شب آویز:قمر صدیقی کی شعری کائنات ـ شکیل رشید

قمر صدیقی کئی دنیاؤں میں جیتے ہیں !
یہاں ‘جیتے ہیں سے مراد ان کی تخلیقی بوقلمونی، تخلیق کے الگ الگ دھاروں پر ان کا بہتے چلے جانا ہے ۔ یہ دھارے مختلف رنگ اور آہنگ لیے ہوئے ہیں ۔ لیکن بظاہر الگ الگ رنگ اور آہنگ کے یہ دھارے ایک ہی منبع سے پھوٹے ہیں اس لیے یہ بباطن ایک ہی ہیں ۔ آسان لفظوں میں کہیں تو یہ کہ قمر صدیقی کی دنیاؤں کا منبع ایک ہی ہے، ایک ایسی کائنات جس میں ان کی تمام دنیائیں سما گئی ہیں ۔ اور یہ کائنات ان کی شاعری ہے ۔ اسے ان کی شعری کائنات بھی کہا جا سکتا ہے ۔ ان کے پہلے شعری مجموعے ’شب آویز‘ کی پہلی قرآت سے فوری احساس یہ ہوا کہ ان کی شاعری ان کے دیگر کاموں سے کتنی مختلف، کتنی الگ رنگ اور آہنگ کی ہے ۔ مگر قرآت مکرر سے، پہلے والے احساس کے ساتھ ساتھ یہ احساس بھی پوری شدت سے ابھر آیا کہ قمر صدیقی کی اس شعری کائنات کی پرچھائیاں تو ان کے دوسرے کاموں پر پڑ رہی ہیں ۔ سب کا رنگ اور آہنگ ایک ہی ہے ۔ اصل تو یہی ہے، باقی سب اس کا پرتو ہیں ۔
قمر صدیقی ایک استاذ ہیں، مدیر ہیں، ایک نثرنگار ہیں ۔ استاذ کی حیثیت سے اردو ادب کی قدیم و جدید روایات پر بھی نظر رکھتے ہیں اور جدید ترین عالمی ادبی رویوں پر بھی ۔ قدیم اور جدید ادبی رویوں اور روایات کے امتزاج سے انہوں نے اپنے ادبی رویے کی آبیاری کی ہے اور ایسا کرتے ہوئےانہوں نے نہ آنکھیں موند کر پرانی قدروں کی تقلید کی ہے اور نہ ہی سوچے سمجھے بغیر جدید عالمی ادبی رویوں کا دامن تھاما یا چھوڑا ہے ۔ قمر صدیقی نے مذکورہ ادبی رویوں کی تمام نہ سہی بیشتر مثبت قدریں اپنے ادبی رویے میں ضم کر لی ہیں اسی لیے ان کی تخلیقات کا مطالعہ کرتے ہوئے اکثر لوگ اس کشمکش میں پڑ سکتے ہیں کہ وہ جو پڑھ رہے ہیں اسے کیا سمجھیں، قدیم کہ جدید؟ یہ سوال ان کی نثر پڑھ کر مزید شدت سے سامنے آتا ہے کیونکہ چاہے وہ تنقید کررہے ہوں کہ تحقیق یاکسی اور نثری صنف میں لکھ رہےہوں،بدلتے ہوئے سماج،گلوبلائزیشن،نئی دنیا، صارفیت اور نئے عالمی نظام کے حوالے سے اپنی بات سامنے رکھتے ہیں ۔
تمہید کچھ طویل ہوگئی ہے لیکن یہ طوالت یہ بتانے کے لیے ضروری تھی کہ قمر صدیقی کا ہر رنگ، ہر آہنگ کا ایک ہی منبع ہے ۔ سب کا اصل ان کی شعری کائنات ہے ۔ قمر صدیقی کا مجموعہ کلام ‘ ’شب آویز ‘جیسا کہ اوپر لکھا گیا ہے پہلی قرآت میں مختلف، نئے رنگ اور نئے آہنگ کا لگا، بالکل اپنے نام کی طرح، لیکن دوسری قرآت میں اس کی مزید پرتیں کھلیں اور شاعر کی لفظیات، تشبیہات، استعارات نے اس دنیا کی سیر کرائی جہاں نئے رنگ اور نئے آہنگ کے ساتھ ساتھ قدیم اور جدید کا وہ امتزاج نظر آتا ہے جو قمر صدیقی کی شاعری کے ڈکشن (طرز کلام) کو دوسروں سے منفرد کرتا ہے ۔ خیال کو خلوص کے ساتھ شعر میں ڈھالنے کا جذبہ اور اس جذبے کی شدت سے پھوٹنے والی امیجری اور امیجری کو جیتے جاگتے شعر میں تبدیل کرنے میں کامیابی، اور اس کے نتیجے میں قلم سے کاغذ پر اترنے والا سبک، رواں اور پراثر کلام جو سیدھے جاکر دل سے ٹکراتا ہے ۔ قمر صدیقی کے کلام کا دل سے ٹکرانا یا بالفاظ دیگر کلام کا دل پر اثر کرنا ہی ان کی شعری کائنات کی انفرادیت کا ثبوت ہے کہ دل ہی سارے جذبات کا مرکز ہے ۔ وہ شاعری جو دماغ سے سمجھی جاتی ہو، چیستاں ہوتی ہے، معمہ ۔ دل جس پر دھڑک اٹھے شاعری اسی کو کہتے ہیں ۔ دل سے ٹکرانے والے چند اشعار ملاحظہ کریں :

