شاہ عبدالعزیز پبلک لائبریری میں اسلامی فن نقش نگاری کا دوبارہ احیا

ریاض:سعودی عرب کے دارلحکومت الریاض کی شاہ عبدالعزیز پبلک لائبریری ایک کتاب شائع کرنے کی تیاری کر رہی ہے جس میں اسلامی فن نقش نگاری کے وہ نادر نمونے محفوظ کیے جائیں گے ،جن کا اظہار مختلف مخطوطات، کتابوں اور ڈرائنگز کی شکل میں ملتا ہے۔ شاہ عبدالعزیز پبلک لائبریری میں بڑی تعداد میں مخطوطات اور کتابیں موجود ہیں جن میں اسلامی تاریخ کے اس قدیم فن کے مظاہر بکثرت دیکھنے کو ملتے ہیں۔اس فن کو نقش نگاری کہتے ہیں جس میں خاکوں، نقش ونگار اور تراش خراش سے کام لیا جاتا ہے۔ نقش نگاری آ رٹ میں انتہائی باریک بینی سے ڈرائنگ، متنوع تصاویر اور رسم الخطوط میں رنگ بھرا جاتا ہے۔ حاشیہ اور کتاب کی شکل کی سجاوٹ کا کام کیا جاتا ہے۔اس فن میں دسیوں ماہرین اور خطاط نام کما چکے ہیں۔انھوں نے کتابوں اور مخطوطات کو اس فن سے سجایا۔ ان میں ابن البواب، ابن مقلہ، یاقوت المستعصمی اور دیگر نمایاں نام ہیں۔لائبریری میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے اسلامی فن نقش نگاری کے نادر نمونے، تصاویر اور مخطوطات محفوظ ہیں۔ان آرٹسٹک نمونوں میں سلطان کی ڈرائنگ ( نادر شاہ افشار)، شکاری مہمات کے خاکے، روزمرہ کے معمولات اور کہانیاں شامل ہیں۔ لائبریری میں سائنسی ڈرائنگز، مقامات کے نقشے، نباتات وجانور، مقدس مقامات اور راستوں کی تفصیلات بھی محفوظ ہیں۔ یہاں بڑی تعداد میں ادب، ثقافت، طب، سائنس، اناٹومی اور تعلیمی موضوعات پر کتابیں شائقین کے علم کی پیاس بجھانے کے لئے موجود ہیں۔اسلامی فن نقش نگاری کے مختلف مکاتب فکر ہیں ،جن میں مدرسہ بغداد، مدرسہ العراقیہ، الفارسیہ، التیموریہ اور العثمانیہ نمایاں ہیں۔ مسلمانوں نے فارس، روم سے متاثر ہو کر ان کی ڈرائنگز کو وضاحت کے لیے استعمال کیا ،تاکہ قاری کے ذہن میں معلومات یا اعداد وشمار کے بارے میں اشکال کو دور کیا جا سکے۔فن نقش ونگاری کے نمونے ٹکڑوں اور مخطوطات کی شکل میں ملتے ہیں۔ مطالعہ وتحقیق کرنے والے رنگوں کی ترکیب اور استعمال کی مدد سے فنی مکتبہ فکر کا تعین کرتے ہیں۔اس ضمن میں انسانی خواص، کپڑوں کی تراش، ڈیزائن، رنگ، جانور منی ایچر آرٹ کے نمونوں میں نظر آنے والے مقامات اور پس منظر بھی فنی نمونے کی تحقیق میں مدد دیتے ہیں۔اسلامی فن نقش نگاری کے ماہر فنکاروں نے کتابوں اور مخطوطات میں کئی مضامین، تصاویر اور اشکال پر توجہ مرکوز کیے رکھی۔ نقش نگاری کے بیشتر نمونوں میں گھوڑوں اور گھڑ سواروں کو دکھایا گیا ہے، جس میں وہ ہاتھ میں تلوار یا نیزہ لیے سوار دکھائی دیتے ہیں۔ فنکارانہ انداز میں کی گئی منظر کشی سے گھڑ سوار کی مہارت اور گھوڑے کی چابک دستی کا پتہ چلتا ہے۔ان فن پاروں مختلف سائز، رنگوں اور اقسام کے عربی رسم الخطوط کا بیان بھی ملتا ہے۔ نیز یہ نمونے مختلف سفر، مقامات، شکار اور تیز اندازی کو تجریدی آرٹ میں پیش کرتے ہیں جس نے آگے چل کر سائنس، تاریخ اور متعدد حقائق سے پردہ اٹھانے میں مدد دی۔