سیکولرزم کے دفاع میں 

 

تحریر:یامینی ایئر(صدروچیف ایگزیکیٹیو سینٹر فارپالیسی ریسرچ)

ترجمہ:نایاب حسن

شہریت ترمیمی قانون کے پاس ہونے کے بعد پورے ملک میں جو احتجاج کی لہر چل رہی ہے،یہ اس بات کی گواہی ہے کہ سیکولرزم ہی ایک ایسابنیادی اصول ہے،جواس ملک کو متحدرکھ سکتاہے اور بہ طورایک قوم کے ہندوستان کی بقاکاضامن ہے۔شہریت ترمیمی قانو ن اور این آرسی کے ذریعے اس ملک کے اسی سیکولرزم کو ضرب لگانے کی کوشش کی گئی ہے،جس کی وجہ سے ہندوستان کے تکثیری و متنوع سماجی تانابانا کو خطرہ لاحق ہوگیاہے۔اگر سیکولرزم خطرے میں آجائے گا،تواس سے ہندوستان کمزور ہوگا،شہریت ترمیمی قانون کے پاس ہونے اوراس کے بعد ملک بھرمیں رونما ہونے والے احتجاجات سے یہی سبق ملتاہے۔

سی اے اے اور این آرسی سے ہندوستان کے سماجی تانابانا کو کیانقصان ہوسکتاہے،اس پر اِس مضمون سمیت بہت کچھ لکھاجاچکاہے،مگر یہ موضوع اتنا اہم ہے کہ تکرار کوگوارہ کیاجاسکتاہے۔شہریت ترمیمی قانون کے مطابق افغانستان،پاکستان اور بنگلہ دیش سے آنے والے غیر مسلموں کو فاسٹ ٹریک سٹیزن شپ دی جائے گی اوراسے جواز یوں فراہم کیاگیا ہے کہ وہ لوگ مذہبی بنیاد پر ستائے گئے ہیں یاانھیں اس کا خطرہ لاحق ہے۔مذہب کو شہریت کی دلیل بناکر یہ قانون شہریوں کو مختلف طبقات میں تقسیم کرتااوراس کی بنیاد ان کی مذہبی شناخت کوبناتاہے۔اس کے نتیجے میں شہریت کے حوالے سے عالمی وغیرجانب دارانہ نظریے کادستوری و آئینی عہد ختم ہوجاتاہے،جس کی روسے ہندوستان ہرشخص کا ملک ہے،چاہے وہ جس مذہب سے تعلق رکھتاہو۔شہریت کا یہی وہ تصور تھاجس نے ہمارے جمہوری عہدوپیمان کی بنیاد رکھی تھی۔

سی اے اے کو مکمل طورپر اس وقت سمجھاجاسکتاہے،جب اسے پورے ملک میں این آرسی کے نفاذکے حکومت کے وعدے سے جوڑکر دیکھاجائے۔سی اے اے کا تعلق اگر باہر سے آنے والوں کی شہریت سے ہے،تواین آرسی کا تعلق ہندوستانیوں کی شہریت سے ہے۔اسے شہریوں کی رجسٹری اور ”گھس پیٹھیوں“ یا”ملک کو کھانے والے دیمکوں“ کو یہاں سے نکالنے کے لیے انتظامی وسیلے کے طورپر اختیار کیاگیاہے،این آرسی کے نفاذ کے بعد حکومت کواس بات کی کھلی چھوٹ مل جائے گی کہ وہ یہاں کے شہریوں کے حق شہریت کی جانچ کرے اوران کے مالکانہ دستاویزات کی تفتیش کرے اور پھر اپنی مرضی کے مطابق کسی کو اس ملک کا شہری مانے یانہ مانے۔

جن مذہبی طبقات کو سی اے اے میں نامزدکیاگیاہے،یہ قانون ان کے لیے آلہئ تحفظ کاکام کرے گا،جبکہ دوسرے طبقے(مسلمانوں) کی پریشانیاں بڑھ جائیں گی، انھیں نئے سرے سے تحقیر و تذلیل جھیلناہوگی،ان کے ساتھ تفریق و امتیازبرتاجائے گا،ان کی املاک سلب کی جائیں گی اور انھیں ذہنی و جسمانی طورپر ٹارچرکیاجائے گا۔اس قانون کا سیاسی پیغام اضح ہے۔شہریت ترمیمی قانون اور این آرسی کا مقصدیہ ہے کہ اس ملک کے ایک طبقے کو اجنبی قراردے دیا جائے،جوکہ ہندوستان کی سیکولرروح پر حملہ ہے۔

جب سے یہ قانون پاس ہواہے تب سے شمال اور شمال مشرقی ریاستوں میں احتجاجات ہورہے ہیں اور اتفاق سے یہ احتجاجات بذات خود ہندوستان کے مذہبی و نسلی تعدد وتنوع کی نمایندگی کرتے ہیں،جسے یہ قانون ختم کرنا چاہتاہے۔ شمال مشرق میں ہونے والے احتجاجات کا تعلق جہاں مذہب سے ہے،وہیں اس کا تعلق وہاں کی تہذیب،جنسیت اور زبان سے بھی ہے،جبکہ دہلی،علی گڑھ اور لکھنؤمیں ہونے والے احتجاجات کا تعلق بنیادی طورپر مذہبی تشخص اور مسلمانوں کوشہریت ترمیمی قانون سے خارج کرنے کے امتیازی اقدام سے ہے۔

