سائنسی علوم بھی اللہ کی معرفت کا ذریعہ ہیں !- ڈاکٹر محمد واسع ظفر

استاذ و سابق صدر، شعبہ تعلیم ، پٹنہ یونیورسٹی، پٹنہ
(رابطہ: mwzafar.pu@gmail.com )

قرآن مجید میں ایک بہت ہی اہم بات کہی گئی ہے، وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے اس کے بندوں میں سے وہی ڈرتے ہیں جو علم رکھنے والے ہیں۔ اس علم سے کون سا علم مراد ہے اور اس کے حصول کے طریقے یا ذرائع کیا ہیں؟ دوسرے لفظوں میں یوں کہیںکہ دنیا میں علم کی وہ کون کون سی شاخیں ہیں جوخشیت الٰہی کے اس مقام تک پہنچنے میں معاون ہیں؟ ان باتوں کو سمجھنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ اُس آیت قرآنی کے سیاق و سباق پر غور کیا جائے جس میں یہ بات کہی گئی ہے۔ قرآن کریم کی اُس آیت کا ترجمہ مع ماقبل آیت کے اس طرح ہے: ’’کیا تم نے نہیں دیکھاکہ اللہ نے آسمان سے پانی برسایا، پھر ہم نے اس کے ذریعے کئی طرح کے پھل نکال دئے جن کے رنگ جداگانہ ہیں اور پہاڑوں میں بھی سفید اور سرخ قطعے ہیں جن کے رنگ مختلف ہیںاور کچھ گہرے سیاہ ہیں۔اور اسی طرح انسانوں، جانوروں اور مویشیوں میں بھی مختلف رنگ ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے اس کے بندوں میں سے وہی ڈرتے ہیں جو علم رکھنے والے ہیں۔بے شک اللہ سب پر غالب اور بہت بخشنے والا ہے۔‘‘ (فاطر: ۲۷۔۲۸)۔
ان آیات پر غور کرنے سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ یہاں علم سے اللہ تعالیٰ، اس کی قدرت، اس کی تخلیقی قوت، اس کی کاریگری اور فن کاری کی معرفت مراد ہے۔ اس علم کو حاصل کرنے کے لئے یا معرفت کے اس مقام تک پہنچنے کے لئے قرآن کریم نے یہاں چند چیزوںکی طرف انسان کی توجہ مبذول کرائی ہے۔ ان میں سب سے اول بارش کا نظام ہے۔ قرآن نے انسان کو یہ ترغیب دی ہے کہ وہ بارش کے نظام پر غور کرے اور اس کے پیچھے کار فرما اللہ کی قدرت کو سمجھے۔یہ خالصتاًسائنس (Science) بالخصوص جغرافیہ (Geography) ، ماحولیاتی سائنس (Environmental Science) اور موسمیات (Meteorology) سے متعلق علم ہے۔ اگر پورے آبی چکر (Water Cycle) کا ہم گہرائی سے جائزہ لیں تو قدرت کے نظام کی تعریف کئے بغیر نہیں رہیں گے۔ پانی کس طرح زمین کی سطح، دریاؤں، تالابوں، سمندروں وغیرہ سے عمل تبخیر (Evaporation) کے ذریعے اور درختوں و پیڑ پودوں سے اخراج بخارات کے عمل (Transpiration) کے ذریعے بخارات کی صورت میں اوپر اٹھتا ہے اور عمل تکثیف (Condensation) کے ذریعے بادلوں کی شکل اختیار کرلیتا ہے، پھر ہوا ان بادلوں کو دور دراز کے پہاڑوں، پٹھاروں ، میدانی علاقوں، دریاؤں اور سمندروں کے اوپر بکھیردیتی ہے جہاں بارش ہوتی ہے اور دریاؤں و سمندروں کے ساتھ رساو (Percolation) کے ذریعے زمین کے اندر پانی کی سطح بنی رہتی ہے اورہم جہاں چاہیں وہاں سے کنوؤں اور ٹیوب ویلوں کے ذریعے پاک و صاف پانی حاصل کرلیتے ہیں۔ صاف پانی بڑی مقدار میں برف کی شکل میںپہاڑوں پر بھی جمع کردیا جاتا ہے جو دھیرے دھیرے پگھل کر دریاؤں اور سمندروں کو زندہ رکھتا ہے اور زمینی سوتوں (Water Veins) کے ذریعے بھی دور دراز کے میدانی علاقوں تک پہنچ جاتا ہے۔ دنیا کی کوئی بھی حکومت اتنی بڑی مقدار میں سمندر کے پانی کو مکمل طور پر صاف کرکے پہاڑوں پر جمع کرنے یا میدانی علاقوں تک پہنچانے کا یہ انتظام نہیں کرسکتی اور نہ ہی زمین کے اندر پانی کی سطح کو برقرار رکھ سکتی ہے جو قدرت کی ذہین منصوبہ بندی (Intelligent Planning) سے خود بخود جاری ہے۔
دوسری چیز جس کی طرف ان آیات نے ہماری توجہ مبذول کرائی ہے وہ یہ ہے کہ بارش کا یہ پانی جب مختلف ذرائع سے خشک اور مردہ زمینوں تک پہنچ جاتا ہے تو پیڑ پودوں اور پھولوں و پھلوں سے وہ لہلہا اٹھتی ہے۔ ایک ہی زمین اور ایک ہی قسم کے پانی سے سیراب ہونے کے باوجود اس میں مختلف رنگوں اور اقسام کے پھول اور پھل نکلتے ہیں جن کی خوشبو اور ذائقہ بھی جدا جدا ہوا کرتا ہے۔ انسان کیا سمجھتا ہے کہ یہ سب خود بخود ہورہا ہے؟ نہیں بلکہ اس کے پیچھے اللہ تعالیٰ کی قدرت کام کررہی ہوتی ہے جو ذرا بھی گہرائی سے سوچنے سے سمجھ میں آسکتی ہے۔ اگر غور کیا جائے تو یہ علم ، نباتیات (Botany) اور زراعت (Agriculture) کے شعبے سے متعلق ہے۔
تیسری چیز جس کی طرف قرآن کریم نے توجہ مبذول کرائی ہے وہ پہاڑوں کی ساخت اور ان کی رنگت میں پایا جانے والا اختلاف ہے جو کہ جغرافیہ (Geography) ، علم الارض (Earth Science) اور علم الحجرات یا علم طبقات الارض (Geology) کا موضوع ہے۔ بعض پہاڑ سفید، بعض سرخ اور بعض بہت گہرے سیاہ رنگ کے ہوتے ہیں۔ اسی طرح بعض پہاڑ بالکل خشک، بنجر اور ویران ہوتے ہیں جب کہ بعض پیڑ پودوں اور جنگلات سے سرسبزو شاداب۔ پھر اس بھی غور کیجئے کہ پہاڑوں سے کتنے اقسام کے نامیاتی (Biotic) اور غیر نامیاتی (Abiotic) قدرتی وسائل حاصل ہوتے ہیں۔انہیں کس نے پہاڑوں میں جڑ دیا ہے؟ یہاں بھی آپ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی کاریگری اور صناعی کے قائل ہوئے بغیر نہیں رہیں گے۔پہاڑوں پر گلیشیرز (Glaciers) کے نظام اور ان کے فوائد کا ذکر تو سطور بالا میں کیا ہی جاچکا ہے جن کے اعادہ کی اب ضرورت نہیں۔
چوتھی چیز جس کی طرف قرآن کریم نے توجہ مبذول کرائی ہے وہ انسان کی خود اپنی صورت اور جانوروں و مویشیوں کی ساخت اور ان کارنگ و روپ ہے۔ ان میں اتنا تنوع (Diversity) اور پیچیدگی (Complexity) ہے کہ اگر ان پر غور کیا جائے تو ایک درجے (Level) کے بعد انسان کا ذہن کام نہیں کرے گا اور وہ یہ کہنے پر مجبور ہوجائے گا کہ اللہ سب سے بڑا ہے یعنی اس کی قدرت بہت بڑی ہے۔ بشریات (Anthroplogy) ، حیاتیات (Biology) ، جینیات (Genetics) ، میڈیکل سائنس، بیطاریات (Veterinary Science) وغیرہ جن سے ان کا علم جڑا ہوا ہے، ان میں آئے دن انکشافات ہورہے ہیں اور نئی نئی باتیں سامنے آرہی ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی شعبہ علم اپنے آپ میں مکمل نہیں کہا جاسکتا ! سائنس کی ہر تحقیق دراصل مخلوقات میں پنہاں اللہ کی قدرت کی نشانیوں کو ہی منظر عام پر لارہی ہے۔
