سب مٹی کا مال ہے سائیں،سب مٹی کا مال۔ محمود احمد

نیلم جیسی آنکھیں تیری، ریشم جیسے بال
سب مٹی کا مال ہے سائیں سب مٹی کا مال
سونے کا کٹ مالا تیرا،چاندی کی پازیب
ہلکے زرد ستاروں والی گہری نیلی شال
سب مٹی کا مال ہے سائیں سب مٹی کا مال
چاندی جیسے مُکھ پرچمکے گرم لہو کی دُھوپ
مخمل جیسی نرم رگوں میں مستی کا بھونچال
سب مٹی کا مال ہے سائیں سب مٹی کا مال
تُو بھی فانی، میں بھی فانی، باقی رب کی ذات
روشن صبحیں ،کاجل شامیں،ہفتے ،مہینے ،سال
سب مٹی کامال ہے سائیں سب مٹی کا مال
تیرے رُوپ کے چکر کاٹے اک شاعر کی سوچ
تیرے دروازے پر ڈالے اک مجذوب دھمال
سب مٹی کا مال ہے سائیں سب مٹی کا مال

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*