بغاوت قانون کو چیلنج کرنے والی نئی درخواست پر سماعت کے لیے راضی ہوا سپریم کورٹ

نئی دہلی:سپریم کورٹ نے ملک سے بغاوت کے قانون کی آئینی حیثیت کو چیلنج دینے والی سابق فوجی افسر کی درخواست کی سماعت پر متفق ہوگیا ہے۔درخواست میں دعوی کیا گیا ہے کہ اس قانون سے اظہار رائے پر خوفناک اثر پڑتا ہے اور وہ آزادی اظہار کے بنیادی حق پر بے حد پابندیاں عائد کرتا ہے۔چیف جسٹس این وی رمنا، جسٹس اے ایس بوپنا اور جسٹس ہریشکیش رائے کی بنچ نے درخواست گزار کو ہدایت دی کہ درخواست کی کاپی اٹارنی جنرل کے کے وینوگوپال کے حوالے کی جائے۔میجرجنرل (ریٹائر) ایس جی وومبٹ کیرے کے ذریعہ دائر کی گئی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ تعزیرات ہند کے جرم سے نمٹنے کیلئے تعزیرات ہند کی دفعہ 124اے مکمل طور پر غیر آئینی ہے اور اس کو واضح طور پر ختم کردیاجانا چاہئے۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار کا دعوی ہے کہ ’حکومت سے عدم اطمینان‘ وغیرہ کی غیر آئینی مبہم تعریفوں کی بنیاد پر آئین کو آرٹیکل 19 (1) کے تحت مجرم قرار دینااظہار رائے کی آزادی کے بنیادی حق کی خلاف ورزی ہے۔غیر معقول پابندی ہے اور آئینی طور پر ناقابل قبول خوفناک اثر کا سبب بنتا ہے۔اپیل میں کہا گیا تھا کہ بغاوت کے سیکشن 124اے پر غور کرنے سے پہلے وقت کی ترقی اور قانون کے ارتقاء کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔اس سے قبل عدالت عظمی کی الگ الگ بنچ نے دو صحافیوں کشورچندر وانگھمچا (منی پور) اور کنہیالال شکلا (چھتیس گڑھ) کی قانون کو چیلنج کرنے والی عرضی پر مرکز سے جواب مانگاہے۔