Home نقدوتبصرہ شبیر احمد کا ناول ’ بدروہی ‘ : کچھ باتیں – شکیل رشید

شبیر احمد کا ناول ’ بدروہی ‘ : کچھ باتیں – شکیل رشید

by قندیل

بالآخر شبیر احمد کا ضخیم ناول ’ بدروہی ‘ پڑھ لیا ! بالآخر اس لیے کہ اس قدر ضخیم ناول کا مطالعہ صحافتی ذمہ داریوں کے درمیان آسان نہیں تھا ۔ کولکتہ کے نِواسی شبیر احمد کے اس دوسرے ناول ( پہلا ناول ’ ہجور آما ‘ ہے جسے اب پڑھوں گا ) پر میں کچھ بات کروں ، اس سے پہلے اس کے تعلق سے چند فکشن نگاروں اور نقادوں کی آراء جان لیں ، جو اس کتاب کے اندرونی فلیپ اور بیک کور پر دی گئی ہیں ۔ ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ یافتہ فکشن نگار عبدالصمد ( پٹنہ) لکھتے ہیں ، ’’ شبیر احمد نے ناول ’ بدروہی ‘ بہت اعتماد ، سنجیدگی اور دل جمعی کے ساتھ لکھا ہے ۔ سات سو بیس صفحات کا یہ ناول اتنا گٹھا ہوا اور چست ہے کہ کہیں سے بھی کوئی ڈھیل محسوس نہیں ہوتی ۔ ایسی روانی ہے کہ قاری اس میں ڈوب جاتا ہے ۔ اس میں بے شمار واقعات ہیں ، جن میں اکثر مصدقہ ہیں ۔ ناول نگار نے ان سبھی واقعات کو ناول کے قصے میں اس طرح پرو دیا ہے کہ یہ سبھی ناول کا ناگزیر حصہ بن گیے ہیں ۔‘‘ فکشن نگار اور نقاد سفینہ بیگم ( بنارس) لکھتی ہیں ،’’ ناول نگار نے مرکزی کردار کے توسط سے سیاست ، مذہب ، تہذیب ، سماج ، ادب ، رقص ، موسیقی ، آلات موسیقی ، فلسفہ ، مشترکہ تہذیب ، یکجہتی وغیرہ جیسے امور کو عملی انداز سے ناول کے بیانیہ میں اس طرح سے پرویا ہے کہ اس کا کینوس بہت وسیع ہو گیا ہے ۔‘‘ فکشن نگار اور فکشن کے نبّاض سید کاشف رضا ( کراچی ) لکھتے ہیں ، ’’ ’ بدروہی ‘ ایک بھرپور سماجی ، سیاسی اور رومانی زندگی جیتے ہوئے شاعر اور اس کے عہد کو موضوع بناتا ہے ، جس میں غیر منقسم بنگال کی سماجی ، معاشی اور سیاسی صورتِ حال بہت خوبی کے ساتھ سامنے آتے ہیں ۔‘‘ اور افسانہ و ناول نگار رفاقت حیات ( کراچی ) ، جنہوں نے ناول کا سات صفحات پر مشتمل ’ مقدمہ ‘ تحریر کیا ہے ، لکھتے ہیں ، ’’ اس ناول کا کمال یہ ہے کہ معمولی سے معمولی کردار کو بھی ناول نگار نے اس طرح تخلیق کیا ہے کہ وہ پڑھنے والے پر اپنا اثر چھوڑ جاتا ہے ۔ یہ وصف بہت کم ناولوں میں پایا جاتا ہے ۔‘‘ خلیل مامون ، مشتاق احمد نوری اور عشرت ظہیر کی آراء بھی کتاب کے بیک کور پر دی گئی ہیں جو بالترتیب یہ ہیں ’’ یہ زبان و مکان کے دائرے میں مختلف اور متضاد تہذیبوں کے تصادم کی داستان (ہے ) ‘‘ ، ’’ اس ناول نے ثابت کر دیا ہے کہ اتنے بڑے کینوس پر صرف شبیر احمد ہی لکھ سکتا ہے ‘‘ اور ’’ ( یہ ناول ) گم گشتہ تہذیب اور مٹتے ہوئے نقشِ حیات کی متحرک تصویر ہے ۔