سینئر صحافی محمد علی کی یاد میں ـ محمد راشد خان ندوی

عمر تقریباً چالیس سال، متوسط قد، گیہواں رنگ، چہرے پر مسکراہٹ اور گفتگو میں شوخی و ظرافت۔ یہ ہے پہلا تاثر جو محمد علی صاحب سے پہلی ملاقات کے بعد ذہن پر مرتسم ہوا۔ وہ بہت تھکادینے والی لیکن امید و جوش سے بھری ہوئی ملازمت کا آغاز تھا۔ تھکادینے والی اس لیے کہ اُس وقت جو صاحبانِ اولی الامر تھے وہ اپنے میدان کے منجھے ہوئے کھلاڑی تھے جو ”کرم فرمائی“کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے اور امید و جوش سے بھری ہوئی ملازمت اس لیے کہ یہ شعبہ صحافت کی ملازمت تھی۔ یہ ذکر ہے روزنامہ راشٹریہ سہارا لکھنؤ کی شروعات کی۔ دسمبر 1998ء میں ہم لوگوں کی جوائننگ ہوئی تھی۔ یہ اترپردیش کا پہلا مکمل کمپیوٹرائزڈ اردو روزنامہ تھا۔ تقریباً دو ماہ تک ڈمی نکلی اور 5 فروری 1999ء کو اخبار منظرعام پر آیا۔ ہم لوگوں کو دن میں دو بجے بلایا جاتا اور ایسا کم ہی ہوتا کہ رات کے دو بجے سے پہلے واپسی ہوجائے۔ ہفتہ کی ایک دن کی چھٹی کسی بڑے ”راحتی پیکیج“ سے کم نہیں ہوتی تھی۔ محمد علی صاحب کی ہفتہ واری چھٹی منگل کو ہوتی تھی۔ ہر دوشنبہ کو وہ ’اٹینشن‘ ہوکر ضرور پوچھتے ’سر! کل منگل ہے، میرے لیے کیا حکم ہے؟‘ جواب میں سر کہتے ’محمد علی! بہت اچھا کیا پوچھ لیا، بابو کل آجاتے تو بہت اچھا رہتا‘۔ لیکن یہ صورت حال زیادہ عرصہ نہیں رہی۔ کچھ ماہ بعد وہ رشتۂ اِزدِواج سے منسلک ہوگئے تو ’سر! کل منگل ہے، میرے لیے کیا حکم ہے؟‘ کا جملہ بھول گئے جسے اسٹاف کے لوگ یاد دلاتے رہتے تھے۔
اسٹاف کا آپس میں تعارف ہوا تو معلوم ہوا کہ چند لوگوں کو چھوڑ کر بیشتر لوگ کسی نہ کسی اخبار، میگزین یا دوردرشن سے وابستہ رہ چکے ہیں۔ محمد علی صاحب پندرہ روزہ ’جدید مرکز‘ سے آئے تھے۔ زبان پر اچھی گرفت تھی۔ پندرہ روزہ اخبار سے آئے تھے اس لیے ان کے کام کرنے کا انداز پندرہ روزہ و ہفت والا ہی رہا، کبھی روزنامہ والی تیزی ان کے اندر نہیں آسکی۔ جو بھی صفحہ بناتے وہ اکثر لیٹ ہوجاتا جس کے لیے ہر دو چار دن پر انچارجوں سے لفظی جنگ ہوہی جاتی تھی، لیکن اس جنگ کی تلخی بس تھوڑی دیر ہی رہتی تھی۔ اگرچہ کام میں روزنامہ کے مطابق تیزی نہیں تھی لیکن نیوز سینس بہت زبردست تھا۔ جو خبر بنادیتے تھے اس پر قلم رکھنے کی گنجائش نہیں رہتی۔ ضلع امبیڈکرنگر کے قصبہ جلال پور کے رہنے والے تھے۔ معروف ناظم مشاعرہ انور جلال پوری مرحوم سے شرَفِ تلمذ حاصل تھا اس لیے ادبی ذوق ہونا فطری تھا۔ جلال پور کے بعد انھوں نے شبلی کالج اعظم گڑھ سے تعلیم حاصل کی پھر الہ آباد یونیورسٹی سے ایم اے کیا۔ بتانے لگے کہ ایک مرتبہ جلال پور میں دوران تعلیم کلاس کے وقت اسکول کے ایک سینئر طالب علم آگئے۔ ہم لوگوں نے ان کے اعزاز میں اسکول سے متصل باغ میں اعزازی نشست کرڈالی۔ جسے جو بھی اشعار یاد تھے سنائے، خوب لطف رہا۔ اس درمیان انورجلالپوری صاحب کلاس لینے آئے تو دیکھا ایک دو بچوں کو چھوڑ کر پوری کلاس غائب ہے۔ پوچھا سب کہاں ہیں، بتایا گیا کہ فلاں صاحب آئے ہیں ان کے ساتھ مشاعرہ کر رہے ہیں، کہنے لگے یہ کام محمد علی کا ہی ہوسکتا ہے۔ انورصاحب کافی ناراض ہوئے جنھیں منانے میں کئی دن لگ گئے۔ محمد علی صاحب نے اپنے استاد انورجلال پوری صاحب کو ہمیشہ یاد رکھا۔ خبروں کے لیے انور صاحب ان کو ہی فون کیا کرتے تھے۔ لفظیات پر محمد علی صاحب کی اچھی گرفت تھی۔ وہ الہ آباد کے اپنے دور طالب علمی کے قصے بھی سنایا کرتے تھے۔ خاص طور سے اردو کے کچھ پروفیسروں کے غلط تلفظ اور طلبہ کے آپسی تبصروں کو بڑے لطف سے بیان کرتے تھے۔ ادب کا اچھا مطالعہ تھا اور شعر و شاعری سے بھی خوب شغف تھا لیکن مطالعہ کی حد تک۔ مضمون نگاری اور شعر گوئی کی طرف انھوں نے توجہ نہیں دی۔ کام کرتے کرتے ادبی گفتگو شروع ہوجاتی تو ان کے جوہر خوب کھلتے جس سے اندازہ ہوتا کہ اگر وہ لکھنے و کہنے کی طرف توجہ دیتے تو یقیناً ادب و شاعری کے ذخیرے میں قابل قدر اضافہ کرتے۔
ان کی شخصیت کا سب سے یادگار پہلو ان کی خوش مزاجی اور ظرافت تھی۔ معروف شاعر جگر مرادآبادی کے شاگرد مرحوم قمر گونڈوی اکثر و بیشتر اخبار کے دفتر آتے تھے۔ ایک مرتبہ محمد علی صاحب سے ان کی ملاقات ہوگئی۔ انور جلال پوری سے لے کر جگر مرادآبادی تک خوب باتیں ہوئیں۔ جاتے جاتے قمر صاحب نے دریافت کیا آپ کا اسم گرامی؟ انھوں نے کہا مجھے ققنس قنوطی کہتے ہیں، انور جلالپوری کا شاگرد ہوں۔ لفظ ’ققنس قنوطی‘ کو قمر صاحب نے کئی مرتبہ پوچھا اور دہراتے ہوئے چلے گئے۔ اگلی مرتبہ وہ آئے تو کہنے لگے آپ کے نام کا مطلب مجھے ڈکشنری میں تلاش کرنا پڑا۔ پھر پوچھا آپ کا پورا نام کیا ہے کہنے لگے محمد علی ققنس قنوطی۔ اس کے بعد وہ جب بھی آئے انھیں محمد علی نہیں یاد رہا، ققنس یاد رہتا تھا۔ ایک صاحب کا اکثر دفتر کے لینڈ لائن پر ڈاکٹر حمایت جائسی صاحب کے لیے فون آتا۔ کافی لمبی گفتگو کرتے۔ حمایت صاحب پریشان ہوجاتے۔ ہم لوگوں نے وجہ پوچھی، بتانے لگے، پہلے میرے مضمون کی تعریف کرتے ہیں پھر میرے مضمون کے مشمولات مجھے ہی سناتے ہیں اور درمیان میں تعریف کرتے رہتے ہیں۔ محمد علی صاحب نے کہا ایک مرتبہ مجھے بھی شرَفِ ہم کلامی حاصل کرنے دیجیے۔ فون آیا، محمد علی صاحب نے اٹھایا۔ آواز آئی ڈاکٹر حمایت صاحب سے بات کرنی ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ تو ہیں نہیں، اُدھر سے پوچھا گیا آپ کون صاحب بول رہے ہیں۔ محمد علی نے کہا مجھے دھرتی پکڑ کہتے ہیں، بجرنگ بلی کا بھگت ہوں۔ حیرت بھری آواز آئی آپ سہارا اردو میں ہیں؟ محمد علی نے کہا سیوک ہوں۔ پھر لمبی اور دلچسپ باتیں ہوئیں۔ اس کے بعدجب بھی ان کا فون آتا اور ڈاکٹر حمایت صاحب بات کرنے کے موڈ میں نہ ہوتے تو اسے دھرتی پکڑ رسیو کرتے تھے اور جب ڈاکٹر صاحب فون اٹھاتے تب بھی وہ دھرتی پکڑ کی خیریت ضرور پوچھتے۔
