مولانا سید جلال الدین عمری کو شاہ ولی اللہ ایوارڈ کی تفویض ـ ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

آج سہ پہر ایک باوقار آن لائن تقریب میں انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز نئی دہلی کی جانب سے مولانا سید جلال الدین عمری کو چودھواں شاہ ولی اللہ ایوارڈ تفویض کیا گیاـ اس ایوارڈ کا اعلان یوں تو رمضان المبارک سے قبل ہی کردیا گیا تھا ، آج تفویضِ ایوارڈ کی تقریب کا انعقاد کیا گیاـ پہلے فیصلہ کیا گیا تھا کہ یہ تقریب جامعہ ملیہ اسلامیہ ، جامعہ ہمدرد ، انسٹی ٹیوٹ کے مرکزی دفتر یا دہلی کے کسی پرشکوہ آڈیٹوریم میں منعقد کی جائے گی ، لیکن مولانا کی صحت کی خرابی اور کورونا کے پروٹوکول کی وجہ سے اسے آن لائن منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیاـ

انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز نئی دہلی ایک معروف اور باوقار علمی و تحقیقی ادارہ ہےـ اس نے مختلف تہذیبی ، سماجی ، سیاسی ، علمی ، تاریخی موضوعات پر اعلٰی معیار کی تقریباً پانچ سو (500) تحقیقی کتابیں شائع کی ہیں ، دیگر زبانوں کی بہت سی کتابوں کا اردو میں ترجمہ کروایا ہے ، کئی معیاری تحقیقی مجلات وہاں سے شائع ہورہے ہیں ـ وقتاً فوقتاً قومی اور بین الاقوامی سمینار ، سمپوزیم اور ورک شاپس بھی اس کی جانب سے منعقد ہوتے ہیں ـ انسٹی ٹیوٹ نے دو ایوارڈس کا سلسلہ شروع کیا ہے : ایک لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ ، دوسرا شاہ ولی اللہ ایوارڈـ اوّل الذکر ایوارڈ سات (7) اور شاہ ولی اللہ ایوارڈ تیرہ (13) نام ور شخصیات کو دیا جاچکا ہےـ ایوارڈ پانے والوں میں مولانا سید ابو الحسن علی ندوی ، مولانا محمد شہاب الدین ندوی ، پروفیسر محمد نجات اللہ صدیقی ، قاضی مجاہد الاسلام قاسمی ، مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی ، پروفیسر طاہر محمود ، پروفیسر محمد یٰسین مظہر صدیقی ندوی، مولانا تقی الدین ندوی اور پروفیسر عبید اللہ فہد فلاحی خصوصیت سے قابلِ ذکر ہیں ـ ان حضرات کو علوم و فنون کے مختلف میدانوں میں نمایاں خدمات انجام دینے پر ایوارڈ سے نوازا گیا ہےـ اب اکیڈمی کی ایوارڈ کمیٹی نے چودھواں شاہ ولی اللہ ایوارڈ دعوتِ اسلامی کے موضوع پر مولانا سید جلال الدین عمری کو تفویض کیے جانے کا فیصلہ کیاـ

یہ تقریب ڈاکٹر محمد منظور عالم چیئرمین انسٹی ٹیوٹ کی صدارت میں منعقد ہوئی ـ سکریٹری جناب زیڈ ، ایم خاں نے انسٹی ٹیوٹ کی سرگرمیوں کا تعارف کرایاـ مشہور صحافی جناب سہیل انجم نے بہت مقفّی و مرصّع اسلوب میں مولانا عمری کا خاکہ پیش کیاـ جناب نکہت حسین رفیقِ انسٹی ٹیوٹ نے ڈاکٹر محمد منظور عالم چیئرمین انسٹی ٹیوٹ کا تیار کردہ سپاس نامہ پڑھاـ پھر سپاس نامہ ، اعزازیہ (ایک لاکھ روپے چیک کی شکل میں) اور مومنٹو مولانا کی خدمت میں پیش کیے گئے _ اس کے بعد مولانا کو اظہارِ خیال کی دعوت دی گئی ـ مولانا نے اپنی گفتگو میں موجودہ دور میں دعوتِ دین کی ضرورت و اہمیت اور تقاضوں پر روشنی ڈالی ـ انھوں نے فرمایا کہ قرآن مجید میں دعوتِ انبیاء کے ذیل میں ‘لسانِ قوم’ کی اہمیت بیان کی گئی ہےـ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم جن لوگوں کے سامنے اسلام کی دعوت پیش کرنا چاہتے ہیں ان کی زبان ، اسلوب ، رویّوں اور طور طریقوں سے اچھی طرح واقف ہوں ـ اس کے بغیر دعوت کا کام کما حقّہ انجام نہیں دیا جاسکتاـ

انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز نے امسال ‘دعوتِ اسلام اور عصر حاضر کے تقاضے’ کے عنوان پر انعامی مقالہ نگاری کا بھی اعلان کیا تھاـ محترمہ فریدہ حسینی ، ریسرچ اسکالر شعبہ نفسیات ، علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی انعام کی مستحق قرار پائیں ـ انہیں ایوارڈ سے نوازا گیاـ اس کے بعد انھوں نے بھی اپنے تاثرات پیش کیےـ

اس تقریب میں مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ و ناظم دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ ، مولانا خالد سیف اللہ رحمانی ترجمان و جنرل سیکرٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ ، جناب سید سعادت اللہ حسینی امیر جماعت اسلامی ہند ، پروفیسر اختر الواسع صدر مولانا آزاد انسٹی ٹیوٹ جودھ پور اور پروفیسر محمد اشتیاق سابق وائس چانسلر مگدھ یونی ورسٹی کو مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے مدعو کیا گیا تھاـ ان حضرات نے مولانا عمری کی دینی و علمی خدمات کی ستائش کی اور ان کے بارے میں تحسین و توصیف کے کلمات پیش فرمائےـ

آخر میں ڈاکٹر منظور عالم نے صدارتی خطاب کیاـ انھوں نے انسٹی ٹیوٹ کے اغراض و مقاصد اور سرگرمیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ موجودہ دور میں کن میدانوں میں علمی کاموں کی ضرورت ہے ؟ اس سلسلے میں انھوں نے انسٹی ٹیوٹ کے منصوبوں کا بھی تذکرہ کیاـ پروگرام کا خاتمہ پروفیسر افضل وانی وائس چیئرمین مین انسٹی ٹیوٹ کے اظہارِ تشکر پر ہواـ انسٹی ٹیوٹ کے رفیق ڈاکٹر اجمل فاروق ندوی نے نظامت کے فرائض انجام دیےـ انھوں نے بہت خوب صورتی سے پورا پروگرام چلایاـ

انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک اسٹڈیز نے دعوتِ اسلامی کے موضوع پر مولانا سید جلال الدین عمری کو ایوارڈ دے کر اپنی نیک نامی میں اضافہ کیا ہےـ اس پر انسٹی ٹیوٹ مبارک باد کا مستحق ہےـ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مولانا عمری کی خدمات کو شرفِ قبولت بخشے ، ان کا سایہ تا دیر قائم رکھے اور ان کی تحریروں سے بندگانِ خدا کو زیادہ سے زیادہ فیض اٹھانے کی توفیق عطا فرمائے ، آمین یا رب العالمین ـ