کیا کیا چہرے ہیں آنکھوں میں شکلیں کیا کیا ذہن میں ہیں
یادیں گویا البم ہیں اور البم میں تصویر بہت

اور اس نے ڈھونڈ لیا کوئی سائبان نیا
تمام رات میں ہی بھیگتا رہا اب کے

حادثے جیسے ہیں سب دیکھے ہوئے سوچے ہوئے
کوئی حیرانی نہیں اب آنکھ اور منظر کے بیچ

پرانے رشتے نہ جانے کب سے کھنڈر کی صورت کھڑے ہوئے ہیں
کہیں سے کوئی نکل ہی آئے ذرا ٹہر کر پکار دیکھوں

ہر ایک موڑ پہ میں پوچھتا ہوں اُس کا پتہ
ہر ایک شخص یہ کہتا ہے بس وہاں آگے

یہ اور ایسے ہی متعدد اشعار ہیں جن کی سادگی اور بے ساختہ پن اور زبان کا خوبصورت استعمال، انہیں دوہرانے یا بار بار کے پڑھنے کا تقاضہ کرتا ہے ۔ یہ اشعار اپنے اندر نئے رنگ اور نئے آہنگ کے ساتھ قدیم روایات کو سموئے ہوئے ہیں ۔ رشتوں کی شکست و ریخت کے لیے کھنڈر کی نادر تشبیہ ہمارے سامنے ایک ایسی تصویر کھینچتی ہے جس میں ہمیں اپنے پرائے نظر آنے لگتے ہیں اور شاعر کا ذاتی تجربہ اپنا یعنی اجتماعی تجربہ لگنے لگتا ہے ۔ اور پکار سننے کی امید باندھنا ہمارے سامنے شاعر کا وہ چہرہ لے آتا ہے جس پر بیتے ہوئے، پر مسرت دنوں کو پھر سے جینے کی حسرت صاف نظر آتی ہے اورہم اپنے چہروں کو دیکھنے پر مجبور ہوجاتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ کیا ہم میں، شکست و ریخت کے بعد، شاعر کی طرح کوئی امید بچی ہے ! شاعر کے ذاتی تجربات ہمارے اپنے، اجتماعی تجربات میں تبدیل ہوجاتے ہیں ۔ اور پھر یہ شاعری نئے رنگ اور نئے آہنگ کے باوجود پرائی نہیں لگتی، اجتماعی لگتی ہے ۔ مذکورہ تمام اشعار دل کولگتے ہیں، اس لیے کہ ان میں ہمیں اپنے چہرے نظر آتے ہیں ۔
قمر صدیقی ’عرضِ شاعر‘کے تحت لکھتے ہیں :’ ‘ آج ہم تغیر و تبدل کے سیلاب میں بہے جا رہے ہیں ۔ جنس اورعشق، حیات اور موت، انسان اور کائنات، فرد اور سماج کے بدلتے رشتوں کے درمیان انسان روحانی زندگی سے عاری جدید سماج کا ایسا مہاجر بن گیا ہے جس کی جڑیں نہیں ہیں ۔ اب ہم بھیڑ یا ہجوم سے الگ نہیں رہ سکتے لہذا تنہائی کی لذت کے بجائے تنہائی کی دہشت میں جی رہے ہیں ۔ ادب خصوصاً شاعری دراصل تنہائی کی لذت اور تنہائی کی دہشت کے درمیان توازن قائم کرتی ہے، میں نے بھی اپنی شاعری کے ذریعے تنہائی کی اس دہشت اور لذت کے درمیان توازن قائم کرنے کی مقدور بھر کوشش کی ہے ‘۔‘
یہ جو دہشت اور لذت کے درمیان کے توازن کی بات ہے وہی قمر صدیقی کا حقیقی ادبی رویہ ہے ۔ وہ جذبات میں بہتے نہیں ہیں، اور سماج کی بدصورت تصاویر دکھاتے ہوئے بھی اعتدال قائم رکھتے ہیں ۔ لیکن اس کا مطلب یہ بالکل نہیں ہے کہ وہ آئینہ دکھاتے ہوئے داغ اور دھبوں کو مدھم کر دیتے ہیں ۔ دیکھیں آج کی سچائیاں انہوں نے کس خوبی سے اپنے شعروں میں سمو لی ہیں :
