سیدہ جعفر:ایک کثیر الجہات شخصیت -ڈاکٹر صالحہ صدیقی

Email-  salehasiddiquin@gmail.com
سیدہ جعفر ایک ایسی خاتون تھیں جو ادب میں اپنی علمی،ادبی،تحقیقی،تنقیدی،اور تدریسی کاموں کی وجہ سے الگ شناخت رکھتی تھیں۔ ان کی والدہ کا نام صغریٰ بیگم تھا، ان کے والد کا نام سید جعفر علی تھا۔ان کے شوہر سید احمد مہدی ایڈوکیٹ تھے اور  حیدرا ٓباد میں سیول سائٹ پر پریکٹس کرتے تھے۔ان کے شوہر ہاشم نواز جنگ کے نواسے اور عالم یار جنگ کے بھانجے تھے۔سیدہ جعفر کے بڑے بیٹے ڈاکٹر نوازش مہدی میکانیکل انجینئر نگ کے پروفیسر ہیں اور مفخم جاہ انجینئرنگ کالج میں پڑھاتے ہیں۔چھوٹے بیٹے کیپٹن سید حسین مہدی پائلٹ ہیں اور دکن ایران ایر لائنس میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ سیدہ جعفر کے دادا سید سجاد علی کے چھوٹے بھائی نواب مہدی نواز جنگ،سابق گورنر گجرات تھے۔سیدہ جعفر ایک اعلیٰ خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔سیدہ جعفر کے جد اعلی سید رضی تھے،جنھوں نے ایک کارنامہ یہ انجام دیا کہ حضرت علیؓ کے خطبات کا مجموعہ ”نہج البلاغہ“کے عنوان سے مرتب کیا تھا اور ان کے بھائی سید مرتضےٰ ؒ ”علم الہدیٰ“ کہلاتے تھے۔یہ دونوں چوٹی کے علما میں شمار کیے جاتے تھے۔ایک اہم نام سید محمد والہ موسوی کا ہے جو سیدہ جعفر کے جد اعلیٰ میں تھے۔اس کے علاوہ سیدہ جعفر کے خاندان میں کئی شاعر و ادیب بھی گزرے ہیں۔دکن کے ممتاز محقق حکیم شمس اللہ قادری نے سید محمد والہ کی سوانح لکھی جو مثنوی ”طالب و موہنی“ کے خالق تھے۔مثنوی طالب و موہنی کو ڈاکٹر محی الدین قادری زور نے اپنے مقدمہ کے ساتھ 1957ء میں شائع کیا تھا۔اس کے علاوہ محمد تقی ہمدم نے بھی ”لمعات شمس“میں والہ کے خاندان کے حالات تفصیل سے قلمبند کئے ہیں۔ سیدہ جعفر کو بھی اپنے خاندان پر بہت ناز تھا،فرماتی ہیں ”مجھے ہمیشہ اس بات پر فخر رہے گا کہ میرے جد اعلیٰ سید رضی ؒ تھے …..ہمارا تعلق ایران کے صفوی گھرانے سے ہے اس لیے ہم لوگ موسوی الصفوی کہلاتے ہیں۔ساتویں قطب شاہی فرماں روا عبداللہ قطب شاہ کی تین بیٹیوں میں سے ایک بیٹی ہمارے جد سے بیاہی گئی تھی، اس طرح دو بڑے خاندانوں سے ہمارا تعلق ہے۔“ (اپریل 2013ارددنیا)
انٹر میڈیٹ اور بی اے کی تعلیم سیدہ جعفر نے جامعہ عثمانیہ سے امتیازی نمبروں سے پاس کیا ۔ان کے مضامین میں Economicsاور Socialogyبھی تھی۔ سیدہ جعفر نے پروفیسر عبدالقادر سروری کی زیر نگرانی ”اردو مضمون کا ارتقا“ کے موضوع پر مقالہ لکھ کر 1959ء میں جامعہ عثمانیہ سے پی۔ایچ۔ڈی کی ڈگری حاصل کی۔1965میں شعبہ ئ اردو جامعہ عثمانیہ میں ریڈر مقرر ہوئیں۔1983 میں پروفیسر اور 1984سے 1986تک صدر شعبہ ئ اردو کے عہدے پر فائز رہیں۔فروری 1991میں سیدہ جعفر بحیثیت پروفیسر اردو حیدرا ٓباد سنٹرل یونیورسٹی منتقل ہوئیں۔وہاں 1994میں سبکدوش ہونے کے بعد انھیں مزید دو سال کی توسیع دی گئی۔ادبی تحقیق و جستجو نے انھیں پاکستان،ایران اور لندن جیسے ممالک تک پہنچایا۔ان ملکوں سے انہوں نے علمی استفادہ کیا۔
