بلایا گیا، تو آپ نے مدارس اور اہل مدارس کی خدمت کو ملائشیا کی آرام دہ اور آسائش بھری زندگی پر ترجیح دی اور جانے کا فیصلہ کرلیا تھا، اور دسمبر کی اواخر میں پاکستان کے لیے روانہ ہوگئے تھے۔

استاذ محترم ڈاکٹر صاحب حُسن مزاجی، خوش اخلاقی، نفاست طبعی، وسعت فکری اور علمی گہرائی و گیرائی سے معروف تھے۔ آپ سے ملاقات کے لئے اکثر آپ کے دفتر جانا ہوتا تو خود ہی بہت خوشی کے ساتھ کافی Coffee بناکر دیتے تھے، ہم کچھ طلبہ یونیورسٹی میں دار العلوم دیوبند اور دار العلوم وقف دیوبند کے تھے، اگر ہمارا آپ کے یہاں جانا ہوتا تو طویل نشست ہوتی تھی، آپ اُس مجلس میں اکابر دیوبند کے اور بطور خاص حضرت مولانا قاری طیب صاحب اور حضرت مولانا سالم صاحب (رحمة الله عليهم) کے واقعات سُناتے تھے. حضرت مولانا سالم صاحب کے بارے میں ہنستے ہوئے بتاتے تھے کہ ایک مرتبہ مولانا سالم صاحب کا اپنے والد اور دیگر علماء کی رفاقت میں پاکستان آنا ہوا، ڈاکٹر صاحب کو اُن علمائے گرامی قدر کی خدمت کا شرف حاصل ہوا، آپ ان کی خدمت کرتے تھے، ان کی چائے کا سامان مہیا کرتے تھے، تو جتنی شکر (چینی) دیتے تھے وہ جلد ہی ختم ہوجاتی تھی، تو ڈاکٹر صاحب کو معلوم ہوا کہ حضرت مولانا سالم صاحب چائے میں بہت زیادہ شکر استعمال کرتے ہیں، اس پر ڈاکٹر صاحب نے مولانا سالم صاحب سے کہا: میں نے یہ شکر آپ کے مدت سفر کے لیے دی تھی، آپ نے اسے کچھ ہی دنوں میں نمٹادیا۔یہ بات بتاکر بہت ہنستے تھے۔

جامعہ اسلامیہ عالمیہ ملائشیا کے طلبہ اور اساتذہ میں آپ کی نفاست طبع معروف تھی، آپ کے دفتر میں ہر چیز مرتب ہوتی تھی، میز، کرسی اور کتابیں سب اپنی اپنی جگہ پر ہوا کرتی تھیں، ہر داخل ہونے والا اِس طرح خوشبو محسوس کرتا تھا جس طرح عطر فروش کی دُکان میں محسوس ہوتی ہے۔

ڈاکٹر عادل خان صاحب شہید (رحمة الله عليه) طلبۂ مدارس کے سلسلے میں ہمیشہ فکر مند رہتے تھے، دینی علوم کے ساتھ نئے مسائل سے طلبہ اور علماء کی واقفیت کی تاکید کرتے تھے، یونیورسٹیوں میں پڑھنے، وہاں کے علمی ماحول میں حصہ لینے اور علمی اغلاط کی تصحیح کو طلبہ کے لئے بہت اہم سمجھتے تھے. آپ وہاں کے مدارس کی تعلیمی اور انتظامی ترقی میں اہم رول ادا کررہے تھے، اور قوم کے اتحاد کے لئے مصروفِ فکر وعمل تھے۔