قرآن کی دوسری آیت (مثلاً سورۂ روم آیت ۲۱) میں انسانوں میں رنگوں کے اختلاف کے ساتھ بول چال اور زبانوں کے اختلاف کی طرف بھی توجہ مبذول کرائی گئی ہے۔ اتنی ساری زبانیں اور بولیاں (Dialects) انسان کو کس نے سکھائے؟ آج بھی ماہرین لسانیات (Linguists) بہت سی قدیم زبانوں کی تحریروں کو سمجھنے اور ان کی تشریح کرنے سے قاصر ہیںجو تاریخی تحقیق کی بنا پر کتبے یا مخطوطے کی شکل میں منظر عام پر آئی ہیں۔ پھر انسانی رویے کو سمجھنے سے متعلق علوم کے شعبے جیسے نفسیات (Psychology)، عمرانیات (Sociology) ، سیاسیات (Political Science)، اقتصادیات (Economics) وغیرہ ان سب کے علاوہ ہیں۔
علم کے ان تمام شعبوں کی طرف توجہ دلانے کے بعد قرآن یہ کہہ رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے اس کے بندوں میں سے وہی ڈرتے ہیں جو علم رکھنے والے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان علم کے ان میں سے کسی بھی شعبے میں جتنی گہرائی سے مطالعہ کرتا جائے گا اور جتنی زیادہ مہارت و درجہ کمال کی طرف بڑھے گا، اتنا ہی اسے اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل ہوگی ، اتنا ہی وہ اس کی قدرت، حکمت اور عظمت کا قائل ہوگا۔ ان علوم کو حاصل کرنے کے بعد بھی اگر کوئی شخص اللہ تعالیٰ کو نہیں پہچان سکا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ابھی تک سطحی علم کا مالک ہے، اس نے ان میں گہرائی سے غور و فکر ہی نہیں کیا یا یوں کہیں کہ اس کے مطالعہ کا رخ ہی درست نہیں تھا ۔
اسی طرح قرآن دیگر آیات (جیسے انعام: ۹۶، الاعراف: ۵۴، یونس: ۵، الرعد: ۲، النحل: ۱۲، الانبیاء: ۳۳، الحج: ۱۸، العنکبوت: ۶۱، لقمان: ۲۹، فاطر: ۱۳، یٰسین: ۴۰ وغیرہ) میں انسان کی توجہ سورج، چاند، ستاروں اور سیاروں کی طرف بھی مبذول کراتا ہے اور ان کی ساخت، ان کی حرکات و سکنات، ان کے مدار، مدار میں ان کی رفتار،اور ان کے درمیان قائم توازن پر بھی غور و فکر کرنے کی ترغیب دیتا ہے تاکہ وہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی باحکمت و ذہین منصوبہ بندی (Intelligent Planning) کو سمجھ کر اس کو پہچانے۔ یہ پوری کائنات دراصل اللہ تعالی کی حکمت بالغہ اور قدرت کاملہ کی آئینہ دار ہے۔ اس میں پیش آنے والا ہر واقعہ اور اس کی تمام چیزیں پکار پکار کر یہ کہہ رہی ہیں کہ اس کائنات کا کوئی خالق ہے لیکن ان کی پکار سننے اور سمجھنے کے لئے کامل علم (Perfect Knowledge) اور صحیح فکر (Judicious Thought) چاہیے۔ آدھے ادھورے علم سے معرفت کا یہ مقام حاصل نہیں ہوسکتا!