سیکولرزم کا اصول ہی ہے، جس نے ان مختلف شناخت کھنے والے طبقات کو مربوط رکھاہے اور پرامن بقائے باہمی کی تعلیم دی ہے۔شمال مشرق میں جو احتجاجات ہورہے ہیں،وہ گرچہ سیکولرزم کے اصول پر کھڑے نہیں اترتے،نہ ان کا مقصد ایک اصول اور نظریے کے طورپر سیکولرزم کا دفاع کرنا ہے،ان کا تعلق بنیادی طورپر تاریخ سے جڑاہواہے کہ اگر مشرقی پاکستان(بنگلہ دیش)کے لوگ اِس طرف آتے ہیں،تواس سے یہاں کے اصل باشندوں کی ثقافت اور شناخت پر اثر پڑے گا۔ البتہ سیکولرزم کے دستوری و آئینی اقدار کے مطابق مختلف شناخت رکھنے والے طبقات کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اول مرحلہ میں اپنی اس شناخت اور ثقافت کے مسئلے کو سیاسی حلقے میں اٹھائیں اور ان پر بات کریں۔سیکولرزم ہندوستان کویہ اجازت دیتاہے کہ یہاں مختلف تہذیبوں اور تشخصات پرعمل بھی کیاجائے اوراگرانھیں کوئی خطرہ لاحق ہو،توان کا تحفظ بھی کیاجائے،پس شمال مشرقی ریاستوں کے احتجاجات بھی جمہوری اصولوں سے میل کھاتے ہیں۔

سیاسی تجزیہ کار نیرا چندوک کے مطابق سیکولرزم کی روح اور سیکولر اقدار کا اظہار ہندوستان کی تحریکِ آزادی کے دوران مذہب کی سیاست کرنے اورپاکستان کی شکل میں ایک متقابل ملک کی تشکیل کا پروجیکٹ شروع کیے جانے کی وجہ سے برپاہونے والے فرقہ وارانہ فسادات کے زہر کے تریاق کے طورپر ہوا تھا۔ مذہب کو سیاسی مفادکے لیے استعمال کرنے کی وجہ سے ہمیشہ معاشرے میں تشدداور انتہا پسندی پھیلی ہے،جبکہ اس کے مقابلے میں سیکولرزم ایک پرامن راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔جمہوریت کی روح (کہ قانون کی نظر میں تمام مذاہب برابرہیں اور سٹیٹ کسی بھی خاص مذہب کی تشہیر نہیں کرسکتا)ایک ایسے معاشرے کی بنیاد رکھتی ہے،جس میں متعددشناخت اور تشخصات گوارہ ہوسکتے ہیں اور ان سب کواپنانے والے ایک دوسرے کے ساتھ امن و امان اور بھائی چارہ کے ساتھ زندگی گزار سکتے ہیں۔

موجودہ احتجاجی لہر اس وجہ سے پھوٹی ہے کہ سیکولرزم کو علانیہ خطرہ لاحق ہوگیاہے اور جب بھی ایسا ہوگا،اسی طرح مختلف مذاہب و شناخت کے لوگ احتجاج کے لیے اٹھ کھڑے ہوں گے۔یہ ایک ایسا سبق ہے،جسے وزیر اعظم مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ کو ذہن میں رکھنا چاہیے۔ہندوستان کی بقاکے لیے ہرحال میں سیکولرزم،امن و امان اور بقائے باہمی ضروری ہے۔

حالاں کہ اس میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ ہندوستان کا تجربہئ جمہوریت پوری طرح عیوب اور خامیوں سے پاک نہیں ہے اورمختلف باہم متقابل سیاسی پارٹیاں سیکولرزم کے کاژکو مضبوط کرنے اوراس کی خدمت کرنے کی بجائے اس کے نام پرکھلم کھلا مذہب کی سیاست کو فروغ دیتی رہی ہیں۔یہ بھی سیکولرزم کے اَساسی تصور کا زوال ہے کہ بی جے پی ”سیکولر“ہونے کی حیثیت سے شہریت ترمیمی بل کا دفاع کرتے ہوئے اپنے مخالفین کو”فرضی سیکولر“کہتی ہے۔ جس کی وجہ سے ابھی جولوگ سی اے اے اور این آرسی کی مخالفت میں احتجاج کررہے ہیں،ان کے لیے اصل چیلنج یہ پیدا ہوگیاہے کہ وہ سیکولرزم کا دفاع کن الفاظ میں کریں؟اس وقت ہندوستان کوسخت ضرورت ہے کہ حقیقی جمہوریت کو فرضی دعوے داروں سے چھیناجائے اور اس کے لیے ایسے نئے مفردات و تعبیرات وضع کی جائیں،جو اس کی معتبریت و مصداقیت کی بازیابی کی ضامن ہوں۔ہماری مشترکہ طاقت و قوت ایسا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے؛لہذا ہمیں طے کرنا ہوگا کہ ہندوستان اپنی اصل جمہوری حیثیت اور وقار و اعتبار کو حاصل کرپائے گا یا وہ اپنی تشکیلِ نوکے موجودہ راستے پر گامزن رہے گا۔

(اصل مضمون 17دسمبر کوروزنامہ ہندوستان ٹائمس میں شائع ہواہے)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*