ڈاکٹر صاحب قرآن اور حدیث کی إجازات کے سلسلے میں بہت محتاط تھے، پاکستان واپسی سے پہلے طلبۂ علوم اسلامیہ نے آپ سے اجازت حدیث کے لئے مجلس منعقد کرنے کی درخواست کی، آپ نے کلیہ کی انتظامیہ کو یہ ذمہ داری دی کہ مجلسِ اجازت مناسب موقع پر طے کردی جائے، انتظامیہ نے اجازت حدیث کی مجلس جامع مسجد میں کرنے کا اعلان کردیا، نماز سے فارغ ہوئے تو بہت سے لوگ اُس مجلس میں شریک ہوگئے، تو آپ نے حدیث کی تدوین اور حجیت کے بارے میں بیان کیا اور مجلس ختم کردی، ہم طلبۂ علوم اسلامیہ کو آپ نے اپنے دفتر بلا لیا اور وہاں اجازت مرحمت فرمائی، اور فرمایا کہ مسجد میں اجازت اس لئے نہیں دی کہ وہاں ہر عام وخاص شخص شریکِ مجلس تھا، اب ایسا شخص جسے حدیث اور اصول حدیث کا علم نہیں اُسے کیسے اجازت دی جاسکتی ہے.
قرآن کریم کی صحیح ومجوَّد تلاوت کرنا اور سننا پسند کرتے تھے، اور ایسے عالم سے بہت ناراض ہوتے تھے جس کی تلاوتِ قرآن صحیح اور اصول تجوید کے مطابق نہ ہو۔

انگریزی زبان میں لکھنے اور بولنے پر خوب مہارت تھی، جامعہ اور جامعہ کی مسجد میں آپ کی انگریزی زبان میں خطابت متعدد بار سننے کا موقع ملا، آپ کی انگریزی خطابت کی خصوصیت یہ تھی کہ اُس کا سمجھنا انگریزی کے مبتدئ کے لیے بھی آسان ہوتا تھا اور تقریر اپنے موضوع کے لحاظ سے جامع بھی ہوتی تھی۔
ملائشیا سے پاکستان واپسی سے پہلے 25 دسمبر کرسمس کے دن آپ نے جامع سلطان احمد شاہ میں الوہیت مسیح کے رد میں طویل انگریزی خطاب کیا، جو علمی اور عقلی دلائل سے پھر پور تھا.
ڈاکٹر عادل صاحب بتاتے تھے کہ آپ نے انگریزی زبان دو انگریزی نژاد طلبہ کو قدوری کا انگریزی میں تکرار ومراجعہ کراتے ہوئے سیکھی ہے، اور پھر مشق کرتے رہے حتی کہ آپ کے لیے انگریزی بولنا، لکھنا اور پڑھنا بالکل آسان ہوگیا۔

آپ کی خواہش تھی کہ آپ کی والد کی کتاب كشف الباري شرح صحیح البخاري پر جامع انداز میں تعارفی اور تحقیقی مقالہ لکھا جائے، جس کے ذریعے یونیورسٹیوں میں اس گراں قدر علمی میراث سے استفادہ کا شوق پیدا ہو۔

اپنے والد کی طرح آپ بھی دین اسلام کی خدمت، مدارس اسلامیہ کے تحفظ اور ان کی ترقی کا جذبہ رکھتے تھے، اِس سال محرم کے مہینے میں جب جگہ جگہ اصحاب رسول کی شان میں گستاخیاں کی جارہی تھیں تو آپ نے ناموسِ صحابہ کا بھرپور دفاع کیا، کراچی میں عظمتِ صحابہ کے اجلاس میں اہم کردار ادا کیا، حکومتی اور ملکی اداروں کو مخاطب کیا اور صاف سوالات کیے۔
اور یہ ساری چیزیں وہ ہیں، یہ تمام وہ عظیم کارنامے ہیں جو دشمنانِ اسلام کیلئے ناقابل برداشت تھے، اور اسی وجہ سے آپ کو اپنی جان کی قربانی دینی پڑی، اور آپ اس طرح خونِ شہادت سے رنگے ہوئے اس دار فانی سے دار بقا کہ طرف رحلت فرما گئے. خدا تعالیٰ آپ کی قبر کو منور فرمائیں، اور نبی اکرم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام رضوان اللّٰه عليهم أجمعين کی رفاقت نصیب فرمائیں۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*