سیکولر قانون پر مسلم پرسنل لا کی بالادستی ؟ – پروفیسر محمد سجاد

 

شعبۂ تاریخ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی

لبرل سیکولر بائیں بازو اور موجودہ حکومت کے دیگر مخالفین کے حلقوں میں اس موضوع پر بہت سی باتیں کی جا رہی ہیں کہ ہندوستانی عدلیہ موجودہ حکومت کے لیے ”نرم گوشہ“ رکھتی ہے۔ بعض افراد جو ابھی جیلوں میں بند ہیں کے ذاتی تجربات بھی اس امر کی تائید کرتے ہیں۔ چیف جسٹس آف انڈیا دھننجے وائی چندرچوڑ  کا ایک حالیہ بیان( نچلی عدالتیں  ”خوف کے احساس” کے تحت کام کر رہی  ہیں،  خاص طور پر ضمانتیں دینے میں)  بھی اس بات کی تائید کرتا ہوا معلوم ہوتا ہے۔  بہر حال مندرجہ بالا واقعات کے خلاف بھی مثالیں موجود ہیں۔  اعلیٰ عدلیہ سے ذاتی تجربات کی ایسی مثالیں بھی عوامی
سطح پر بحث میں لانے کی ضرورت ہے۔
درج ذیل ایک حالیہ واقعہ اس حقیقت کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ  ملک میں برسراقتدار مضبوط ہندوتو اور اس کے لئے مبینہ طورپر ”نرم گوشہ“ رکھنے والی عدلیہ کے باوجود، مسلم پرسنل لا کچھ ایسی  سیاسی شے  ہے کہ اعلیٰ عدلیہ بھی اس کے رجعت پسند انہ اور غیر تاریخی حصوں پر سوال اٹھانے سے کسی قدر”خوفزدہ“ ہے۔ یہ حقیقت  تب عیاں ہوئی جب 21 ستمبر 2022ء کو الہ آباد ہائی کورٹ نے مئی 2022 کے ٹرائل کورٹ (نچلی عدالت)کے فیصلے کو نظراندازکردیا اور اسی طرح 17 اکتوبر 2022ء کوسپریم کورٹ نے بھی مذکورہ معاملے میں مداخلت کرنے سے انکار کر دیا۔
یہ کہانی اعلیٰ عدلیہ میں سیکولر قانون پر مسلم پرسنل لا کی بالادستی کی روداد ہے، جبکہ واقعہ یہ ہے کہ یہ مقدمہ سیکولر قانون کے تحت ٹرائل کورٹ میں  دائرکیا گیا تھا، اس پر بحث بھی اسی کے تحت چلی تھی اور فیصلہ بھی اسی کے تحت سنایا گیاتھا۔
یہ دردناک قصہ کچھ یوں ہے:
نو سال پہلے میری بہن نے مجھ سے اپنی تین ماہ کی بیٹی کو گود لینے کو کہا۔ میں نے ’تحریری سند کی شرط‘کے ساتھ اس کی پیشکش کو قبول کر لیا۔ یقیناً اس کے لیے کچھ قانونی طریقہ کار درکار تھا تاکہ مستقبل میں کوئی نزاع پیدا نہ ہو(انڈین ایکسپریس، 8 مارچ، 2016، "Legally Mine”,)۔ تاہم دستاویز پر دستخط ہونے کے بعد بہن نے مجھے بلیک میل کرنا شروع کردیا اور مجھ سے پیسے اینٹھنے شروع کر دیے۔ کئی لاکھ روپے ادا کر نے کے باوجود جب مجھے مزید بلیک میلنگ کا خدشہ ہوا تو آخر کار میں نے اس کی ریشہ دوانیوں کے نرغے میں مزیدپھنسنے سےانکار کر دیا۔ نتیجے کے طورپر میرے خلاف مقدمات کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہوگیا۔
ساڑھے پانچ سال بعد اگست 2019 میں اس نےGuardians and Wards Act 1890 (جو ایک سیکولر قانون ہے) کے تحت فیملی کورٹ میں ایک عرضی دائر کی۔(اس سے قبل اگست 2019 کے اوائل میں دہلی ہائی کورٹ میں ایک Habeas  Corpus کی عرضی بھی دائر کی گئی تھی جسے عدالت نے خارج کر دیا تھا۔ دہلی ہائی کورٹ نے انہیں بچی سے ایک گھنٹہ کے لئے ملنے کا  اختیار دیا، جسے انہوں نے استعمال کرنے سے گریز کیا۔
