بغاوتِ ہند کا قانون اور اس کا بےجا استعمال- مفتی محمد ثناءالہدیٰ قاسمی

نائب ناظم امارت شرعیہ پٹنہ
ہندوستانی قانون آئی پی سی کی دفعہ ۴۲۱/اے کے مطابق اگر کوئی شخص اپنی تقریر، تحریر، اشارے او رمنظر کشی کے ذریعہ قانونی حکومت کے خلاف نفرت اور بے اطمینانی کی فضا پیدا کرتا ہے یاا س کی کوشش کرتا ہے تو اسے عمر قید یا تین سال قید اور جرمانے کی سزا دی جا سکتی ہے۔
یہ قانون ہندوستان میں برطانیہ سے بر آمد کیا گیاہے، برطانیہ میں ۱۹۷۵ء میں یہ قانون ”ویسٹ منسٹر قانون“ کی زد سے باد شاہ کو بچانے کی غرض سے لایا گیا تھا، پھر اس قانون پر نظر ثانی کا کام ۱۸۴۵ء میں ہوا اور اسے باقی رکھا گیا،۱۸۷۰ء میں یہ قانون آئی پی سی میں جوڑا گیا، انگریز حکومت میں چوں کہ فرد کی آزادی کا تصور نہیں تھا، اس لیے دور غلامی میں یہ قانون آزادی کے متوالوں کے خلاف استعمال کیا جاتا رہا،اب جب کہ ہر پانچ سال کے بعد انتخاب ہو رہا ہے، او رحکومتیں الٹ پلٹ ہوتی رہتی ہیں، ایسے میں حکومت کے خلاف بولنا ملک سے غداری اور بغاوت کس طرح قرار دیا جا سکتا ہے، المیہ یہ ہے کہ برطانیہ میں ۲۰۰۹ء میں ہی اسے کالعدم قرار دے دیا گیا، لیکن ہندوستان میں یہ آج بھی بر قرار ہے اور حکومت کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو اس کے ذریعہ نہ صرف ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے؛ بلکہ اس کا استعمال کرکے حق کی آواز کو دبانے کی کوشش بھی کی جاتی رہی ہے، قانون دانوں کا خیال ہے کہ یہ پورے جمہوری نظام کے لیے ایک چیلنج ہے، اب عدالت عظمیٰ (سپریم کورٹ) نے بھی کہا ہے کہ اس قانون کی تشریح کا وقت آگیا ہے، اس قانون پر پہلے بھی اعتراضات کیے جاتے رہے ہیں، گاندھی جی نے کہا تھا کہ اس قسم کے کالے قانون کی طاقت سے سرکار کے تئیں محبت کا ماحول نہیں پیدا کیا جا سکتا، غلام ہندوستان میں ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی، رام منوہر لوہیابھی اس قانون کے خلاف تھے، ڈاکٹر راجندر پرشاد کی رائے تھی کہ باہری طور سے پابندیاں لگا کر حب الوطنی پیدا نہیں کی جا سکتی، اس لیے نئے ایوان کی تشکیل کے بعد اس قسم کے قانون کو رد کیا جا نا چاہیے۔

ہر دور میں حکومت کی یہ خواہش رہی کہ حکومت کے خلاف اٹھنے والی آواز کو غداریئ وطن اوربغات کا مترادف قرار دیا جائے، حالاں کہ یہ بالکل سامنے کی بات ہے کہ حکومت کے خلاف آواز اٹھانا اور ملک سے غداری دونوں الگ الگ چیزیں ہیں، لیکن قانونی کمیٹی (ودھی آیوگ) نے ۱۷۹۱ء میں اپنی تینتالیسویں رپورٹ میں حکومت اور وطن کی غداری کو ایک قرار دے دیا، اس نے اس قانون میں سرکار کے ساتھ، دستور، مقننہ اور عدلیہ کو شامل کرنے کی بے تُکی سفارش کر ڈالی، جس کی ضرورت اس لیے نہیں تھی کہ ان امور