یہ کس نے فضا میں زہر بھرا، ہے چاروں طرف نفرت کی گھٹا
وہ میل ملاپ کے اجلے دن اب دیوانے کا خواب ہوئے
کیا ملک کی حالت ہے مصروف سیاست ہے
آنگن میں ہمارے پھر دیوار اٹھانے میں
پھر وہی خانہ برباد ہمارے لیے ہے
شہرِغرناطہ و بغداد ہمارے لیے ہے
ایک یہ تاریخ ہے پڑھتے ہیں جس کو آج ہم
ایک الگ تاریخ بھی ہے رام کے بابر کے بیچ
تنہائی کی دہشت اور تنہائی کی لذت قمر صدیقی کے شعری کائنات کے اہم موضوع ہیں ۔ نواحِ جاں ، سائبان، بدن، زندگی، حیات وغیرہ ان کی پسندیدہ لفظیات ہیں ۔ ان موضوعات اور لفظیات کے گرد قمر صدیقی کی شاعری گردش کرتی ہے لیکن انہیں برتتے ہوئے کبھی کبھی یوں لگتا ہے جیسے شاعر مایوس ہو چکا ہے، یاس اور بے بسی نے اسے اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔
شاید اسی احساس کے سبب کچھ لوگوں کو قمر صدیقی کی شاعری یاس اور غم کی شاعری لگتی ہے، مثلاً ان اشعار کو ملاحظ کریں :
ہر ایک لمحہ میں قید سوچوں نفس نفس بس مہار دیکھوں
میں اپنے اندر کبھی جو جھانکوں حصارِ اندر حصار دیکھوں
چار جانب سرسراتے رینگتے سانپوں کا خوف
کس جگہ میں پاؤں رکھوں ہر طرف پھنکار ہے
بسی ہے مجھ میں یگوں سے عجیب ویرانی
بدن سے روح تلک بے کراں خلا ہوں میں
اوپر سے دل کے زخم کو مرہم نے بھر دیا
اندر سے کیفیت تو مگر ماتمی رہی
لیکن ان اشعار کی بنیاد پر قمر صدیقی کی شاعری کو یاس اور غم کی شاعری قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ ان کے کُل شعری کائنات میں یاس کے لمحات بہت ہی مختصر ہیں، ہوا کی طرح سر سے آتے اور گزر جاتے ہیں، اور پھر جو شعر ان کے قلم سے نکلتے ہیں ان میں جدوجہد اور ٹکرانے کا، جینے کا اور آگے بڑھنے کا عزم ہوتا ہے :
ہر روز نئی جنگ ہے ہر روز نئی جہد
کب اپنے مقابل کوئی لشکر نہیں ہوتا

کارزارِ دہر میں کیا نصرت و غم دیکھنا
ایک بس اپنا علم اور اپنا پرچم دیکھنا
قمر صدیقی لفظوں کو نئے نئے ڈھنگ سے برتتے بھی ہیں اور کبھی کبھی لفظوں سے کھیلتے بھی ہیں، جیسے :
ہمارے خواب کوئی اور دیکھ لیتا ہے
ہماری آنکھ ، خلا ، انتظار ، سنُاٹا

دشمن وشمن نیزہ ویزہ خنجر ونجر کیا
عشق کے آگے مات ہے سب کی لشکر وشکر کیا

اپنی تھکن ہے برسوں کی سو اس کا بچھونا خاک
چادر وادر تکیہ وکیہ بستر وستر کیا
اور یہ خوبصورت شعر :
اشک بھرے ہیں نین کٹورے غم کی لذت یار نہ پوچھ
عشق نگر کے مہمانوں کی خاطر کیا جل پان ملا
مجموعہ کلام مختصر ہے، 112 صفحات پر مشتمل ۔ شاعر کے اپنے الفاظ میں ‘ ’پچیس برسوں کے شعری سفر کا ایک سخت انتخاب‘ صرف 55 غزلیں ۔ لیکن شاعری ایسی جو دل کو لگے ۔ اس مجموعے میں دو حمد اور دو ہی نعت ہیں، خوبصورت، جیسے کہ ان کا حق ہے ۔ چاروں سے ایک ایک شعر ملاحظہ کریں :