مئی 2022 میں ٹرائل کورٹ نے 29 صفحات پر مشتمل فیصلہ دیا جس کے مطابق بچی کو 18 سال کی عمر کو پہنچنے تک رضاعی والدین کی تحویل میں رہنے کا حکم دیا گیا۔ ٹرائل کورٹ نے بچی کے نسبی والدین (biological parents)کو گرمیوں کی چھٹیوں کے دوران اپنے خرچ پر علی گڑھ میں اپنی بیٹی کے ساتھ پندرہ دن گزارنے کی اجازت بھی دی۔اس اختیار کا استعمال ان لوگوں نے 23 جون سے 09جولائی 2022ء کے درمیان کیا۔
مقدمے کی سماعت کے دوران مئی 2022ء میں ٹرائل(فیملی) کورٹ جج نے اپنے نجی چیمبر میں آدھے گھنٹے تک بچی کا انٹرویو بھی کیا اور پھر اس کے فوراً بعد دونوں ماؤں (نسبی اور رضاعی) اوران کے وکیلوں کی موجودگی میں بھی اس کا انٹرویو لیا گیا۔ جج نے ساڑھے آٹھ سالہ بچی کو ذہین، سمجھدار‘  باخبراور اچھے اخلاق کی حامل پایا اور اس بات کی بھی تصدیق کی کہ وہ اپنے رضاعی گھر میں بہترین تعلیم حاصل کر رہی تھی۔ مزید یہ کہ ٹرائل کورٹ کے ریکارڈ میں موجود دستاویزات نے اس بات کی گواہی بھی دی کہ میری بہن مجھ سے رقم بٹور رہی تھی اور اس کے شوہر،  شریک مدعی(co-petitioner) نے بھی ٹرائل کورٹ کے سامنے اس بات کا اعتراف کیا۔

معاملے پر بحث و مباحثے کے دوران اوراس کے فیصلے پر پہنچنے سے پہلے،  ٹرائل کورٹ نے یہ بھی واضح کیاکہ تنازعہ کے فریقین میں سے کسی نے بھی مسلم پرسنل لا کے تحت درخواست نہیں کی۔  اس  کے علاوہ،  مدعیوں کے دیگر دستاویزات اور بیانات نے بھی اس حقیقت کو ثابت کیاکہ بچی کے نسبی والدین نے اپنی تین ماہ کی بیٹی کو اپنی مرضی اور باہمی رضامندی سے رضاعی والدین کوگوددیا تھا۔
بالا آخریہ تنازعہ الہ آباد ہائی کورٹ تک پہنچ گیا۔ تاہم ایک ڈویژن بینچ نے تقریباّ پہلی ہی مختصر بحث میں ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو یکسر مستردکر دیا۔  دراصل اس فیصلے میں مسلم پرسنل لا میں گود لینے کی ممانعت کو ہی دخل تھا۔ دیکھنا اورغور و خوض تو درکنار‘الہ آباد ہائی کورٹ کے بینچ نے ٹرائل کورٹ کے ریکارڈ کوطلب کرنا بھی گوارانہیں کیا۔ ہائی کورٹ نے اس حقیقت کو بھی نظر انداز کر دیا کہ  مقدمہ تو ملک کے سیکولر قانون کے تحت دائر کیا گیا تھا۔یعنی کسٹڈی کے فیصلے کو ہائی کورٹ نے از خود  adoption یعنی گود لینے کے طور پر سمجھ لیا۔  مزید یہ کہ ہائی کورٹ نے اپنے صوابدیدی(discretionary) اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے Parens Patriae” "کا حوالہ دے دیا۔ اس کااطلاق اس مخصوص معاملے میں کیوں کر موزوں ہے، یہ تو صرف جج صاحبان کو ہی معلوم ہے۔
یوں کہا جا سکتا ہے کہ، میرے زخموں پر نمک چھڑکتے ہوئے،  یبنچ نے مجھ پر نسبی والدین کو اپنی بیٹی سے ملنے نہ دینے کا الزام بھی لگایا۔ جبکہ اس حقیقتت کو یکسر نظرانداز کردیا گیا کہ لڑکی کے نسبی والدین اور ان کے بچے اگست 2019ء میں مقدمہ دائر کرنے تک بچی سے ملتے رہے۔ وہ لوگ ہرسال کے موسم گرما کی چھٹیاں، جدہ سے آکر، اس بچی کے ساتھ،  ہمارے گھر، گزارتے رہے۔ فریقین کے بیانات کے ساتھ ساتھ ٹرائیل کورٹ میں موجود دستاویزات سے بھی اس حقیقت کی تصدیق ہوتی ہے۔ پہلے عرض کیا جا چکا ہے کہ درحقیقت اگست 2019ء کے اوائل میں دئیے گئے دہلی ہائی کورٹ کے حکم کے باوجود بچی کے نسبی والدین نے اس سے ملنے سے گریزکیا۔ اور سنہ 2020 اور 2021 کی گرمیوں میں کووڈ اور لاک ڈاؤن جیسی پریشانیاں اور پابندیاں تھیں۔