کی حفاظت کے لیے دستور اور آئی پی سی میں پہلے ہی سے الگ الگ دفعات موجود ہیں، ملک کی سالمیت، تحفظ کے ساتھ کھلواڑ کرنے ملک مخالف اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے یو اے پی اے، مکوکا جیسے قانون پہلے ہی سے موجود ہیں، ایسے میں حکومت اور ملک سے غداری اور بغاوت کے فرق کو ختم کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ دونوں کو ایک ماننے کی حماقت دستور اور ملک دونوں کے ساتھ دھوکہ ہی کہا جائے گا، سرکار کے خلاف اور غداری وطن کے اس قانون کو ۱۹۵۱ء میں پہلی دستوری ترمیم کے موقع سے دفعہ (۲) ۱۹/ کے ذریعہ مضبوط کیا گیا، ۱۹۷۴ء میں اندرا گاندھی کے دور حکومت میں حکومت کے خلاف اٹھنے والی آواز کو دبانے کے لیے اسے اور سخت بنایا گیا، حزب مخالف نے سرکار مخالف تحریک کو غداری اور بغاوت ملک ووطن سے جوڑ کر دیکھنے کی ہر دور میں مخالفت کی، چنانچہ ۲۰۱۱ء میں کمیونسٹ رکن پارلیان ڈی راجہ نے ایک نجی بل اس کے خلاف پیش کیا؛ لیکن حکومت نے اس پرکوئی توجہ نہیں دی، بھاجپا سرکار آنے کے بعد خود کانگریس کا رخ بدلا، چنانچہ کانگریس کے رکن پارلیمان ششی تھرور نے ایک دوسرا بل پیش کیا، لیکن اس کا حشر وہی ہوا جو کانگریسی دور حکومت میں ڈی راجہ کے ذیعہ پیش کردہ بل کا ہوا تھا، بعد میں کانگریس نے اسے اپنا انتخای مُدّا بنایا اور وعدہ کیا کہ ہماری حکومت آئے گی تو ہم اس قانون کو ختم کر دیں گے، حکومت بھاجپا کی آگئی اور بھاجپا والے جنہوں نے اس قانون کے تحت اذیتیں جھیلی تھیں اپنا کرب بھول کر ملکی مفاد کے عنوان سے اسے باقی رکھنے کے اپنے ارادے کا اعلان کردیا،واقعہ یہ ہے کہ ہر دور میں حکومتوں نے اپنے تحفظ کے لیے اس قانون کی عصمت کو تار تار کیاہے۔
۲۰۱۲ء میں کوڈن کولم میں ایٹمی تنصیبات کی مخالفت کرنے والوں پر اجتماعی طور پر اس قانون کے سہارے ایف آئی آر درج کیا گیا، نوسو لوگ اس کی زد میں آئے، ۲۰۱۷ء میں پتھل گڑی تحریک جھارکھنڈسے جڑے دس ہزار لوگوں کو اس قانون کے سہارے مقدمہ سے گذرنا پڑا، تحریک کاروں میں ارون دھتی رائے، وینایک سین، ہاردک پٹیل، دشاروی، سدھا بھاردواج،کنہیا کمار، عمر خالد، عائشہ سلطانہ کے ساتھ ذرائع ابلاغ کے کئی لوگ اس قانون کی گرفت میں آئے جن میں اسیم ترویدی منال پانڈے، راجدیپ سرڈیسائی، ونود دا کے نام خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔
یہ صورت حال اس وقت ہے، جب ۱۹۶۲ء میں ہی سپریم کورٹ نے اس قانون کے غلط استعمال پر روک لگانے کے لیے کئی ہدایات دی تھیں، ضرورت ہے کہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ نے مختلف مقدمات میں جو تبصرے کیے ہیں اور ہدایات دی ہیں، اس کی روشنی میں اس قانون کو رد کر دیا جائے؛ تاکہ ملک میں جمہوریت باقی رہ سکے۔