پروفیسر سیدہ جعفر ایک کثیر التصانیف ادیبہ تھی،ان کا طرز نگارش عالمانہ،مفکرانہ،اور سنجیدہ تھا۔اردو کے ساتھ ساتھ انگریزی زبان پر بھی ان کی گرفت بہت مضبوط تھی۔ ان کی اب تک 32کتابیں شائع ہوکر علمی و ادبی حلقوں میں پذیرائی حاصل کر چکی ہیں۔ان میں بہت سی کتابیں ایسی بھی ہیں جن کے دیگر زبانوں مثلا انگریزی،عربی،مراٹھی اور میتھلی زبانوں میں تراجم ہو چکے ہیں۔وہ دکنیات کے علاوہ رثائی ادب پر بھی گہری نظر رکھتی تھیں۔انہوں نے رثائی ادب کو فن کی کسوٹی پر پرکھا،معروف نقاد پروفیسر شارب ردولوی اپنے تبصرے میں لکھتے ہیں ”ڈاکٹر سیدہ جعفر نے اپنے کو صرف قدیم ادب یا دکنیات تک محدود نہیں رکھاہے، جدید ادب پر بھی ان کی دسترس اسی طرح ہے جس طرح دکنیات پر۔انھوں نے ادب کے افق پر ہونے والی تبدیلیوں کا بہت غور سے مطالعہ کیا ہے۔“
ڈاکٹر زور کے کہنے پر سیدہ جعفر نے شاہ تراب چشتی کی مثنوی ”من سمجھاون“ پر کام کیا اور ثابت کیا کہ یہ مراٹھی کے شاعر رام داس کی کتاب ”شری مناچے شلوک“ سے متاثر ہو کر لکھی گئی۔دکنیات میں یہ ان کی پہلی تحقیقی تصنیف تھی،اس کے دیباچے میں پروفیسر مسعود حسین خاں نے لکھا”میں شعبہئ اردو جامعہ عثمانیہ کی جانب سے ایک ادبی تحفہ اور علمی چیلنج پیش کرتا ہوں۔“ مزید یہ کہ ”سیدہ جعفر نے مرحوم عبد الحق،وحیدالدین سلیم اور ڈاکٹر زور کی روایات کا بھرم رکھا ہے۔“سیدہ جعفر کے اس تحقیقی مقالے کا ہندی،مراٹھی،اور عربی میں ترجمہ ہو چکاہے۔ اس اہم کام کے بعد ہی سیدہ جعفر کو دکنی ادب سے خاص دلچسپی پیدا ہوئی،فرماتی ہیں ”دراصل مجھے تحقیق سے زیادہ تنقید کا میدان پسند تھا اور دکنیات کے سلسلے میں کام کرنے کا میرا کوئی ارادہ نہیں تھا،ایک دن ڈاکٹر زور نے شاہ تراب چشتی کی مثنوی ”من سمجھاون“کا نسخہ مجھے دیا اور کہا کہ یہ نسخہ عنایت جنگ بہادر نے بھیجا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ تم اس پر کام کرو۔تو یوں سمجھیے کہ بس اتفاقی طور پر میں نے دکنی پر کام کر لیا اور میں نے اس کتاب میں ثابت کیا کہ مراٹھی کے شاعر رام داس کی کتاب ”شری مناچے شلوک“سے متاثر ہوکر جنوبی ہند کے شاعر شاہ تراب چشتی نے ”من سمجھاون“ لکھی۔اس کے بعد مجھے دکنی تحقیق کا شوق پیدا ہوا۔“ (اپریل 2013اردو دنیا)۔محققین میں سیدہ جعفر ڈاکٹر محی الدین قادری زور،پروفیسر مسعود حسین خاں،احتشام حسین اور آل احمد سرور سے متاثر تھیں۔
