شہر کا شہر گلستاں میں امڈ آیا تھا ـ عظیم انجم ہانبھی

اُس نے جُوڑے میں فقط پھول ہی اَٹکایا تھا
شہر کا شہر گُلستاں میں اُمڈ آیا تھا

جیسے دریا کسی کُوزے میں اُنڈیلا جائے
اِس قدر درد اِن آنکھوں میں سِمٹ آیا تھا

کیا کہا، وصل محبت کے لیے لازم ہے؟
کیا کہوں؟ وصل ستانے کے لیے آیا تھا

ایسا حالات نے زخموں سے بھرا میرا وجود
خُوں اُگلنے کے لیے سانس کو مہکایا تھا

کتنی افواہوں نے پھر شہر کے چکر کاٹے
اس سے میں یونہی کوئی بات کرنے آیا تھا

دین کے نام پہ فرقوں میں بٹے تھے ہم سب
پھر ہر اک سمت ہی دہشت کا سماں چھایا تھا

لے کے خنجر مرے پہلو میں جو بیٹھا تھا عظیم
کوئی دشمن نہ تھا وہ میرا ہی ماں جایا تھا

کیوں ہے اُجڑا ہُوا وہ باغِ محبت انجم
"میں تو چشمے کو ابلتا ہوا چھوڑ آیا تھا”

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*