تریپورہ مسلم مخالف تشدد کے خلاف ایس ڈی پی آئی کا ملک گیر احتجاج

نئی دہلی ( پریس ریلیز): سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (SDPI) کارکنان نے تریپورہ میں مسلم مخالف تشدد کی مذمت اورتشدد کو قابو پانے اور مجرموں کی گرفتاری کامطالبہ کرتے ہوئے نئی دہلی تریپورہ بھون سمیت ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے کئے ۔ اس موقع پر ایس ڈی پی آئی لیڈران نے اپنی تقاریر میں کہا کہ تریپورہ میں مسلمانوں کے خلاف دائیں بازو کے فسطائی تشدد انتہائی تکلیف دہ اور افسوسناک ہے۔ غیر بی جے پی مرکزی دھارے کی سیاسی پارٹیاں جو اقلیتی برادریوں اور پسماندہ طبقات کیلئے کھڑے ہونے کا دعوی کرتے ہیں ان کی تریپورہ تشدد پر خاموشی تشویش ناک ہے۔ یہ ان پارٹیو ں کیلئے شرم کی بات ہے کہ وہ ان حملوں پر آنکھیں بند کئے بیٹھے ہوئے ہیں ، تریپورہ میں جو ہورہا ہے کہا جارہا ہے کہ وہ بنگلہ دیش میں ہندو برادری پر ہونے والے تشدد کا بدلہ ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ تریپورہ تشدد پر خاموش ان پارٹیوں کا فاشزم کی مخالفت کرناصرف اقتدار پر قبضہ کرنے کی سیاست تک ہی محدود ہے اور فسطائیوں کی طرف سے مسلمانوں پر جو مظالم ڈھائے جارہے ہیں ان کو اس کی کوئی فکر نہیں ہے۔ فسطائی حکومت کے تحت مسلمانوں کی موجودہ خوفناک حالت میں بھی، نام نہاد فسطائی مخالف پارٹیاں مسلمانوں کو صرف ایک ووٹ بینک کے طور پر شمار کرتی ہیں اور مسلمانوں کیلئے وہ جو مبالغہ آمیز زبان بولتے ہیں ، وہ محض مسلمانوں کے ووٹ اکھٹے کرنے نفرت انگیز حربے ہیں۔ بنگلہ دیش میں گزشتہ ہفتے درگا پوجا تہوار کے دورا ن اقلیتی ہندو برادری پر مسلم فرقہ پرست کے حملوں کے بعد تریپورہ میں کٹر ہندوتوا دائیں بازو کے فاشسٹ قوتوں کی طرف سے شروع کیا گیا تشددابھی بھی جاری ہے۔ جبکہ پولیس کا دعوی ہے کہ حالات قابو میں ہیں۔بنگلہ دیش میں مجرموں کے خلا ف مقدمہ درج کیا گیا ہے اور مجرموں کے خلاف سخت کارروائیاں شروع کی گئیں ہیں۔ بنگلہ دیش میں ایک ہندو مندر میں ایک مجسمے کے پائوں میں قرآن پاک رکھنے کے گستاخانہ فعل کے ردعمل میں تشدد شروع ہوا تھا۔ بنگلہ دیش کی حکومت نے درگا پوجا کے تشدد کے بعد ہندو برادری تک پہنچنے میں جلدی کی ہے۔ متعدد گرفتاریاں کی گئی ہیں اور وزراء متاثرہ ہندو خاندانوں سے ملاقات کررہے ہیں۔ اس طرح کی کارروائی برادریوں کے درمیان کشیدہ تعلقات کو ٹھیک کرنے میں مدد کرسکتی ہیں ، ہندوستان کے لیڈروں کے لیے بھی اس میں ایک سبق ہے۔ حکومتوں کا فرض ہے کہ وہ ملک میں اقلیتوں کو بلا لحاظ مذہب، ذات پات یا نسل کے تحفظ فراہم کریں۔جبکہ بنگلہ دیش ، اقلیتوں کے تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے اس فرض کو ادا کرنے کی کوشش کررہا ہے اور دوسری طرف ہماری حکومت مجرموں کو تحفظ فراہم کررہی ہے اور ان کے ساتھ کھڑی ہے ۔ایس ڈی پی آئی کارکنان نے مطالبہ کیا کہ تریپورہ میں مسلمانوں پر تشدد برپا کرنے والوں کے خلاف سخت اقدامات کئے جائیں ۔