شادی کے لیے تبدیلی مذہب:الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلہ میں مداخلت کی ضرورت نہیں:سپریم کورٹ

نئی دہلی:سپریم کورٹ نے الہ آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو چیلینج کرنے والی درخواست کو مسترد کردیا کہ شادی کے لیے تبدیلی مذہب کوبرقرار رکھا جاناچاہیے۔ اس سے متعلق ایک درخواست عدالت میں دائر کی گئی تھی ، جس میں کہا گیا تھا کہ اگر عدالت کسی شخص کو آزادانہ طور پر اپنے مذہب کا انتخاب کرنے کی آزادی نہیں دیتی ہے تویہ آئین کے تحت اس کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔عدالت نے کہاہے کہ پہلے ہی الہ آباد ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ نے سنگل بنچ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیاہے۔ ایسی صورتحال میں ہمیں مداخلت کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی ہے۔ الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے درخواست گزار نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو غلط مثال قرار دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایک رٹ پٹیشن میں ہائی کورٹ کے فیصلے پر روک لگانے کی بھی درخواست کی گئی ہے۔دراصل سپریم کورٹ میں ایک رٹ پٹیشن دائر کی گئی تھی جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ الہ آباد ہائی کورٹ نے شادی کے مقصد سے مذہب کی تبدیلی کو ناقابل قبول قرار دیا ہے۔ مختلف مذہب والے شادی شدہ جوڑے کو پولیس تحفظ نہ دے کر انہوں نے ایک غلط مثال قائم کردی ہے۔