توہینِ عدالت کیس:سپریم کورٹ میں بولے پرشانت بھوشن،معافی کی اپیل نہیں کرسکتا،عدالت جوبھی سزا دے منظور ہے

نئی دہلی:توہین عدالت کیس میں سینئر وکیل پرشانت بھوشن کو سپریم کورٹ نے سزا سنائی تھی۔ آج اس سزا پر بحث ہورہی ہے۔ سماعت کے دوران پرشانت بھوشن نے اپنی دلیل میں بابائے قوم مہاتما گاندھی کا حوالہ دیا اور کہا کہ بولنے میں ناکامی اپنے فریضے کی توہین ہوگی۔ سینئر وکیل پرشانت بھوشن نے کہا ‘افسوس کی بات ہے کہ مجھے توہین عدالت کا مجرم ٹھہرایا گیا ہے ، جس کا وقار میں نے ایک درباری یا خوشامدی کی حیثیت سے نہیں بلکہ 30 سالوں سے بحیثیت محافظ برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے”۔ سپریم کورٹ میں پرشانت بھوشن نے کہا’میں حیران اور مایوس ہوں کہ عدالت اس معاملے میں میرے ارادوں کا کوئی ثبوت پیش کیے بغیر اس نتیجے پر پہنچی ہے۔ عدالت نے مجھے شکایت کی کوئی کاپی نہیں دی۔ میرے لیے یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ عدالت کو پتہ چلا کہ میرے ٹویٹ سے ادارے کی بنیاد غیر مستحکم ہوسکتی ہے۔ پرشانت بھوشن نے کہا ‘جمہوریت میں کھلی تنقید ضروری ہے۔ ہم ایسے وقت میں رہ رہے ہیں جب ذاتی یقین دہانی سے زیادہ آئینی اصولوں کو بچانا ضروری ہونا چاہیے۔ بولنے میں ناکام ہونا اپنے فریضے کی توہین ہوگی۔ اپنے واضح ریمارکس پرمیں معذرت خواہ ہوں‘۔ پرشانت بھوشن نے مہاتما گاندھی کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا’میں معافی کی اپیل نہیں کرتا ہوں۔ میرے بیان پر عدالت سے جو بھی سزا ملے گی ، میں اسے قبول کرتا ہوں‘۔