محمد علی صاحب نے ایک بائی لائن اسٹوری لکھی اور نام لکھا محمد علی مہدی، اس وقت کے یونٹ انچارج صاحب نے کہا کہ یہ کس کا نام ہے، انھوں نے کہا میرا۔ کہنے لگے جو نام رجسٹر میں ہے وہی جائے گا۔ محمد علی نے کہا کہ یہ میرا قلمی نام ہے۔ کافی بحث ہوئی۔ اب یاد نہیں رہا کہ محمد علی مہدی چھپا یا محمد علی۔ ادھر کچھ برسوں سے وہ محمد علی منیل لکھنے لگے تھے اور کہتے تھے کہ شاعری شروع کردی ہے۔ ایک دو مرتبہ اپنی تازہ غزلوں کے کچھ اشعار بھی سنائے۔
صحافت سے لے کر ادب اور سیاست تک ہر موضوع پر وہ اپنا ایک نظریہ رکھتے تھے۔ مذہباً شیعہ تھے۔ مذہب پر بات ہوتی تو سنی و شیعہ سبھی مسالک کے جغادریوں کے بخیے ادھیڑے جاتے۔ وہ بہت سی مذہبی رسومات پر کھل کر تنقید کرتے تھے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ لوگوں نے مذہب کو دھندہ بنالیا ہے۔ انھوں نے ایک نئی اصطلاح ایجاد کی تھی ’وہابی شیعہ‘۔ مذہبی رسومات کے خلاف بات کرتے تو خود کو وہابی شیعہ کہتے تھے۔
کورونا کی دوسری لہر نے سیاست، صحافت، تدریس، مذہب ہر شعبۂ حیات سے تعلق رکھنے والی بیشمار ہستیوں کو ہم سے چھین لیا۔ محمد علی بھی اس کی زد میں آگئے۔ اچھے بھلے دفتر آئے، تھوڑا زکام وغیرہ کا اثر تھا جس کی وجہ سے دفتر سے چھٹی لی لے۔ دو- چار روز بعد معلوم ہوا کہ ایرا میڈیکل کالج میں بھرتی ہیں، سانس لینے میں دقت ہونے کی وجہ سے آکسیجن پر ہیں۔ درمیان میں خبریں ملتی رہیں کہ اب حالت بہتر ہو رہی ہے مگر 13 مئی 2021 کو شب تقریباً 10 بجے اچانک اطلاع ملی کہ محمد علی بھی ہم کو چھوڑ کرچلے گئے۔
محمد علی صاحب اردو کے ساتھ ساتھ ہندی صحافت کے بھی اَسرار و رموز سے واقف تھے۔ اردو زبان و ادب پر ملکہ رکھتے تھے۔ ہندی پر دسترس تھی اور انگریزی بھی ٹھیک تھی۔ میدان عمل میں قدم رکھا تو دم آخر تک اردو صحافت کی خدمت کرتے رہے۔ ایک چھوٹا اخبار چھوڑ کر 7دسمبر 1998ء کو اچھے کیریئر کے لئے ایک بڑے اخبار سے وابستہ ہوئے۔ تقرری بطور مترجم ہوئی تھی اور کام ہمیشہ سب ایڈیٹر کا لیا گیا، تقریباً 21، 22 سال تک پوری لگن سے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہے لیکن چونکہ کاسہ لیسی نہیں کی، جگاڑ، سیٹنگ نہیں کی اس لیے مترجم ہی رہ گئے، سب ایڈیٹر نہیں بن سکے۔ اس موضوع پر جب بھی ان سے بات ہوتی تو وہ کہتے جگاڑ اور سیٹنگ سے عہدہ تو مل سکتا ہے ’وقار و عزت‘ نہیں۔ انھوں نے قمر گونڈوی کو اپنا تخلص قنوطی ضرور بتایا تھا لیکن ان کے اندر قنوطیت و مایوسی نہیں تھی۔ اور اگر تھی تو اپنی ظرافت اور کبھی کبھی فلسفیانہ موشگافیوں میں اسے چھپا لیتے تھے۔ وہ ایک مصرعہ سنایا کرتے تھے ’ہر حال میں راضی بہ رضا رہ تو مزا دیکھ‘۔ لوگ چلے جاتے ہیں،یادیں رہ جاتی ہیں۔ اللہ باقی من کل فانی۔