سپریم کورٹ کے سابق جج مدن لوکور کادوٹوک:حکومت اظہار رائے کی آزادی کو دبانے کیلئے غداری قانون کا استعمال کررہی ہے

نئی دہلی:سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج مدن بی لوکور نے کہاہے کہ آزادی اظہار رائے کو روکنے کے لئے حکومت بغاوت قانون کا سہارا لے رہی ہے۔ جسٹس (ریٹائرڈ) لوکور آزادی اظہار رائے اور عدلیہ کے موضوع پر ایک ویبنار سے خطاب کر رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ آزادی اظہار رائے کو کچلنے کے لئے حکومت لوگوں پر جعلی خبریں پھیلانے کا الزام لگانے کا ایک طریقہ بھی اپنا رہی ہے۔ جسٹس لوکور نے کہا کہ کورونا وائرس کیس اور وینٹی لیٹر سے متعلق قلت جیسے معاملات کی رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کو فرضی خبروں کی دفعات کے تحت چارج کیا جارہا ہے۔جسٹس لوکور نے کہاکہ حکومت اظہار رائے کی روک تھام کے لئے ملک سے بغاوت کے قانون کا سہارا لے رہی ہے۔ اچانک ایسے واقعات کی تعداد بڑھ گئی ہے جن میں لوگوں پر غداری کا الزام لگایا گیا ہے۔ کچھ بھی بولنے والے ایک عام شہری پر غداری کا الزام لگایا جارہا ہے۔ اس ویبنار کا اہتمام جوڈیشل احتساب و اصلاحات اور سوراج مہم نے کیا تھا۔وکیل پرشانت بھوشن کے خلاف توہین عدالت کے کیس پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کے بیانات غلط پڑھے گئے ہیں۔ انہوں نے ڈاکٹر کفیل خان کیس کی مثال بھی پیش کی اور کہا کہ قومی سلامتی ایکٹ کے تحت الزامات عائد کرتے ہوئے ان کی تقریر اور شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف ان کے بیانات کو غلط معنی پہنائے گئے تھے۔