شب آویز: ڈھونڈیئے عکسِ قمرؔ رات کے آئینے میں ـ شیخ حسینہ جاوید

(ریسرچ اسکالر شعبۂ اردو، ممبئی یونیورسٹی)

اردو دنیا میں ڈاکٹر قمر صدیقی کی شخصیت کی کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔ وہ ایک مقبول شاعر ، مقرر ، ممتاز ادبی جریدہ ’’اردو چینل‘‘ کے مدیر اور ایک اچھے نقاد ہیں۔ ڈاکٹر قمر صدیقی کا پہلا شعری مجموعہ ’’شب آویز‘‘ اپنے نام کی ندرت اور شاعری کے منفرد اندازِ بیان کی وجہ سے اردو حلقوں میں داد و تحسین حاصل کر رہا ہے۔
ڈاکٹر قمر صدیقی نے اپنی شاعری میں جذبات و احساسات کی سچائی کو ظاہری خوبصورتی اور بے جا رنگینی کے بجائے سادہ ، سلیس اور رواں زبان میں پیش کیا ہے۔ یہی اچھی اور سچی شاعری کی بنیادی خصوصیت ہے ۔ کیونکہ سادگی اور روانی شاعری کو خاص و عام میں مقبول بناتی ہے۔ قمر صدیقی کی شاعری کی مقبولیت میں یہی وصف کارفرما ہے۔
’’شب آویز‘‘ اُس خیالی پرندے کو کہتے ہیں جو ’حق حق‘ کی صدا بلند کرتا ہے۔ اس لحاظ سے ’شب آویز‘ کا عنوان اس شعری مجموعے کے لیے مناسب معلوم ہوتا ہے۔ کیونکہ قمر صدیقی کی شاعری معاصر زندگی کی الجھنوں اور حق و باطل کی کشمکش سے عبارت ہے۔ مثال کے طور پر یہ اشعار دیکھیں:
مسلسل الجھنوں میں گھر رہے ہیں
یہ کس جنگل میں ہم سب پھر رہے ہیں
ہر روز نئی جنگ ہے ہر روز نئی جہد
کب اپنے مقابل کوئی لشکر نہیں ہوتا
کیا ملک کی حالت ہے مصروف سیاست ہے
آنگن میں ہمارے پھر دیوار اٹھانے میں
یہ جھوٹ ہے کہ یہاں سچ کی حکمرانی ہے
ہم ایسے جھوٹ سے انکار کیوں نہیں کرتے
حالات کا محض بیان یا مشکلات وآلام پر کُڑھنا ہی شاعر کا کام نہیں ہے۔ بلکہ اچھی شاعری کے بیشترنمونے مشکل حالات سے نبردآزمائی سے عبارت ہیں۔ قمر صدیقی بھی نہ صرف مشکلات کو بیان کرتے ہیں بلکہ جرأت مندی کے ساتھ ان کا مقابلہ کرنے کے لیے برسرپیکار نظر آتے ہیں۔ ان کی شاعری میں متوقع حادثات کی طرف اشارہ بھی ملتا ہے، جس کے لیے جدید دور کے انسان کو ہمہ وقت تیار رہنا چاہیے:
اب خوف نہیں آتا دنیا کے رویے سے
آنکھوں سے شرر برسے یا ماتھے پہ بل آئے
حادثے جیسے ہیں سب سوچے ہوئے دیکھے ہوئے
کوئی حیرانی نہیں اب آنکھ اور منظر کے بیچ
ڈاکٹر قمر صدیقی نے ہمیں کلاس میں پڑھایا تھا کہ’’ یہ حقیقت کا نہیں حقیقت کے التباس کا دور ہے‘‘۔ اُس وقت زیادہ کچھ سمجھ میں نہیں آیا تھا لیکن آج اُن کی کہی وہ بات پوری طرح سمجھ میں آرہی ہے۔ آج جب ہر شخص نے حقیقی دنیا سے الگ ایک مجازی یعنی ورچوئل دنیا میںخود کو گُم کرلیاہے، اور کبھی تھک کر لمحہ بھر کو جب لوگ سر اٹھا کر دیکھتے ہیں، تو اپنے اطراف انھیں مشینوں کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا۔ ایسے لمحات میں وحشت کے صحرا سے جب انسان کا دل گھبرا جاتا ہے تو قمر صدیقی کا یہ شعر دل کو ڈھارس اور دلاسا دیتا ہے:
کیا کیا چہرے ہیں آنکھوں میں شکلیں کیا کیا ذہن میں ہیں
یادیں گویا البم ہیں اور البم میں تصویر بہت
اسی طرح نظم ’’دادی کی وفات پر‘‘یہ مصرعے بھی ملاحظہ کیجیے:
یہ عالم چار سو ہے
اور یہ تمہارے جیسے نیک انساں
سبھی کے خوف کا درماں
کہ جس کو دیکھ کر امید زندہ تھی
پلٹ آئے ہیں بالآخر
مرے یادوں کے البم میں
