ہر درد کی ہم آواز بنے، ہرساز کے ہم مضراب ہوئے ( ’’شب آویز‘‘ پر تاثراتی تبصرہ) ـ ابوفہد

شاعر، شعر اورشاعری ، اگر یہ چیزیں آپ کو کسی نہ کسی سطح پر متاثر کرتی ہیں تو یقینا مانیں بحیثیت شاعر قمر صدیقی آپ کو ضرور متاثر کریں گے، ان کے شعر بھی ، شاعری بھی اور پھر ان کا مجموعہ ’’ شب آویز‘‘ بھی۔ بے شک میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو بات بےبات قسم کھاتے ہیں اور شرط لگاتے ہیں، بفرض محال اگر میں ان میں سے ہوتا تو آپ یقین مانیں، میں ضرور اپنی اس بات کے لیے شرط لگاتا اور قسم کھاتا کہ ’’شب آویز‘‘ میں متاثر کرنے جیسا کم یا زیادہ سحر ضرور ہے۔
قمر صدیقی صاحب ایک معروف اور قادرالکلام شاعر ہیں، میں انہیں جستہ جستہ پہلے ہی سے دیکھتا اورپڑھتا رہا ہوں ،مگر ادھر چند روز قبل ان کی کتاب’’ شب آویز‘‘ دستیاب ہوئی ہے ۔اور یہ بات میرے لئے باعث فخرو انبساط ہے ۔’’مرغ شب آویز‘‘ مرغ حق گو کو کہتے ہیں۔ قمر صدیقی صاحب بھی اپنی اس کتاب کی وجہ تسمیہ کے پس منظر میں اپنے تئیں ’شاعرِ حق گو‘ کے خطاب کے لیے موزوں تر معلوم ہوتے ہیں ۔
’شب آویز‘ کیا ہے، بس یوں سمجھ لیں کہ شاعر کے قلب ونظر کی ویرانیوں اور حیرانیوں نے فن کا لباس پہن لیا ہے۔اشعار میں پنہا شہادتیں تو یہی بتاتی ہیں کہ یہ ویرانیاں اور حیرانیاں بازار سے خرید کی ہوئی نہیں ہیں اور نہ ہی یہ ناشاد زندگی کا لازمہ ہیں بلکہ سوچ اور نظریئے کی اس لازاوال روایت کی پیدا کردہ ہیں ، جسے کوئی بھی باشعور انسان اسی طرح سَیتا اور گرمی پہنچاتا ہے جس طرح مرغی خود کو بھوکا پیاسا رکھ کر اپنے انڈوں کو سیتی اورگرمی پہنچاتی ہے ۔تاکہ لاشے سے شے پیدا ہو۔
ایک باشعور اور حساس انسان کی پہچان شاید یہ بھی ہے کہ وہ مصروف زندگی رکھتے ہوئے بھی ، بلکہ زندگی کے جھمیلوں میں الجھاہوا ہونے کے باوجود بھی اور اس کے باوجود بھی کہ وہ خود میر مجلس بھی ہوسکتا ہے ، عین ممکن ہے کہ تنہائیاں اس کے وجود سے ہمہ وقت لپٹی رہتی ہوں۔ صدیقی صاحب کی تنہائیاں اورویرانیاں بھی اسی قبیل کی ہیں۔اور جہاں تک حیرانیوں کی بات ہے تو ذہانتوں اور حیرانیوں میں چولی دامن کا ساتھ ہے،جو آدمی جتنا زیادہ ذہین ہے وہ اتنا ہی زیادہ حیران بھی ہے۔
ذرا غالب کی تنہائیوں ،ویرانیوں اور حیرانیوں کا تصور کیجیے۔
کاو کاو سخت جانی ہائے تنہائی نہ پوچھ
صبح کرنا شام کا لانا ہے جوئے شیر کا
…….
گریہ چاہے ہے خرابی مرے کاشانے کی
در و دیوار سے ٹپکے ہے بیاباں ہونا
…….
گردشِ ساغرِ صد جلوۂ رنگیں تجھ سے
آئینہ داریِ یک دیدۂ حیراں مجھ سے
…….