‘‘ مجھے ان تمام آراء سے چند اختلافات کے ساتھ اتفاق ہے ۔ پہلے بات اتفاق کی کر لیتے ہیں ۔ یہ ناول بنگال کے معروف ’ باغی ‘ شاعر قاضی نذر الاسلام کی حیات و خدمات پر مبنی ہے ۔ ایک سوانحی ناول کے طور پر ’ بدروہی ‘ یاد رہ جانے والا ہے ۔ حالانکہ مذکورہ ادیبوں کی آراء کی طرح اس کا ہر چھوٹا بڑا کردار یاد نہیں رہ جاتا ، بلکہ کردار تیزی سے آتے اور گز جاتے ہیں ، لیکن نذرعلی کے کردار پر ، اور اس کردار کو ڈیولپ کرنے پر شبیر احمد نے کافی محنت کی ہے ، اور یہ محنت اس ناول کا مثبت پہلو ہے ۔ نذرعلی کا کردار کبھی دکھو کی صورت میں ، کبھی تاراکھیپا کے روپ میں اور کبھی ابنِ فقیر کی شکل میں ہمارے سامنے دھیرے دھیرے کھلتا اور ڈیولپ ہوتا جاتا ہے ۔ اس کی جامع الکمالات شخصیت کھلتی چلی جاتی ہے ۔ شبیر احمد قاضی نذر الاسلام کو ایک باغی کی صورت میں ، ایک شاعر ، صحافی ، موسیقار اور سپاہی کی صورت میں کامیابی کے ساتھ پیش کرتے ہیں ، لیکن ان کا قلم نذرعلی کو ایک عاشق کے روپ میں پیش کرتے ہوئے کمال کرتا ہے ۔ وہ نہ باغی شاعر کی ’ بدکاریوں ‘ کو چھپاتے ہیں ، اور نہ ہی صنفِ نازک کی طرف مائل ہونے اور اپنی جانب مائل کرنے کے عمل کو چھپاتے ہیں ، تمام خامیاں اور خوبیاں دلچسپ انداز میں سامنے لے آتے ہیں ۔ حالانکہ نذر علی ( قاضی نذر الاسلام کا فکشن روپ) کے کمالات متنوع ہیں اور اسے شاعری ، فکشن ، موسیقی ، نغمہ سرائی وغیرہ میں مہارت حاصل ہے ، لیکن ناول میں واقعات اس تیز رفتاری سے آتے ہیں کہ قاری کو یہ سوچنے کا موقعہ ہی نہیں ملتا کہ تمام فنون پر نذر علی کو دسترس کیسے اور کہاں سے حاصل ہوئی ہے ! یہ ایک ضخیم ناول ہے ، بے شمار کردار ہیں ، شاید اسی لیے ہر کردار کو ڈیولپ کرنا ممکن نہ رہا ہو ، لیکن اس کے باوجود یہ ناول پڑھنے والے کو روکتا نہیں ہے ، اس کی ایک وجہ سادا اور سہل زبان کا استعمال ہے ۔ ناول پیش کرنے کا انداز بھی نرالا ہے ، ایک عباپوش ، جو شاید نذر علی کا ضمیر یا اس کا روحانی ہمزاد ہے ، ماضی کی یادیں کرید کرید کر سامنے لاتا اور نذر علی تفصیلات بیان کرتا ہے ، اس طرح واقعات تیزی سے سامنے آتے رہتے ہیں ۔ ناول میں جنگِ عظیم اوّل کی تباہی ، اور ہیضہ کی وبا کی تصویر کشی خوبصورت انداز میں کی گئی ہے ۔ ہیضہ کے مناظر کورونا کی وبا کی یاد دلا دیتے ہیں ۔ رہی بات اختلاف کی تو یہ اس معنیٰ میں ہے کہ یہ ناول جس وسیع پس منظر میں لکھا گیا ہے ، نہ اُس کی تصویر واضح طور پر سامنے آ سکی ہے ، اور نہ ہی جزیات پر جس توجہ کی ضرورت تھی وہ دی گئی ہے ۔ جزیات اور تصویر کشی سے میری مراد باغات ، جھیلیں اور قدرتی مناظر نہیں ہیں ، میری مراد وہ جذبات اور احساسات اور فضا ، اور وہ زبان ہے جو اُس زمانے کے رانی گنج ، کولکتہ اور دیگر مقامات کو قاری کے سامنے لا کر کھڑا کر دے ، اور اس دور یا عہد کی ساری سیاسی ، معاشرتی ، تہذیبی ، ادبی و فرقہ وارانہ فضا اور صورت کو بھی عیاں یا اُجاگر کر دے ، اور ناول کی بنیاد جس تہذیب اور قومی یکجہتی پر رکھی گئی ہے ، اُسے ایک ٹھوس شکل میں پیش بھی کر دے ۔ مجھ سے یہ سوال دریافت کیا جا سکتا ہے کہ مذکورہ ادیبوں نے اپنی آراء میں تہذیب ، سیاست اور ادب وغیرہ کا ذکر کیا ہے – اور جس سے میں نے اتفاق بھی کیا ہے – تو پھر یہ اختلاف کیسا ؟ اس سوال کا جواب کچھ یوں ہے ؛ جیسا کہ اوپر لکھا جا چکا ہے یہ ناول بنگال کے معروف ’ باغی ‘ شاعر قاضی نذر الاسلام کی حیات و خدمات پر مبنی ہے ، اس میں کہیں کہیں رنگ آمیزی کی گئی ہے ، اور یہ کوئی عیب نہیں ہے ، لیکن ہم ناول میں جس بنگال کو دیکھتے ہیں وہ ہمیں قاضی نذر الاسلام کے دور کا بنگال نہیں لگتا ۔ یہ وہ دور تھا جب بنگال میں کئی تحریکیں عروج پر تھیں ، ہندتو کی تحریک ، کمیونسٹ تحریک اور مختلف سیاسی نظریوں پر مبنی تحریکیں ، اور ساتھ ہی ادبی تحریکیں ، لیکن اس ضخیم ناول میں یہ تحریکیں یا تو کہیں نظر نہیں آتیں یا اگر کہیں تحریک کا ذکر ، اور ان پر بحث ہے بھی ، تو یوں کہ تحریکیں عملاً نظر نہیں آتیں ، بس اوپری سطح پر تیرتی رہتی ہیں ۔ جب کمیونسٹ تحریک کا ذکر ہوتا ہے اور لینن و اسٹالن کی بات چلتی ہے ، تو قاضی نذر علی اور مظفر احمد ( جو اپنے دور کے کمیونسٹ تحریک کے روحِ رواں تھے ، اور ایک اچھے ادیب اور صحافی بھی ) میں بحث ہوتی ہے ، اس بحث کے دوران کمیونسٹ تحریک کی خوبیوں اور خامیوں کا ذکر بھی ہوتا ہے ، اور قاری کو بہت کچھ جاننے کا موقعہ بھی ملتا ہے ، لیکن کولکتہ یا پورے بنگال میں اُن دنوں کی کمیونسٹ تحریک کسی ٹھوس شکل میں سامنے نہیں آپاتی ۔ مزید یوں محسوس ہوتا ہے کہ نذر علی جو کچھ بھی کہہ رہا ہے ، وہ سب اس کی نہیں ، ناول نگار کی آراء ہیں ۔ اسی طرح جب بنکم چٹوپادھیائے اور ان کے ناول ’ آنند مٹھ ‘ اور اس حوالے سے ’ بندے ماترم ‘ اور ’ جگانتر ‘ کا ذکر ہوتا ہے ، اور نذرعلی نبارن بابو سےبحث کرتا ہے ، تب بھی جو معلومات سامنے آتی ہیں ، وہ نذرعلی کی نہ ہو کر ناول نگار کی محسوس ہوتی ہیں ، اور مغربی بنگال میں فرقہ وارانہ صورتِ حال کی کوئی صورت سامنے نہیں آ پاتی ۔ یہ وہ دور تھا جب شیاما پرساد مکھرجی اور ہیڈگیوار بھی کولکتہ میں تھے ، اور ہندتو کی تحریک پنپ رہی تھی ، کولکتہ میں بہت کچھ ہو رہا تھا ، لیکن ہم تک وہ سب پہنچ نہیں پاتا ۔ ناول میں خلافت تحریک پر بھی بحث ہے ، اور کانگریس ، مسلم لیگ ، محمد علی جناح ، گاندھی جی وغیرہ پر بھی بات کی گئی ہے ، لیکن بالکل اسی طرح جیسے کہ مذکورہ معاملات میں ۔ خلافت کے بارے میں ایک اقتباس ملاحظہ کریں ؛ ’’ خلیفہ ، کیسا خلیفہ ؟ وہ لوگ تو مطلق العنان بادشاہ تھے ۔ اور بادشاہ بننے کا ان پر ایسا خبط سوار ہوتا تھا کہ اپنے بھائیوں کو ہی قتل کر دیتے تاکہ اپنی کرسی سلامت رہے ۔ خلیفہ تو زمین پر خدا کا نائب ہوتا ہے ۔ مگر یہ لوگ تو اپنے بھائیوں کے قاتل تھے ۔ غور کیجیے اگر واقعی نائب ہوتے تو اللہ تعالیٰ ان کی حکومت کو یوں اکھڑنے دیتا ۔ پتا نہیں یہ لوگ خلافت کے نام پر شہنشاہیت کو کیوں بچانا چاہتے ہیں ۔ انہیں تو ترکی کے عوام کو بچانا چاہیے ۔ شہنشاہیت کے خلاف چل رہی تحریکِ آزادی کا ساتھ دینا چاہیے ۔ برطانیہ پر اس بات کا دباؤ دینا چاہیے کہ وہ ترکی میں جمہوریت کو بحال کرے ۔‘‘ اس اقتباس میں جو دلائل پیش کیے گیے ہیں اُن پر کوئی بات نہیں کہنی ، بس بتانا یہ مقصود ہے کہ بحثیں جو بھی کی گئی ہیں وہ طول طویل ہیں ، اور اکثر قاری انہیں پڑھتے ہوئے اکتا سکتے ہیں ، ان کا انداز معلومات دینے جیسا ہے ، کہیں کہیں ناصحانہ انداز بھی ہے ، اور یہ ساری بحثیں نذرعلی کی نہیں لگتیں ، لگتا یہی ہے کہ ناول نگار اپنے دل کی باتیں کر رہا ہے ۔ یہ بحثیں ناول کا مکمل حصہ نہیں بن سکی ہیں ۔ کولکتہ کے ادبی ماحول کا کچھ ذکر ہے ، اس حوالے سے وحشت کلکتوی کا ذکر بھی آیا ہے ، اور ٹیگور گھرانے کا بھی ، لیکن سچ کہیں تو اُن دنوں کولکتہ کا جو ادبی ماحول تھا ، وہ ابھر کر سامنے نہیں آ سکا ہے ، جبکہ یہ ضروری تھا کیونکہ یہ ناول ایک شاعر اور ادیب ہی کے بارے میں ہے ۔ ناول میں نذر علی کی علامہ اقبالؔ اور مولانا ابوالکلام آزاد سے ملاقات کا بھی ذکر ہے ، لیکن دونوں ملاقاتوں کی تفصیل کچھ اس انداز میں دی گئی ہے ، جیسے کہ نذرعلی دونوں عظیم شخصیات کے مقابلے میں ’ برتر ‘ ہوں ۔ مولانا ابوالکلام آزاد سے دو ملاقاتوں کا ذکر ہے ، ایک رانچی میں اور ایک کولکتہ میں ۔ رانچی کی ملاقات میں مولانا آزاد نذرعلی کو ایک شعر سناتے ہیں ، پہلے مصرعے پر تعریف پاتے ہیں ، لیکن دوسرے مصرعے پر تنقید سُنتے ہیں ، اقتباس ملاحظہ کریں ؛ ’’ دوسرا مصرعہ سُنتے ہی دکھو ( نذرعلی ) کے چہرے پر چھائی شگفتگی ہوا ہو گئی ۔ اس کا حال دیکھ کر فیروز بخت ( مولانا آزاد ) کی مسکراہٹ بھی کافور ہو گئی ۔ تشویش ناک انداز میں پوچھا ، ’’ کیا ہوا میاں ، دوسرا مصرعہ سُنتے ہی تمہاری کیفیت کیوں بدل گئی ؟‘‘ دکھو نے کہا ، ’’ مولانا صاحب ، مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ دوسرا مصرعہ پہلے مصرعے کا گلا گھونٹ رہا ہے ۔ یہ شعر کسی کہنہ مشق کا نہیں ہو سکتا ۔ کسی نو سیکھیے کا ہے ۔ جو اٹھا تو ایک طوفان کی طرح تھا مگر …. خیر جانے دیجیے ۔‘‘ فیروز بخت نے سمجھ لیا کہ لڑکا کیا کہنا چاہتا ہے ۔ وہ اس نوعمر کی خود اعتمادی دیکھ کر دنگ رہ گیے ۔ اندر ہی اندر سلگ اٹھے مگر خود کو سنبھالے رکھا ۔‘‘ اب ایک اقتباس کولکتہ کی ملاقات کا ملاحظہ کریں ؛ ’’ مولانا نے قصداً اپنا شعر نہیں پڑھا ۔ یا یوں کہیے کہ نذرعلی کے سامنے اپنا شعر

پڑھنے کی جسارت نہیں کر سکے ۔ گزشتہ ملاقات میں اس بارے میں جو تجربہ ہوا تھا وہ انہیں اب تک نہیں بھلا پائے تھے ۔‘‘ لاہور میں علامہ اقبالؔؔ سے ملاقات کا ذکر ہے ، جس میں علامہ ٹیگور کو عظیم شاعر کہتے نظر آتے ہیں ۔ ممکن ہے کہ نذرعلی نے واقعی مولانا آزاد کی گرفت کی ہو ، اور علامہ اقبال کے دل میں ٹیگور کی عظمت راسخ کی ہو ۔ لیکن ممکن یہ بھی ہے کہ یہ سارے واقعات غیر مصدقہ ہوں ، ناول نگار کی اختراع ہوں ۔ ایسے ہی مزید واقعات ہیں جو ناول کو دلچسپ تو بناتے ہیں ، لیکن اسے قدرے متنازعہ بھی بنا دیتے ہیں ، کم ازکم ان کی نظر میں جن کی آئیڈئیل شخصیات نذرعلی کے سامنے مجروح نظر آتی ہیں ، جیسے مولانا آزاد ، سرسید احمد خان اور اقبالؔ

۔ اس ناول کا ایک حصہ مزید شائع ہوگا ، یقین ہے کہ اس حصے میں بہت ساری ادھوری باتیں کُھلیں گی ، الجھنیں رفع ہوں گی ، اور باغی شاعر کا کردار اور واضح ہوکر سامنے آئے گا ۔ شبیر احمد کو مبارک ہو کہ انہوں نے ’ سوانحی ناول ‘ لکھنے کی طرف توجہ دی ، یہ آسان صنف نہیں ہے ۔ یقین ہے کہ مستقبل میں وہ مزید بہترین ناول دیں گے ۔ یہ ناول حاصل کرنے کے لیے رابطہ کا موبائل نمبر ہے 8961491731 / 9903890289 ممبئی میں یہ ناول مکتبہ جامعہ : رابطہ نمبر 8108307322 ، اور کتاب دار : رابطہ نمبر 9869321477سے حاصل کیا جا سکتا ہے ۔ کتاب کا انتساب جناب قیصر شمیم مرحوم کے نام ہے ۔ قیمت 800 روپے ہے ۔

You may also like