اسکول کے اخراجات کم ہوئے،لہٰذاآن لائن کلاس کی فیس بھی کم ہونی چاہیے:سپریم کورٹ

نئی دہلی:کوویڈ کے دوران اسکول نہیں کھل رہے ہیں اور آن لائن کلاسز چل رہی ہیں۔ ایسی صورتحال میں سپریم کورٹ نے والدین کے لیے راحت کن فیصلہ دیا ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ اسکول بندہیں۔ انہیں کیمپس میں پیش کردہ بہت سی سہولیات کی قیمت برداشت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ لہٰذا لاگت کم کردی گئی ہے۔ لہٰذاانہیں آن لائن کلاسوں کی فیسوں کو کم کرنا ہوگا۔راجستھان کے متعدد اسکولوں نے ریاستی حکومت کے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی جس میں اسکولوں کو 30فی صد فیس معاف کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ جسٹس اے ایم کھانویلکر اور جسٹس دنیش مہیشوری کی بنچ نے کہا ہے کہ ایساکوئی قانون نہیں ہے جو ریاستی حکومت کو اس طرح کا حکم جاری کرنے کا اختیار دے لیکن ہم یہ بھی مانتے ہیں کہ اسکولوں کو فیسوں کو کم کرنا چاہیے۔عدالت نے کہاہے کہ تعلیمی اداروں کے انتظام کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرناچاہیے۔ وباکی وجہ سے لوگوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اسکولوں کو ایسے اقدامات کرنے چاہئیں جوبچوں اور والدین کو ریلیف فراہم کریں۔سپریم کورٹ نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ صورتحال میں انہیں کیمپس میں طلبا کو فراہم کی جانے والی سہولیات میسر نہیں ہیں۔ ایسی صورتحال میں اسکول اس کی ادائیگی سے فائدہ اٹھا رہے ہیں اور اسکولوں کو یقینی طور پر اس سے فائدہ نہیںاٹھاناچاہیے۔قانون کے مطابق اسکول ایسی سہولیات کے لیے اسکول سے فیس نہیں لے سکتے ہیں جوطلبا ان حالات کی وجہ سے حاصل کرنے سے قاصرہیں۔عدالت نے کہاہے کہ اس طرح کی سہولیات کے لیے فیس وصول کرنا منافع کمانا اور کمرشیلائزیشن میں مشغول ہونے جیساہے۔ 2020-21 میں طویل عرصے سے مکمل لاک ڈاؤن کی وجہ سے اسکول نہیں کھلے ہیں ، یہ سب جانتے ہیں اور اس قانون کو بھی نوٹس لیا گیا ہے۔ یقینی طورپراسکولوں نے پٹرول ڈیزل ، بجلی ، پانی ، بحالی اور صفائی ستھرائی پر آنے والے اخراجات کو بچایا ہوگا۔