کورونا وائرس:حکومت راجستھان کا ایک ہفتے کے لیے بارڈر سیل کرنے کا فیصلہ

نئی دہلی:کورونا بحران کے درمیان راجستھان ایک ہفتے کے لیے بارڈر سیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کورونا بحران کی وجہ سے راجستھان نے دیگر ریاستوں کے ساتھ اپنی سرحدیں پھر سیل کردی ہیں۔ اب انتظامیہ سے راجستھان آنے اور جانے کے لئے اجازت لینی ہوگی۔ادھر صرف پاس والے لوگوں کو آمدورفت کی اجازت دی جائے گی۔ راجستھان کی سرحدیں پنجاب، اترپردیش، مدھیہ پردیش اور ہریانہ سے متصل ہیں۔ راجستھان میں کورونا انفیکشن کے معاملے تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ آج صبح 123 نئے مریضوں کی تصدیق ہوئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ریاست میں متاثرہ افراد کی تعداد 11300 کو عبور کر چکی ہے۔ اس وائرس کی وجہ سے 250 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ اس سے قبل 6 مئی کو ریاستی حکومت نے سرحدوں کو سیل کردیا تھا۔ڈائریکٹر جنرل لا اینڈ آرڈر ایم ایل لاٹھرنے اس سلسلے میں ایک آرڈر جاری کیا ہے۔اس میں کہا گیا ہے کہ ریاست میں کورونا وائرس کے انفیکشن کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر ریاستی حکومت نے بین ریاستی آمدورفت کو کنٹرول کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس میں متعلقہ پولیس کمشنر، انسپکٹر جنرل اور ڈسٹرکٹ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سے کہا گیا ہے کہ وہ ہمسایہ ریاستوں کے ساتھ ملحقہ سڑکوں اور راستوں پر فوری طور پر پولیس چیک پوسٹ قائم کریں اور دوسری ریاستوں کے افراد کو بغیر اجازت کے آنے نہ دیں۔اس نظام کے تحت دیگر ریاست سے اسی شخص کو آنے کی اجازت ہوگی جس نے اپنی ریاست سے کوئی پاس حاصل کیا ہو۔اسی طرح ریاست سے باہر جانے کے لئے اتھارٹی سے پاس حاصل کرنا ہوگا۔ اس میں کہا گیا ہے کہ حکام کو صرف ہنگامی حالات میں ہی پاس جاری کرنا چاہئے جیسے خاندان میں کسی کے علاج یا موت کے لئے جانا۔