ہے نفی نفی ازل اور ابد بھی میرا نفی
ہے میری ذات صفر لا آلہ اللہ
پھر ہوا شوخ موج طوفانی
پھر سفر بادبان دے اللہ
ہر درد با دوا ہے، ہر زخم با شفا ہے
شافع میرے محمدؐ درماں میرے محمدؐ
بہت ہی بخت والی چشم ہیں سارے صحابہؓ کی
کہ جن کا دید منظر ہے رسول ؐپاک کا چہرہ
اس مجموعے میں قمر صدیقی کی 12 نظمیں بھی شامل ہیں، آج کی نظمیں ۔ ذاتی، ہماری اور دہشت کی نظمیں ۔ پہلی نظم کا عنوان ہے ’ٹی وی کلچر کے نام‘ ۔ یہ نظم خوبصورت انداز میں بتاتی ہے کہ ہم نے آنکھیں گروی رکھ کر، سوچ، فکر اور رشتوں کے زیور، گہنے اور گہر بیچ کر آنکھ کی مستی خریدی ہے اور اب ہماراکچھ بھی نہیں ہے ۔ نظم ‘جیون کیا ہے، میں آگ، ہوا، پانی اور مٹی کا فلسفہ یعنی زندگی کا فلسفہ ہے ۔ نظم’ ورچوئل ریالیٹی ‘میں غیر حقیقی تبدیلی کی تصویر ہے ۔ انجیر، تلسی، برگد اور پیپل ان چار نظموں کو ایک ہی سلسلے کی نظمیں کہا جا سکتا ہے ۔ شاعر انجیر اور زیتون کو سبز ڈبوں میں بند رکھنے سے دکھی ہے، اسے گلہ ہے کہ اب تلسی کا پودا نظر نہیں آتا، پیپل اور برگد اپنی باتیں اور قصے نہیں بتاتے، نہیںسناتے کہ ان کے پاس ان کی اپنی کوئی ویب سائٹ نہیں ہے ۔ انسان کیسی کیسی نعمتوں سے محروم ہو رہا ہے ۔ نانی اور دادی کی وفات پر دو پراثر نظمیں ہیں :
تجھ کو کھو کر کیا کیا کھونے والا میں
رو ہی پڑا ہوں آج نہ رونے والا میں
ایک نظم ’ عصرِحاضر‘ کے عنوان سے ہے، آج کی نظم :
ہمیں یہ حکم ہوا ہے کہ دن کو رات کہیں
اجالے چھوڑ کر اب تیرگی کی بات کہیں
ہمیں یہ حکم ہوا ہے کہ سچ نہ بولیں اب
خموشی اوڑھ لیں اپنی زباں نہ کھولیں اب
ہمیں یہ حکم ہوا ہے کہ جس نے ظلم کیا
اسے پکاریں مسیحا و چارہ گر کہہ کے
یہ نظم جیسے جیسے آگے بڑھتی ہے تاثیر میں شدت آتی جاتی ہے، یہ ظام کو نمرود، راون، انسانیت کا دشمن، فرعون اور قہر و بلا قرار دیتے ہوئے آگے بڑھتی ہے، اور اس کا انجام خوف سے نجات اور عزم و حوصلے پر ہوتا ہے، جس کی آج ہم سب کو ضرورت ہے ۔
وہ ایک شخص کہ جس سے ہیں لوگ خوف زدہ
یہ خوف اور یہ دہشت، یہ حبس کا عالم
لگائیں جوش سے لبریز پھر سے نعرے ہم
جگائیں سوئے ہوئے حوصلوں کو سب کے ہم
اس مجموعے کا نام ’شب آویز‘ ہے ۔ کہتے ہیں کہ یہ ایک ایسے پرندے کا نام ہے جو اپنے پنجے کے سہارے درخت سے لٹک جاتا ہے اور حق حق کہتا ہے، واللہ اعلم ! اس مجموعے کو یہ نام کیوں دیا گیا، اس سوال کا جواب شاید یہ ہے کہ یہ مجموعہ کسی ‘شب آویز کی طرح حق کو، اس کے تمام رنگوں، سیاہ، سفید، زعفرانی سمیت اجاگر کرتا ہے، چھپاتا نہیں ہے ۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ قمر صدیقی نے یہ نام کسی اور معنیٰ میں استعمال کیا ہو، کوئی ایسا معنیٰ جو میری پہنچ سے دور ہو ۔ آخری بات : مجموعہ کا سرورق جواں مرگ مرحوم ڈاکٹر ریحان انصاری کا بنایا ہوا ہے، جو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کیسے ہیرے کو ہم نے کھو دیا ہے ۔ اللہ ان کی مغفرت فرمائے آمین ۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*