اس ہنگامی دور میں ہم اپنی شناخت کھو بیٹھے ہیں۔ ہمارے شب و روز کی مصروفیات نے ، ہمیں اپنے منصب سے دور کر دیا ہے۔ ترقی کی شاہراہ پر ہم ایسے بھاگے جارہے ہیں کہ دن رات کی تفریق تک بھول بیٹھے ہیں۔ ہم کیا کرنا چاہتے ہیں؟ ہمارا طرز کیسا ہونا چاہیے؟ حق و باطل کی تفریق ۔۔۔۔ ہم سب کچھ بھول چکے ہیں۔ ایسے میں قمر صدیقی کے یہ اشعار یاد آتے ہیں:
کیا جانے قمرؔ کب رات ہوئی ، معلوم نہیں دن کب نکلا
اس وقت کے بہتے دھارے میں دن رات کہیں غرقاب ہوئے
عجب طلسم ہے جو وقت کھو گیا ہے کہیں
ہوا ہے لاد کے دن رات کو روانہ کوئی
وہ کہتے ہیں کہ ان حالات کے تلاطم سے باہر نکلنے کے لیے انسان کو اپنا محاسبہ خود کرنا ہوگا کہ وہ کیا ہے؟ اور کیا کرنا چاہتا ہے؟ کیوں کہ:
نظر کے واسطے اپنا نظارہ کافی ہے
خود اپنا عکس ہوں خود اپنا آئینہ ہوں میں
قمر صدیقی کی شاعری رواں ، سلیس اور سادہ زبان کی شاعری ہے۔ تابع مہمل میں کہی ہوئی ان کی غزل جس کے قوافی ’خنجر ونجر، منظر ونظر، زیور ویور، بستر وستر ، پتھر وتھر‘ ہیں ، یہ سننے والوں کو الگ ہی مزہ دیتے ہیں۔ انھوں نے اپنی شاعری میں ہندی الفاظ بھی بڑی روانی سے استعمال کیے ہیں۔ جیسے ’نروان، سمّان، جل پان، منتر ، بھرن وغیرہ‘۔ علاوہ ازیں قمر صدیقی نے اپنی شاعری میں مختلف صنعتوں کو بھی خوبصورتی سے برتا ہے۔ یہاں صنعتِ تضاد کی دو مثالیں ملاحظہ فرمائیں:
تھا جتنا اعتبار اتنے ہی وہ نامعتبر نکلے
بہت ہی کم نظر اس دور کے اہلِ نظر نکلے
کبھی نغمے سنائے اور کبھی نالے کیے میں نے
تری محفل میں یہ دونوں ہی عالم بے اثر نکلے
یہ غزل :
کبھی ہے گل کبھی شمشیر سا ہے
وہ گویا وادیِ کشمیر سا ہے
اس غزل کے ہر شعر میں صنعتِ تشبیہ کا استعمال کیا گیا ہے۔
محاورے کا استعمال دیکھیے:
کون مجھے کو مات دیتا ہے محاذِ جنگ پر
میرے اندر کون مجھ سے بر سرِ پیکار ہے
صنعتِ تجنیسِ زائد کا اندازِ بیان دیکھیے:
رویت کی روایت کا میں قائل تھا مگر اب
چہرہ ہی تمہارا مہِ شوال ہے میرا
تلمیحات کا استعمال بھی جا بجا نظر آتا ہے:
پھر وہی قہر وہی فتنۂ دجّال کے دن
پھر وہی قصّۂ اصحابِ کہف کھینچتا ہے
کیا رنج کے یوسف کا خریدار نہیں ہے
یہ شہر کوئی مصرکا بازار نہیں ہے
لیکن قمر صدیقی کی شاعری محض صنائع و بدائع کی کاریگری نہیں ہے۔ بلکہ ان کی شاعری میںزبان کی لطافت و صناعی کے ساتھ ساتھ عصری آگہی ، عام انسانی زندگی کے مسائل و مجادل کو اس خوبی سے بیان کیا گیا ہے کہ اشعار قاری کے ذہن و دل پر اپنے گہرے نقوش ثبت کرتے ہیں۔
اس مجموعے میں نظمیں تعداد کے لحاظ سے بھلے ہی کم ہیں مگر معنویت کے اعتبار سے بھرپور ہیں۔ نظم ’’تلسی‘‘ میںعلامت کے پیرئے میں مذہبی شدت پسندی کو پیش کیا گیا ہے۔ تلسی جو امن کی علامت ہے اس کے ننھے پودے اس لیے مرجھا گئے ہیں کیونکہ مذہب ترشولوں میں در آیا ہے۔قمر صدیقی اپنی نظمیں’ پیپل‘ اور ’برگد‘ درختوں کو متوجہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ دیکھو اس کمپیوٹرائزڈ دور میں لوگ تم سے کیسے دور ہوگئے ہیں۔یہ نظمیں یعنی پیپل ، برگد، انجیر اور جنگل جنگل شاعر کے فطرت (نیچر) سے والہانہ لگائو کو پیش کرتی ہیں۔
ہماری آس پاس کی دنیا میں زندگی اور فطرت کی ناقدری کو شدت سے محسوس کرنے والے شاعر قمر صدیقی کا نرم ، گداز جذبوں سے پُر دل ، سرد مہری بلکہ سفاکیت کے سکوت اور سنّاٹے میں صدائے حق بلند کرتا رہتا ہے۔ یہی صدائیں ’’شب آویز‘‘ کو با معنی بناتی ہیں۔