خاص کر آخری شعر کی گہرائی کو محسوس کرنے کی کوشش کیجیے۔ غالب خالق کائنات سے مخاطب ہیں اور گویا ہیں کہ کائنات، کسی محفل میں ساغرکی گردش کی طرح، صدہزاررنگین اور خوشنما جلووں کے ساتھ رات دن گردش میں ہے اور یہ صرف (اے خدا) تیری ذات سے ہے۔ اور میری ذات سے جو کچھ ہے وہ بس حیرانی ہے۔ ارے! یہ کیا ہے؟ ارے! یہ کیسے ہوگیا؟ چیزیں کس طرح لاشے سے شے بن جاتی ہیں اور پھر کس طرح زندہ چیزیں لاشے کے سمندر میں غرق ہوجاتی ہیں۔ انسان کا تجربہ تو یہی ہے کہ دنیا جہان کی ساری چیزیں پہلے سے موجود مٹیریل سے بنائی جاتی ہیں۔ مگراس لامحدود کائنات کی ان گنت چیزیں پہلی دفعہ، جب کسی قسم کےمٹیریل کا وجود نہیں تھا، کیسے وجود پذیر ہوئیں۔؟ پھر طرفہ یہ بھی ہے کہ انسان جس قدر زیادہ باشعور، زیادہ حساس اور زیادہ سے زیادہ جانکار، متمدن اور تیزگام ہوتا جائے گا، اس کی حیرانیوں میں اسی قدر اضافہ ہوتا جائے گا۔
قمرصدیقی صاحب کا یہ شعر دیکھیں:
وہ دل ہو یاکہ دلّی سب بارہا لٹے ہیں
لٹ لٹ کے بارہا پھر تعمیر ہوگئے ہیں
آخراندرون ذات کی سطح پر دل کے ساتھ بھی وہی سب کچھ ہوتا اور اس پر گزرتا ہے جو خارج میں عالم خاک کے پردےپر عالم میں انتخاب دلّی جیسے شہر کے ساتھ ہوا ہے کہ وہ بار بار اجڑی ہے اور باربار بسی ہے۔
اور جب دل کی کیفیت یہ ہو ، سیمابی اور غیر مستقل سی تو پھر دل کے کھنڈرات میں ویرانیاں کیوں بسیرا نہ کریں اور جب نظرقمر صدیقی جیسی ہو تو پھر ان کی چشم عریاں میں حیرانیاں کیوں نہ محو خواب ہوں۔
’’شب آویز‘‘ پر لکھنے کو بہت کچھ ہے ، مگر ہم اسی پر اکتفا کرتے ہیں اور آپ کو قمر صدیقی صاحب کے چند متفرق اشعار اور دو بہترین غزلوں کے ساتھ چھوڑے جاتے ہیں۔ پڑھیں اور لطف لیں۔
تھا جتنا اعتبار اتنے ہی وہ نا معتبر نکلے
بہت ہی کم نظر اس دور کے اہل نظر نکلے
کسے امید ہوگی اپنی منزل پر پہنچنے کی
گرفتارِ طلسم این وآں جب راہبر نکلے
………….
نواح جاں میں یہ آزار سا کیا ہے
مرے اندر بہت بیمار سا کیا ہے
….
تمہارے واسطے سارے اجالے راہ میں رکھے
مگر اپنے لیے ہم نے یہی اک شام غم رکھی
تجھے ہے گریہ وزاری کی آزادی بہر صورت
تری خاطر قمر ؔ ہم نے سہولت یہ بہم رکھی
…………..
آنسو یہ مرے ہیرے موتی، آنکھوں میں رہے نایاب ہوئے
جو زخم ملے وہ گلاب ہوئے ،جو درد ملے مہتاب ہوئے
یادوں کے بھنور میں ڈوب گئے، وہ لمحے پیار محبت کے
کیا آنکھ یہ جھپکی پل بھر کو، سب خواب مرے غرقاب ہوئے
غم اپنے لے کر بھٹکیں گے، یا اوڑھ کے یادیں سولیں گے
اس بے گانوں کے شہر میں اب، جینے کے یہی اسباب ہوئے
یہ کس نے فضا میں زہر بھرا، ہے چاروں طرف نفرت کی گھٹا
وہ میل ملاپ کے اجلے دن ،اب دیوانے کا خواب ہوئے
برسا ہوں گھٹا بن کر میں یہاں، اور دریا دریا رویا ہوں
یہ دکھ ہی یارو ایسے تھے، سو اشک مرے پنجاب ہوئے
گیت اپنے، اپنے نغمے یہ، ہیں نغمے سب کے، سب کے گیت
ہر درد کی ہم آواز بنے، ہرساز کے ہم مضراب ہوئے
جو قصۂ یاس وحسرت ہے، رودادِ شبانِ ہجراں میں
وہ ساری عبارت آپ کی ٹھہری، ہم تو فقط اعراب ہوئے
کیا جانے قمؔر کب رات ہوئی ،معلوم نہیں دن کب نکلا
اس وقت کے بہتے دھارے میں، دن رات کہیں غرقاب ہوئے
………..
تہذیب کی راہوں میں دشت آئے جبل آئے
پھر ٹھنڈی ہوا آئی صحرا میں کنول آئے
اُس پار خموشی کے اک شور سا برپا تھا
ہم اب کے اسی باعث صحرا میں نکل آئے
اب خوف نہیں آتا دنیا کے رویے سے
آنکھوں سے شرر برسیں یا ماتھے پہ بل آئے
پھر صبح کو نکلے تھے دنیا کو بدل دیں گے
پھر شام کو خود سورج کے ساتھ بدل آئے
یادوں کے اجالوں سے کچھ راہ منور تھی
کچھ اپنا ارادہ تھا جو راستہ چل آئے
وحشت تھی، سمندر تھا،گرداب تھا، موجیں تھیں
ظلمت میں لیے کشتی ہم دور نکل آئے
پھر راہ محبت میں یہ دیکھا قمر ہم نے
جذبات کی حد آئی احساس کے پل آئے