اسی 2021ء  کی  گرمیوں میں میری بہن میرے خلاف  ایک ایگزیکٹو عدالت (جسکی عمارت فیملی کورٹ کی عمارت سے تقریباّ متصل ہے) میں اغوا کا مجرمانہ مقدمہ چلانے کی حد تک چلی گئی۔جبکہ دو سال پہلے،  یعنی اگست 2019ء سے ہی ایک دیوانی مقدمہ، فیملی کورٹ میں زیر سماعت تھا، جو میری بہن کی جانب سے ہی داخل کیا گیا تھا۔یعنی اب یہ معاملہ ایگزیکٹو کو،  عدلیہ کے اوپر کا مرتبہ،  دینے کا ہو گیا۔
ہائی کورٹ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے، 20 اکتوبر 2022 کو،  بچی کو،  اس کے نسبی والدین کے حوالے کر دیا گیا،  جس کے نتیجے میں بچی کا اسکول (جو خطے کے بہترین اسکولوں میں سے ایک ہے) جانے کا سلسلہ بھی منقطع ہوگیا۔ درجہ چہارم کی ایک ذہین اور ہونہار طالبہ نومبرمیں ہونے والے امتحانات سے بھی محروم رہی۔اور اس طرح اس کا ایکڈمک سال خطرے میں ڈال دیا گیاہے۔
راقم نے جب سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تو17اکتوبر 2022کو عدالت عالیہ نے بھی اس بات کا اظہار کیا کہ ”ہمیں مداخلت کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی“۔ یہاں یہ بات بڑی واضح طور پر عیاں ہوتی ہے کہ مسلم پرسنل لا اعلیٰ عدلیہ کے ذہن پر بھی اس حد تک قابض ہے کہ سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے فیصلے میں جو واضح تضادات (مقدمے سے متعلق مصدقہ حقائق اور متعلقہ قوانین، دونوں اعتبار سے)  ہیں۔ ان تضادات کو  دیکھنے اور ان پر غور کرنے کی ضرورت بھی سپریم کورٹ نے نہیں سمجھی۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ موجودہ وقت کے کچھ مشہور،  مسلم نام والے قانونی معاملوں کے کالم نگار بھی اس طرح کی غلط فہمیوں کو دور کرنے میں عدلیہ کی مدد نہیں کر رہے ہیں۔ بلکہ وہ مسلم لاء بورڈ کی حوصلہ افزائی کرتے  رہتے ہیں، یعنی وہ قرآن مخالف اور تاریخ مخالف  قوانین کی معرفت،  عورتوں اور بچیوں پر ظلم برقرار رکھنا چاہتے ہیں، اور کسی بھی اصلاح کے خلاف صف آراء ہو جاتے ہیں۔
یہاں یہ بات واضح کرتا چلوں کہ اگر حضرت زیدبن حارثہ (جن کی پرورش نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کی تھی) کے واقعے کی روشنی میں اس معاملے کو دیکھنے کی کوشش کی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ لے پالک (adopted) بچی کی خواہش کو ہی ملحوظ خاطر رکھا جائے گا۔ کیونکہ تاریخگواہ ہے کہ یہ زیدبن حارثہ کی خواہش تھی جس کے مطابق وہ اپنے  نسبی والدین کے پاس واپس بھیجے جانے کے بجائے، رضاعی والد، رسول اللہ ﷺ کی تحویل(کسٹڈی)  میں ہی رہے۔ اسلامی تاریخ کا یہ مخصوص پہلو قرآن میں بھی بڑا واضح ہے اور کورنیل یونیورسٹی کے پروفیسر ڈیوڈ سٹیفن پاورز کی 2014 میں شائع کردہ ایک موقر تحقیق(جو زید بن حارثہ کی سوانح عمری ہے) میں بھی صراحت کے ساتھ زیربحث لایا گیا ہے۔ لیکن،  طلاق ثلاثہ جیسے غیر قرآنی موضوع کی طرح،  یہ معاملہ بھی،  مسلم پرسنل لا بورڈ کی ہٹ دھرمی کی بھینٹ چڑھ گیا۔افسوس ناک بات یہ بھی ہے کہ قانون کے موجودہ عہد  کے معرو ف  مسلم پروفیسر و کالم نگار بھی اس ضمن میں عدالت عالیہ کی مبنی بر انصاف رہنمائی کرنے اور غلط فہمیوں کا ازالہ کرنے کے بجائے پرسنل لا بورڈ کی  ہٹ دھر میوں کی حمایت کرتے نظر آتے ہیں۔در اصل ہندوتوا حکومت ہو، یا اس سے قبل کی حکومتیں ہوں، وہ مسلمانوں کے رجعت پسند عناصر کی ہی حمایت کرتے رہتے ہیں۔ اگر یہ معاملہ جنسی انصاف سے تعلق رکھتا ہو تو حکومتیں مردانہ تسلط کی جانب ہی جھک جایا کرتی ہیں۔
کیا مذکورہ بچی کی کہانی بھی شاہ بانو کی کہانی کا اعادہ ہوگا؟
یہ بات قابل ذکر ہے کہ،  مئی 1986 میں،  پارلیمنٹ نے سپریم کورٹ کے اپریل 1985 کے فیصلے کو،  مسلم پرسنل لا کے نام پر برقرار رکھنے کے لیے،  منسوخ کر دیا تھا۔ اس کے بعد قدآور مسلم مذہبی پیشواؤں سمیت کسی نے بھی مڑ کر نہیں دیکھا کہ 1986 کے بعداس بوڑھی بے بس خاتون شاہ بانو بیگم (1916-1992) کی زندگی کے ساتھ کیا ہوا؟ مصنفین‘ صحافیوں، اوردانشوروں  میں سے کسی نے بھی شاہ بانو بیگم اور ان کے مصائب پرکوئی جامع سوانح عمری تک تحریر کرنے کی زحمت تک کوگوارا نہیں کیا۔ میرے محدود علم کے مطابق انگریزی زبان کے کسی بھی مقبول یا بااثر قومی اخبار نے شاہ بانو کی کوئی مفصل  تعز یتی  تحریر تک شائع نہیں کی۔ میں اس سلسلے میں مذہبی پیشواؤں کی جانب سے آں وقتی وزیر اعظم راجیو گاندھی کو گمراہ کرنے اور قانون سازی(legislation) کے ذریعے عدالتی فیصلے کو کالعدم قرار دینے میں ان کے کردار کو زیربحث لانے سے فی الوقت گریز کرتا ہوں۔ (تفصیل کے لیے دیکھئے  ’کاروان زندگی‘ 1988،   مصنف علی میاں ندوی‘جلد سوم‘ باب چہارم)۔
یہاں پر یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ، اگست ۰۲۰۲ء میں سپریم کورٹ نے ہندو پرسنل لاء کے خلاف جاتے ہوئے، باپ کی وراثت میں لڑکیوں کو لڑکوں کے برابر حصہ دیے جانے کا فیصلہ سنایا۔ لیکن 1985-86 کے مسلمانوں کے بر عکس، ہندووں نے کوئی واویلا نہیں مچایا۔
یہ واقعہ بہت کم لوگوں کے علم میں ہے کہ اپنی عمر کی ساٹھویں دہائی میں اندور کی اس بوڑھی خاتون شاہ بانو بیگم کو گھر سے نکالے جانے کے بعد ہی اس نے اپنے شوہر سے کفالت کے لیے عدالت سے رجوع کیاتھا۔ اس کا شوہرخود ایک متمول وکیل تھا اوراس نے اندور کی عدالت میں جج کی موجودگی میں اس عورت کو غیر قرآنی طلاق ثلاثہ کے تحت اپنی زوجیت سے فارغ کر دیا تھا۔ اس طرح محمد احمد خان نےاپنی بیوی شاہ بانو بیگم کی کفالت کی ادائیگی کی ذمہ داری سے خود کو آزاد کر لیاتھا۔یہ واقعہ، بلکہ سانحہ1975 سے 1978 کے درمیان کا ہے۔
