قدآور کانگریسی لیڈر موتی لال ووہرا کا انتقال

نئی دہلی:

کانگریس کے تجربہ کارلیڈر موتی لال ووہرا (93) کا پیر کو انتقال ہوگیا۔ انہوں نے دہلی کے فورٹنس اسپتال میں آخری سانس لی۔ وہ دو بار مدھیہ پردیش کے وزیر اعلی رہ چکے ہیں۔ وہ 2000 سے 2018 (18 سال) پارٹی کے خزانچی بھی رہے۔ کل (20 دسمبر) ووورا نے اپنی 93 ویں سالگرہ بھی منائی تھی، وورا کے بعد مرحوم احمد پٹیل کی جگہ خزانچی بنا دیا گیا تھا۔ اس سال 25 نومبر کو پٹیل کا بھی انتقال ہوگیاتھا۔راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پر اایک پوسٹ میں لکھا ہے کہ وورا جی ایک سچے کانگریسی  لیڈر اور ایک عظیم انسان تھے،ان کی کمی بہت محسوس کی جائے گی۔ ان کے اہل خانہ سے میری طرف سے تعزیت پیش ہے۔وورا جو 1968 میں سماج پارٹی کے ممبر تھے ، غیر منقسم مدھیہ پردیش کی درگ میونسپل کمیٹی کے ممبر بنے، 1970 میں کانگریس پارٹی میں شامل ہوئے۔ 1972 میں کانگریس کے ٹکٹ پر ایم ایل اے بنے۔ اس کے بعد 1977 اور 1980 میں وہ ایم ایل اے منتخب ہوئے۔ ارجن سنگھ کی کابینہ میں وہ محکمہ اعلی تعلیم میں پہلے وزیر مملکت تھے۔ 1983 میں کابینہ کے وزیر بنائے گئے ۔ انہوں نے 1981-84 کے دوران مدھیہ پردیش اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کے چیئرمین کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔13 فروری 1985کو وورا کو مدھیہ پردیش کا وزیر اعلی بنا دیا گیا۔ 13 فروری 1988 کو وزیر اعلی کے عہدے سے استعفیٰ دیا اور 14 فروری 1988 کو مرکز کی بہبود ِ خاندان اور شہری ہوا بازی کی وزارت کا چارج سنبھالا۔ اپریل 1988 میں وورا مدھیہ پردیش سے راجیہ سبھا کے لئے منتخب ہوئے ۔ وہ 26 مئی 1993 سے 3 مئی 1996 تک یوپی کے گورنر بھی رہے۔ووورا کو 22 مارچ 2002 کو ایسوسی ایٹ جرنلز لمیٹڈ (اے جے ایل) کا چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر بنا دیا گیا۔ نیشنل ہیرالڈاخبار کی جائیداد کے تنازعہ میں ووورا بھی شامل تھے ۔ فی الحال عدالت اب بھی اس معاملہ کی سماعت کر رہی ہے، کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔موتی لال ووہرا 20 دسمبر 1928 کو ناگور (اس وقت ریاست جودھ پور کی ریاست) میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد کا نام موہن لال ووہرا اور والدہ کا نام امبا بائی تھا۔ پسماندگان میں چار بیٹیاں اور دو بیٹے ہیں۔ بیٹا ارون وورا درگ سے ایم ایل اے ہیں ، وہ تین بار ایم ایل اے رہ چکے ہیں۔