سیدہ جعفر کی پہلی کتاب ”ماسٹر رام چندر اور اردو نثر کے ارتقا میں ان کا حصہ“تھی۔دکنیات میں ان کی کتابیں من سمجھاون،دکنی رباعیاں،سکھ انجن،دکنی نثر کا انتخاب،مثنوی یوسف زلیخا،چندر بدن و مہیار،کلیات محمد قلی قطب شاہ،مثنوی ماہ پیکر،جنت سنگار،دکنی ادب میں قصیدے کی روایت،مثنوی گلدستہ اور نوسرہار،دکنی لغت قابل ذکر ہیں۔اس کے علاوہ دکنیات میں اہم کارنامہ سیدہ جعفر کا یہ ہے کہ انھوں نے محمد قلی کی بارہ غزلوں کو اردو دنیا سے متعارف کرایا۔یہ نادرو نایاب غزلیں انھوں نے لندن کے ایک نوادرات کے تاجر سے حاصل کی تھیں۔دکنی لغت میں سیدہ جعفر نے ساڑھے تیرہ ہزار اندراجات کے علاوہ ہر لفظ کی جنس (تذکیر و تانیث) واحد جمع، ماخذ اور محل استعمال کی نشاندہی کی۔انہوں نے دکنی تحقیق سے ہٹ کر تنقید،ترجمہ،لغت نویسی اور ادبی تاریخ میں کارہائے نمایاں انجام دیئے۔ترجمے میں ہر دیا کماری کی تصنیف ”ویلا تھال“ کا  اردومیں کامیاب تر جمہ کیا، جو ساہتیہ اکیڈمی سے 1990میں شائع ہوا۔ساہتیہ اکیڈمی کی جانب سے سیدہ جعفرکی تین تصانیف اردو ادب کے معمارسلسلے کی ڈاکٹر زور،مخدوم محی الدین اور فراق گو رکھپوری شائع ہوئیں،جو انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔ان کی تنقیدی کتابیں،تنقید اور انداز نظر،مہک اور محک،فن کی جانچ اور تفہیم و تجزیہ اردو ادب کے سرمایے میں قابل قدر اضافہ ہیں۔”فن کی جانچ“ کے پیش لفظ میں پروفیسر سید احتشام حسین فرماتے ہیں ”سیدہ جعفر کو دو حیثیتوں سے خصوصیت حاصل ہے۔اول یہ کہ ان کی ذہنی صلاحیتیں تحقیق اور تنقید دونوں میدانوں میں سر گرم کار ہیں اور دوسرے یہ کہ ان کی رفتار نگارش میں ہمواری اور توازن ہے“۔
اسی طرح اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے پروفیسر گیان چند جین اپنے مضمون میں ’اردو مضمون کا ارتقا‘کے حوالے سے لکھتے ہیں ”اس مقالے کا حصار بہت بڑا ہے۔ اس میں سماجی،اصلاحی،تاریخی،سیاسی،رومانی،مذہبی،فلسفیانہ،مزاحیہ،تنقیدی،اور تحقیقی سبھی قسموں کے مضامین کا جائزہ لیا گیا ہے۔“  (بحوالہ: پرکھ اور پہچان،ص 357،1990ء دہلی)
قومی کونسل کی جانب سے سیدہ جعفر نے گیان چند جین کے اشتراک سے ”تاریخ ادب اردو 1700ء تک“ پانچ جلدوں میں لکھی۔گیان چند جین اسی مضمون میں لکھتے ہیں ”مجھے اور انہیں مشترکہ طور پر یہ زمہ داری دی گئی۔ میں نے ابواب کا خاکہ بناکر آدھا کام اپنے پاس رکھا،آدھا سیدہ جعفر کے ذمہ کردیا۔انھوں نے یہ کام اتنی شرح و بسط سے کیا کہ میں بالکل دب کر رہ گیا۔میں نے اپنے حصے کو چار سو صفحوں میں پورا کر دیا،سیدہ جعفر نے 1700صفحات گھسیٹ دیئے اور کمال کی بات ہے کہ کچھ بھی غیر متعلق نہیں۔“ اس کے علاوہ سیدہ جعفر نے ”تاریخ ادب اردو“ (عہد میر سے ترقی پسند تحریک تک) چار جلدوں میں لکھی جو ”بے منت غیر“ 2002ء میں شائع ہوئی۔ ”تاریخ ادب اردو“ سیدہ جعفر کا ایسا کارنامہ ثابت ہوا جس کی ادبی حلقوں میں خوب پذیرائی ہوئی۔ان کے اس کام کی ستائش گوپی چند نارنگ نے اہم کارنامہ قرار دے کر کی،جب کہ شمس الرحمن فاروقی نے گرا نقد اور عظیم الشان بتا کر کی ہے۔