قرآن نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے: {سَنُرِیْھِمْ اٰیٰتِنَا فِی الْاٰفَاقِ وَ فِیْٓ اَنْفُسِھِمْ حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَھُمْ اَنَّہُ الْحَقُّ} ’’عنقریب ہم انہیں اپنی (قدرت کی) نشانیاں آفاق عالم میں بھی دکھائیں گے اور خود ان کی اپنی ذات میں بھی یہاں تک کہ ان پر یہ بات کھل جائے گی کہ یہ (قرآن) بالکل حق ہے‘‘۔(حٰمٓ سجدۃ: ۵۳)۔
اس کائنات میں قدرت کی نشانیاں سب سے پہلے اور بہ آسانی کس کو سمجھ میں آسکتی ہیں؟ ظاہر ہے کسی عالم تکوینیات (Cosmologist)یا عالم فلکی طبیعات (Astrophysicist)کو۔ کہکشاؤں (Galaxies) اور بلیک ہولز (Black Holes) کو دیکھ دیکھ کر آج کون حیران و پریشان اور حواس باختہ ہے؟ ظاہر ہے ماہرین فلکیات (Astronomers) ! سائنس در حقیقت اس کائنات میں موجود قدرت کی نشانیوں کی پرتیں ہی کھول رہی ہے۔اسی طرح اپنے وجود کے اندر اللہ تعالیٰ کی نشانیاں کس کو بہتر طور پر سمجھ میں آسکتی ہیں؟ ظاہر ہے علم تشریح الابدان (Anatomy) ، علم افعال الاعضاء (Physiology) یا علم النفس (Psychology) کے کسی ماہر کو ، شرط یہ ہے کہ وہ ایمان داری سے ان پر غور و فکر کرے یا اس کی صحیح ڈھنگ سے رہنمائی کی جائے۔ اسی مقصد کے پیش نظر علم کے تمام شعبوں کے اسلامائزیشن (Islamization) کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ایسا شخص جو قدرت کے نظام اور اس کی مخلوقات میں صحیح منہج پر غور و فکر کرے گا ، کم از کم ملحد تو نہیں رہے گا۔
تصریحات بالاسے یہ بات سمجھ میں آئی کہ قرآن کریم مختلف علوم و فنون کے درمیان تفریق نہیں کرتا، برخلاف اس کے ہر اس علم کی طرف انسان کی توجہ مبذول کراتا ہے بلکہ ان پر تحقیق کی دعوت دیتا ہے جو اسے اللہ تعالیٰ کی معرفت کی طرف لے جائے۔ اس سے یہ بات بھی سمجھ میں آتی ہے کہ علماء سے یہاں وہ روایتی (Traditional) یا اصطلاحی علماء مراد نہیں ہیںجنہوں نے چند درسی کتابیںپڑھ رکھی ہوںیا کسی مروجہ امتحان میں کامیاب ہونے کی سندرکھتے ہوں بلکہ وہ لوگ مراد ہیں جو اللہ تعالیٰ کی حقیقی معرفت رکھتے ہوں گو ان کا تعلق سائنسی علوم کے کسی شعبے سے ہی ہو۔ جو جتنی اللہ کی معرفت رکھتا ہے، اتنا ہی اس سے ڈرتا ہے۔ عبادات کا حقیقی لطف بھی ایسے ہی لوگوں کو حاصل ہوتا ہے۔ اس کے برعکس جو لوگ ایک اللہ کی عبادت نہیں کرتے ، اس کی پیدا کردہ چیزوں کو ہی اس کا شریک ٹھہراتے ہیں، اس کے احکام سے روگردانی کرتے ہیں اور لوگوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑتے ہیں ، وہ درحقیقت اللہ کی صحیح معرفت نہیں رکھتے۔یہاں اس فرق کو بھی سمجھنا چاہیے کہ قوانین شریعت کا علم اور چیز ہے اور اللہ تعالیٰ کی معرفت اور شے! شریعت کا علم رکھنے والے بہت سے افراد بھی اللہ تعالیٰ کی حقیقی معرفت نہیں رکھتے، نتیجتاً خوف خدا سے عاری اور اس کی حکم عدولیوں کے مرتکب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف بہت سے ایسے افراد بھی ہوتے ہیں جو معرفت خداوندی میں کامل اور خشیت الٰہی سے لبریز ہوتے ہیں لیکن شریعت کا بہت علم نہیں رکھتے۔