اسی طرح،  جیسا کہ میری اپنی کہانی واضح طور پر گواہی دیتی ہے کہ مسلم پرسنل لا اور اس کے حامیوں اور ہندوستان کی اعلیٰ عدلیہ کے حامیوں نے مذکورہ بچی پر نازل ہونے والے شدید منفی نفسیاتی اثرات اور دیگر تمام مشکلات کے بارے میں فکر کرنے کی ضرورت نہیں سمجھی ہے،  جن سے یہ بد نصیب  نو سالہ بچی گزر رہی ہے۔ اس میں اس کا معیاری تعلیم سے محروم ہونا بھی شامل ہے۔ اس بات کا پورا امکان ہے کہ وہ متعدد قسم کے تعلیمی نقصانات سے بھی گزر سکتی ہے۔
اس  امر کو واضح کرنا  ضروری ہے کہ مسلم پرسنل لا 1937 میں جناح کے ایما پر وجود میں لایا گیا۔ یہ ایک کل ہند سیاسی مسلم شناخت کو توانائی بخشنے کے لئے اٹھایا گیا،  خالص سیاسی قدم تھا۔  اور دس سال کے اندر١٩٤٧ میں ملک کو تقسیم کرانا آسان، بلکہ نا گزیر ہو گیا۔ یعنی مسلم پرسنل لاء کی سیاسی طاقت اتنی شدید ہے کہ  سیکولرمعاملات کے مقدمہ (بچی کی کسٹڈی) میں بھی موقع پرستانہ طور پر مدعی نے ضمنی حوا لہ دے دیا، تو اعلی عدالتوں نے اسی  پرسنل لا کے غلبہ اور دبدبہ کے زیر  اثر بچی کی خوشی، مرضی اور اس کے حقوق کو پامال کرتے ہوئے نہایت جلد بازی میں ایک فیصلہ سنا دیا گیا۔
مجھے یقین ہے کہ یہ صرف واحد میرا ہی انفرادی معاملہ نہیں ہوگا۔ یقینی طور پرہماری عدلیہ کا ریکارڈ ایسے مقدموں سے بھرا ہواہوگا، جہاں پرسنل لاء کے نام پر ناانصافیاں  ہو رہی ہوں گی۔ میں سیکولر قوانین پر پرسنل لاکی سخت گیر گرفت سے ہار چکا ہوں،  لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر اور کتنے معصوموں کو اس چکی میں پسنا پڑے گا؟ کیا یہ سوال کرنے کا صحیح وقت نہیں ہے کہ  پرسنل لاء ایسے معاملات میں اصلاح کے لئے نظر ثانی کرے۔  مذہب کی غلط تعبیر کو کمیونٹی کی اجتماعی انا  کا مسئلہ بنا کر، اسے  ہی بر تری دی جاتی رہے گی؟  یا  انفرادی حقوق و اختیارات، انسانی فلاح، اور جنسی انصاف کے لئے اصلاح، قانون سازی اور عدالتی فیصلہ سازی بھی کی جائے گی؟ اگر مذہبی رہنما اور علماء و دانشور،  پرسنل لا میں ضروری اور نا گزیر اصلاح کے لیے مطلوبہ اقدامات نہیں اٹھاتے  ہیں تو کیا ان کے پاس جلد یا بدیر ہونے والی ریاستی مداخلت(state intervention) کے خلاف آ واز اٹھانے کاکوئی اخلاقی جوازہے؟
اس کے علاوہ ایک قابل غور نکتہ یہ بھی ہے کہ سیکولر قوانین کے تحت بھی ان پرورش کرنے والے والدین (fostering parents)کے حقوق کو تسلیم نہیں کیا جاتا ہے،  جن کے طویل نو سال کے جذباتی اور نفسیاتی سرمایہ کو بھی بڑی بے دردی کے ساتھ خارج کر دیا گیا ہے۔جبکہ نسبی والدین (biological parents)کو ہر قسم کے حقوق فراہم کئے گئے ہیں چاہے وہ مصدقہ طور پر  مالی بلیک میلر ہی کیوں نہ ہوں، جیسا کہ موجودہ معاملہ میں ہے۔
ایسا کوئی قانون فی الحال وجود میں آتا ہوا نظر نہیں آرہا جو نسبی والدین کو مذہب اور پرسنل لا کے نام پرنو سال پرانے معاہدے سے بدعہدی کرنے کے جرم میں سزا د لاسکے۔کیا کوئی توقع کرسکتا ہے کہ سپریم کورٹ اس مقدمہ پر نظر ثانی کرےگا؟

[ انگریزی زبان میں یہ مضمون ہفتہ وار آؤٹ لک کے ویب سائیٹ پر ۴۱ جنوری ۲۲۰۲ء کو شائع ہوا ہے]

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*