سہ ماہی ’انتساب‘ کی چالیس سالہ ادبی خدمات پر سیمینار

سرونج(پریس ریلیز): سیفی لائبریری میں انتساب پبلی کیشنز کے زیر ِ اہتمام سہ ماہی ’انتساب‘ کی چالیس سالہ ادبی خدمات پر سیمینار اور مشاعرے کا انعقاد کیا گیا۔ سیمینار کی صدار ت دہلی اردو اکادمی کے سابق وائس چیرمین پروفیسر خالد محمود نے کی ۔ مہمانِ خصوصی کے طور پر اقبال مسعود، ضیاء فاروقی اور پروفیسر عز یز اللہ شیرانی نے شرکت کی۔ پروفیسر خالد محمود نے کہا، ’’آج سرونج سیفی سرونجی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ صرف سرونج والے ہی نہیں ،اردو والے اُن پر جتنا فخر کریں کم ہے۔ سرونج میں نثری رواج’ انتساب‘ کی وجہ سے ہی عام ہوا ہے۔‘‘ اقبال مسعود نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ،’’سیفی سرونجی اردو کا دامن تھامے تھامے ادبی اُفق پر سورج کی طرح چمک رہے ہیں ۔ سیفی نے سرونج کو اِس طرح مالا مال کر دیا ہے کہ تمام اصناف میں اس کا نام آ سکے۔‘‘ ضیاء فاروقی نے کہا،’’کسی زمانے میں سرونج شاہی کپڑوں کے لئے مشہور تھا، اُس سے پہلے ٹکسال کے لئے جانا جاتا تھا ،لیکن آج ادب کے لئے مشہور ہے اور یہ صرف ’انتساب‘اور سیفی سرونجی کی وجہ سے ممکن ہوا۔‘‘ ظفر صہبائی نے کہا،’’جس طرح فرہاد نے پتھر کاٹ کر اپنا راستہ بنایا ،اُسی طرح سیفی سرونجی سنگلاخ راستوں کو کاٹ کر اِس بلندی تک پہنچے ہیں ۔‘‘راجستھان سے تشریف فرما پروفیسر عزیز اللہ شیرانی نے کہا ’’سیفی سرونجی اردو ادب میں ہی نہیں ،بلکہ ہندی ادب میں بھی ایک نمایاں نام ہیں ۔‘‘سیفی سرونجی نے فرمایا ،’’میں جو خواب دیکھتا ہوں اُس خواب کی تعبیر کے لئے کمر کس لیتا ہوں ۔ میں نے رسالہ نکالنے کا خواب دیکھا تھا اور آج ’انتساب ‘ چالیس برس کا ہو گیا ہے۔‘‘استوتی اگروال نے کہا،’’سیفی صاحب نے نہ صرف مجھے اردو لکھنا سکھایا، بلکہ ’انتساب ‘ کی نائب مدیرہ کی ذمے داری بھی سونپی۔ میں آج جو کچھ بھی اپنے والد انل اگروال ، سیفی سرونجی اور ’انتساب ‘ کی وجہ سے ہوں ۔ ڈاکٹر ظفر سرونجی نے کہا،’’سیفی سرونجی کی زندگی کا ایک بڑا حصہ ’انتساب‘ ہی ہے۔‘‘بدر واسطی نے کہا کہ’’ جب شب خون اور شمع جیسے رسالے بند ہو سکتے ہیں ،ایسے میں ’انتساب‘ کا نکلنا ایک بڑاکارنامہ ہے۔‘‘ حافظ محمد بولے،’’ سیفی کی زندگی میں ان کی بیگم آسیہ سیفی کا بڑا دخل ہے جس نے سیفی کو کُندن بنادیا۔‘‘ اسعد ہاشمی نے کہا،’’شروعاتی دور میں سیفی سرونجی کے معاشی حالات ناساز تھا، لیکن بیڑی بنا بنا کر اور چندے کرکے انھوں ’انتساب‘ کو جاری رکھا۔‘‘نظامت کے فرائض ڈاکٹر ظفر سرونجی نے انجام دیے ۔ سیمینار کے بعد مشاعرے کا انعقاد کیا گیا جس کی صدارت مشہور شاعر ظفر صہبائی نے فرمائی اور نظامت شعیب علی خاں نے بخوبی انجام دی ۔مشاعرے میں بدر واسطی، ساجد پریمی، سراج احمد ، عظیم اثر، نعمان غازی، سلیمان مجاز، ماسٹر مجاہد، عظمت دانش، سہیل نسیم، اقبال منظر ، فرحان منظر اور سلیمان آزر نے شرکت کی۔ سامعین کے طور پر فہمید خاں،قیصر میاں، صادق علی، سعید خاں ، راجیون جین، نسیم انجینئر،بلقس جہاں وغیرہ کے نام نمایاں ہیں۔ آخر میں سیفی سرونجی نے تمام مقالہ نگار، شعراے کرام اور شامعین کا شکریہ ادا کیا۔