اب اس بات پر ایک سچا واقعہ ملاحظہ کیجئے جسے بیان کرنے والے علامہ عنایت اللہ مشرقی (۲۵؍ اگست ۱۸۸۸ء ۔ ۲۷؍ اگست ۱۹۶۳ء) ہیںاور جس کا تعلق انگلستان کے مشہور ماہر فلکیات پروفیسر سر جیمزجینس (۱۱؍ ستمبر ۱۸۷۷ء ۔ ۱۶ ؍ ستمبر ۱۹۴۶ء ) سے ہے۔ علامہ مشرقی فرماتے ہیں: ’’۱۹۰۹ء کا ذکر ہے، اتوار کا دن تھا اور زور کی بارش ہورہی تھی۔ میں کسی کام کے لئے باہر نکلا تو جامعہ کیمبرج کے مشہور ماہر فلکیات سر جیمز جینس (Sir James Jeans) پرنظر پڑی جو بغل میں انجیل دبائے چرچ کی طرف جارہے تھے۔ میں نے قریب ہوکر سلام کیا۔ انہوں نے کوئی جواب نہ دیا۔ دوبارہ سلام کیا تو وہ متوجہ ہوئے اور کہنے لگے، ’’تم کیا چاہتے ہو؟‘‘، میں نے کہا، دو باتیں ؛ اول یہ کہ زور کی بارش ہورہی ہے اور آپ نے چھاتا بغل میں داب رکھا ہے۔ اگر کوئی مصلحت مانع نہ ہوتو تان لیجئے۔ سر جیمز اپنی بدحواسی پر مسکرائے اور چھاتا تان لیا۔
دوم یہ کہ آپ جیساشہرۂ آفاق (سائنس داں) چرچ میںعبادت کے لئے جارہا ہے، یہ کیا؟ بات یہ ہے کہ اس زمانے میں سائنس کے انکشافات اور نوبنو حقائق نے مذہب کو تعلیمی حلقوں سے باہر نکال دیا تھا اور تعلیم یافتہ طبقہ مذہب کے نام سے بیزار ہوچکا تھا۔ میرے اس سوال پر پروفیسر جیمزلمحہ بھر کے لئے رک گئے اور میری طرف متوجہ ہوکر فرمانے لگے: ’’آج شام کو چائے میرے ساتھ پیئو۔‘‘ میں شام کے وقت ان کی رہائش گاہ پر پہنچا۔ ٹھیک ۴؍بجے لیڈی جیمز باہر آکر کہنے لگیں ، ’’سر جیمز تمھارے منتظر ہیں‘‘۔اندر گیا تو ایک چھوٹی سی میز پر چائے لگی ہوئی تھی۔ لیڈی جیمز نے چائے بناکر ایک پیالی مجھے اور ایک پروفیسر صاحب کو دی۔ پروفیسر صاحب تصورات میں کھوئے ہوئے تھے۔ کہنے لگے ’’تمھارا سوال کیا تھا؟‘‘ اور میرے جواب کا انتظار کئے بغیر اجرام آسمانی کی تخلیق، ان کے حیرت انگیز نظام ، لرزہ فگن پنہائیوں اور فاصلوں، ان کی پیچیدہ راہوں اور مداروں نیز باہمی کشش اور طوفان ہائے نور پر وہ ایمان افروز تفاصیل پیش کیں کہ میرا دل اللہ تعالیٰ کی اس داستان کبریا و جبروت سے دہلنے لگا اور ان کی اپنی یہ کیفیت تھی کہ سر کے بال سیدھے اٹھے ہوئے تھے ، آنکھوں سے حیرت و خشیت کی دوگونہ کیفیتیں عیاں تھیں۔ اللہ کی حکمت و دانش کی ہیبت سے ان کے ہاتھ قدرے کانپ رہے تھے اور آواز لرز رہی تھی۔ فرمانے لگے: ’’عنایت اللہ خان! جب میں اللہ کے تخلیقی کارناموں پر ایک سرسری سی نظر ڈالتا ہوں تو میری تمام ہستی اللہ کے تصور و جلال سے لرزنے لگتی ہے اور جب کلیسا میں اللہ کے سامنے سرنگوں ہوکر کہتا ہوں ’’تو بہت عظیم ہے، تو بہت بڑا ہے‘‘ تو میری ہستی کا ہر ہر ذرہ میرا ہم نوا بن جاتا ہے، مجھے بے حد سکون و سرور نصیب ہوتا ہے اور ان سجدوں کے بعد میں کچھ ہلکا سا محسوس کرنے لگتا ہوں۔ عام لوگوں کی صرف زبان نماز پڑھتی ہے اور میری ہستی کا ہر ہر ذرہ محو تسبیح و تمجید ہوجاتا ہے۔مجھے دوسروں کی نسبت ہزار گنا زیادہ کیف نماز میں ملتا ہے۔ کہو عنایت اللہ خان ! تمھاری سمجھ میں آیا کہ میں گرجے میں کیوں جاتا ہوں؟‘‘
پروفیسر جیمز کی ان تفصیلات نے عجیب کہرام سا میرے دماغ میں پیدا کردیا۔ میری نگاہ تصور قرآن کریم کے طول و عرض کا جائزہ لینے لگی اور ایک دلچسپ آیت سامنے آگئی۔ میں نے کہا: ’’جناب والا ! میں آپ کی روح افروز تفاصیل سے بے حد متاثر ہوا ہوں ۔ اس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت یاد آگئی ہے، اگر اجازت ہو تو پیش کروں ۔‘‘ فرمایا: ’’ضرور پیش کرو!‘‘ (چنانچہ میں نے آیت پڑھی) وہ آیت یہ تھی: {وَمِنَ الْجِبَالِ جُدَدٌ بِیْضٌ وَحُمْرٌ مُّخْتَلِفٌ أَلْوَانُہَا وَغَرَابِیْبُ سُودٌ ھ وَمِنَ النَّاسِ وَالدَّوَآبِّ وَالْأَنْعَامِ مُخْتَلِفٌ أَلْوَانُہُ کَذٰلِکَ، إِنَّمَا یَخْشَی اللّٰہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمٰٓؤُا} (فاطر: ۲۷۔۲۸)۔ ‘‘
یہ وہی آیات ہیںجن کا مفہوم اس مضمون کے ابتدائی پیراگراف میں لکھا گیا ہے لیکن کلام میں تسلسل کے پیش نظر ایک بار پھر نقل کیا جارہا ہے: ’’پہاڑوں میں بھی سفید اور سرخ قطعات ہیں جن کے رنگ مختلف ہیںاور کچھ گہرے سیاہ ہیں۔اور اسی طرح انسانوں، جانوروں اور مویشیوں میں بھی مختلف رنگ ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے اس کے بندوں میں سے وہی ڈرتے ہیں جو علم رکھنے والے ہیں۔‘‘ (فاطر: ۲۷۔۲۸)۔
یہ آیت سنتے ہی پروفیسر جیمز بولے: ’’کیا کہا؟ اللہ سے صرف اہل علم ہی ڈرتے ہیں۔ حیرت انگیز ! بہت عجیب! یہ بات جو مجھے پچاس برس کے مسلسل مطالعہ و مشاہدہ کے بعد معلوم ہوئی، محمدؐ کو کس نے بتائی؟ کیا قرآن میں واقعی یہ آیت موجود ہے؟ اگر ہے تو میری شہادت لکھ لو کہ قرآن ایک الہامی کتاب ہے۔ محمدؐ ان پڑھ تھا، اسے یہ عظیم حقیقت خود بخود کبھی معلوم نہیں ہوسکتی تھی، اسے یقینا اللہ نے بتائی تھی۔ بہت خوب! بہت عجیب! ‘‘ اور سر جیمز کئی منٹ تک اس آیت پہ سر دھنتے رہے اور محمد عربی علیہ السلام کی خدمت اقدس میںخراج عقیدت پیش کرتے رہے۔‘‘ (ماہنامہ نقوش، لاہور، شخصیات نمبر۲، اکتوبر ۱۹۵۶ء، صفحات ۱۲۰۸۔۱۲۰۹)۔