سیدہ جعفر کی ان اہم تصانیف کے علاوہ بے شمار پر مغز نثر پارے،مضامین،انشائیے اور خاکے مختلف رسائل،جرائداور مختلف اخبارات میں شائع ہو کر منظر عام پر آئے ہیں۔پروفیسر اشرف رفیع نے مجلہ عثمانیہ  2004ء میں اس طرح اظہار خیال کیا ہے ”سیدہ جعفر کی تحقیقی کاوشیں،تاریخی تہذیبی اور ادبی شعور کی ترجمان ہیں۔انہوں نے دکنی ادب پاروں کی اشاعت سے دکنی ادب کے سرمایہ میں نہ صرف گرانقد اضافہ کیا ہے بلکہ گولکنڈہ اور بیجا پور کی تہذیب و ثقافت کو از سر نو زندہ کر دیا ہے۔“ پروفیسر سیدہ جعفر کی نگرانی میں 9 اسکالرز نے پی۔ ایچ۔ ڈی اور 11 اسکالرز نے ایم فل کی ڈگریاں حاصل کیں۔ان کے شاگردوں میں ڈاکٹر افضل الدین اقبال،ڈاکٹر لئیق صلاح،ڈاکٹر سلمیٰ بلگرامی،ڈاکڑ مہر جہاں،ڈاکٹر سعیدہ بیگم،ڈاکٹر شاہانہ امیر،ڈاکٹر کوکب النساء اور ڈاکٹر عابد النساء وغیرہ کے نام خصو صیت سے قابل ذکر ہیں۔ڈاکٹر شفیق النساء روبینہ نے سیدہ جعفر کی حیات و ادبی خدمات پر مقالہ لکھ کر گلبرگہ یونیورسٹی سے پی۔ایچ۔ڈی کی ڈگری لی اور ڈاکٹر امیر علی نے سیدہ جعفر کی شخصیت اور کارنامہ پر مقالہ لکھ کر جامعہ عثمانیہ سے پی۔ایچ۔ڈی کی ڈگری حاصل کی ہیں۔
سیدہ جعفر کی ادبی اورعلمی خدمات کے لیے انہیں دو درجن سے زائد اعزازات و انعامات سے اب تک نوازا جا چکا ہے۔جن میں تحقیقی کارناموں کے لیے قاضی عبد الودد ایوارڈ،مخدوم ادبی ایوارڈ،ڈاکٹر زور ایوارڈ،نوائے میر ایوارڈ، فراق گورکھپوری ایوارڈ،ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ اور عالمی فروغ اردو ادب ایوارڈ برائے 2009، ہندستان سے پروفیسر سیدہ جعفر کو اور پاکستان سے ڈاکٹر جمیل جالبی کو دوحہ (قطر) میں دیا گیا۔پروفیسر سیدہ جعفر اردو دنیائے ادب کے لیے بیش بہا علمی و ادبی سرمایہ چھوڑ کر 24جون 2016کو اس جہان فانی سے کوچ کر گئیں۔سیدہ جعفر کی کمی یقیناکوئی اور پوری نہیں کر سکتا۔ اپریل 2013اردو دنیا کے اداریے میں سیدہ جعفر کے بارے میں لکھا گیا ہے”سیدہ جعفر،اردو تحقیق و تنقید کا ایک بڑا نام ہے۔اردو کے تحقیقی،تنقیدی ادب میں خواتین کی حصے داری بہت کم رہی ہے اور جن خواتین نے صرف تحقیق و تنقید کو کار است طور پر اختیار کیا ہو ان کی تعداد اور بھی کم ہے۔ان سب میں کوئی بھی محترمہ سیدہ جعفر کا ہمسر نہیں۔“
اس مختصر مقالے میں سیدہ جعفر کے طویل ادبی سفر کے تمام گوشوں کا احاطہ اور ان پر طویل گفتگو ممکن نہیں،پھر بھی یہ کوشش کی گئی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو ان کی زندگی کے مختلف رنگوں کو اس مضمون میں بکھیرا جا سکے۔ان کا ادبی کارنامہ بلاشبہ اردو کے ورثے میں اہم اضافہ ہے جسے کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔

  • صالحہ صدیقی
    8 فروری, 2021 at 18:32

    Bhut shukriya..

Leave Your Comment

Your email address will not be published.*