یہ واقعہ محض ایک مثال ہے اس بات کو سمجھنے کے لئے کہ اللہ تعالیٰ سے علم والے ہی ڈرتے ہیں اور سائنسی علوم بھی اللہ کی معرفت کا ذریعہ ہیں۔ پروفیسر جیمزنے اپنے علم (Knowledge) ، مشاہدے (Observation)، تجربات (Experiences) اور تفکرات (Thoughts)سے اللہ کو پہچان لیا یا اس کی معرفت حاصل کرلی۔ گویاوہ ’’لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہ‘‘ (اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں!)کے قائل ہوچکے تھے ، علامہ مشرقی نے ان کے سامنے قرآن کریم کی صرف دو آیتیں پیش کی اور وہ ’’مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ‘‘ (محمد اللہ کے رسول ہیں)کے بھی قائل ہوئے بغیر نہیں رہے۔
اسی طرح مسلمانوں کی یہ ذمے داری تھی کہ سائنس کے ایسے عالموں کو حکمت کے ساتھ ان کے ہی سائنسی اسلوب میں دین کی دعوت دیتے اور انہیں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولؐ کی پہچان کراتے، لیکن مسلمانوں نے اس کام پر توجہ نہیں دی بلکہ قرآن کی سائنسی علوم کی طرف اتنی واضح رہنمائی کے باوجود روایتی علماء نے ان کی مخالفت کی ( سوائے چند گنے چنے ناموں کے)اور سائنس پڑھنے والوں کو جاہل اور ملحد تک ٹھہرانے لگے جس کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ اس طرح علماء نے سائنس سے وابستہ ایک بڑے حلقے کے یہاں اپنے داخلے کا راستہ ہی بند کرالیا اور دعوت کے متوقع مواقع گنوا دئے۔ ظاہر ہے کہ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص کو اگر آپ جاہل کہیں گے یا سمجھیں گے تو وہ آپ کی بات سننا بھی کب پسند کرے گا بلکہ الٹا آپ کو جاہل اور دقیانوس گردانے گا۔ چنانچہ یہی ہوتا بھی رہا ۔ دونوں ہی طبقے ایک دوسرے سے کٹ گئے۔ مسلمانوں کی تمام تر توجہ روایتی علوم کی طرف ہی مرکوز رہی الا ماشاء اللہ اور سائنس کے میدان میں ہم کافی پیچھے رہ گئے۔ سائنس کی افادیت اب کھل کر سامنے آچکی ہے اور اس سے آنکھیں بند کرنا اب ممکن نہیں رہا۔ سائنس اور ٹیکنالوجی (Technology) اب دنیا کی طاقت ہیں اور ان میں پیچھے رہ جانے کی وجہ سے ہی آج مسلمان پوری دنیا میں مغلوب ہیں۔ ایمان اور اعمال کی خرابی بھی اپنے عروج پر ہے۔ اس طرح نہ اللہ تعالیٰ(مسبب الاسباب) سے ہی تعلق ہے اور نہ ہی اسباب قوت قابو میں ہیں جب کہ عزت اور سربلندی کے لئے یہ دونوں ہی مطلوب ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ مسلمان بالخصوص روایتی علماء سائنس اور ٹیکنالوجی کے تئیں اپنے رویے میں مثبت تبدیلی لائیں گو کہ پہلے کے مقابلے میں اس میںبہت نمایاں فرق واقع بھی ہوا ہے۔ کسی بھی علم کو حاصل کرنے میں اصل چیزحسن نیت ہے اور دوسری چیز اس علم کی افادیت ہے جسے پیش نظر رکھنا چاہیے۔ مسلم ماہرین سائنس کو بھی چاہیے کہ وہ قرآن و حدیث سے اپنا تعلق جوڑیں ، دعوتی فکر اختیار کریں اور اپنے اپنے شعبے کے علم کو اسلامائز کرکے دوسروں کے لئے مشعل راہ بنیں۔ اللہ ہم سب کو صحیح سمجھ و ہدایت دے اور اپنی حقیقی معرفت نصیب فرمائے۔ آمین!

 

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*