سید محمد اشرف:چراغ آفریدم-مشرف عالم ذوقی

تو شب آفریدی چراغ آفریدم،جب خدا شب کی تخلیق کر رہا تھا ، وہ چراغ بنانے میں منہمک تھا اور چراغ سے کبھی بہ سنی ہوئی داستانیں برآمد کر رہا تھاـ
نیلا اُس وقت گڑھی میں تھا، حالانکہ در حقیقت وہ اس وقت قصبے میں تھا۔ وہ آموں اور امرودوں اور بیروں اور جامنوں کے ہر باغ میں تھا۔ قصبے کا ہرفرد سمجھ رہا تھا کہ نیلا کہیں اور نہیں خود اس کے دروازے سے لگا کھڑا ہے۔ بس دروازہ کھلا اورآپ یقین کیجئے میں نے رات کو چیخ پکار کے بعد اپنی کھڑکی سے تین نیلے اپنی آنکھوں سے دیکھے تھے۔ “ ٹھاکر نے رات کا منظر یاد کیا اور جھر جھری لے کر بولے۔(نمبردار کا نیلا )
نیلا ہر جگہ ہے اور یہ تماشا ہم سے بھی پوشیدہ نہیں کہ نیلا ہر جگہ ہے ـ شمس الرحمن فاروقی کو بھی کہنا پڑا ”بیشک اتنا عمدہ فکشن اردو تو کیا انگریزی میں بھی میں نے بہت دن سے نہیں دیکھا۔“ زبان و بیان کا سلیقہ اور داستانی رنگ جو اشرف کے یہاں ہے ، کہیں اور دیکھنے کو نہیں ملاـ
وہ انسانوں کے درمیان فرشتہ ہے اور ادب میں اسکی حیثیت شیکسپئر یا مارخیز سے کم نہیں ـ وہ اپنی جگہ مولانا رومی بھی ہے ، شمس تبریز بھی ، حافظ بھی ہے فردوسی بھی، سعدی شیرازی بھی ، رسول ہمزہ توف بھی ، خلیل جبران بھی اور ان سب سے مختلف بھی،وہ بہت خاص ہے اور بہت عام بھی،وہ کہانیوں سے خطاب کرتا ہے تو پتھر بھی ساکت و جامد ہو جاتے ہیں ـ اس کی شخصیت کی ہر شاخ میں محبت اور محبت میں خدا کا عکس،میں نے پہلی بار تصور کیا کہ ناراضگی میں بھی محبوب سے محبت کی انتہا پوشیدہ ہوتی ہے، وہ باطنی آنکھ میں انسانوں کا درد رکھتا ہے اور جب لکیریں صفحه قرطاس پر تخلیقی عمل سے گزرتی ہیں تو حیرتوں کا انکشاف ہوتا ہےـ
برسوں پہلے کی ایک ملاقات .. کیا آپ مجھے جانتے ہیں ؟
میں نہیں جانتا تھا،پھر ان کہانیوں کو پڑھنا شروع کیا جو سید محمد اشرف کے قلم سے طلو ع ہوئی تھیں ـ پھر میں علیگڑھ میں ملا . اس وقت بھی میں زیادہ واقف نہیں تھا، مولانا روم بھی شمس تبریز سے کہاں واقف تھے کہ جب کتابیں نذر آتش ہوئیں تو شمس کی آواز گونجی ، رومی ، یہ وہ ہے جو تو نہیں جانتا اور جب میں نے سلسلہ وار سید محمد اشرف کو پڑھنا شروع کیا فن کے عروج اور عشق کی تجلیوں نے حیات و کائنات کے اسرار کی معنویتکی تلاش پر لگا دیا، ناولٹ سے کہانیوں تک پھر آخری سواری تک ، میں ٹھہرا نہیں،فکشن کی تہہ دار معنویت بے حجاب ہونے لگی،
قرۃ العین حیدر نے کہا:
٣٦ ویں گھنٹی بجی ـ آج سے ہمارے نئے فکشن کا دور شروع ہوتا ہے۔ اس سے پہلے گھنٹی بجی، کہ ہمارا رومانٹک پیریڈ شروع ہوتا ہے۔ یہ سب اوور لیپنگ ہےـ ہم اردو فکشن کے بارے میں کوئی صحیح ڈسکورس قائم نہیں کرسکے ہیں۔“
(آزادی کے بعد اردو فکشن، مسائل و مباحث)
ڈسکورس کے دروازے تو اسی وقت کھل گئے جب اشرف نے لکھنا شروع کیا .پہلی کہانی میں نے آجکل اردو رسالہ میں پڑھی تھی،عنوان یاد نہیں مگر کہانی کی کچھ کچھ جھلک اب بھی یاد ہےـ وہ علامتوں اور استعاروں پر اس حد تک قادر ہے کہ جہاں معنی کا دریا بہا دیتا ہے . ابھی کچھ دن پہلے ایک ناول پڑھا تھا ۔ جو مداخلت یا احتجاج کے نظریے سے ایک اہم مقام رکھتا ہے۔لسبین کی قلع بندی کی تاریخ . یہاں مداخلت کا مرکزی پوائنٹ ’لفظ‘ بن جاتا ہے۔ لفظ جو ایک ذرا سی پروف کی غلطی کے ساتھ خطرناک اور بھیانک ہوجاتا ہے کہ پوری انسانیت خطرے میں نظر آتی ہے۔یہ صدیوں سے چلی آنے والی ادبی روایتوں کو محض آگے بڑھانے والی کتاب نہیں ہے۔ جیسے کوئی ماہر آرکیٹکٹ ہوتا ہے، اسے پتہ ہے کہ دنیا کی حسین ترین عمارت بنانے کے دوران چاند جیسا کوئی داغ کیسے چھوٹ جائےـ وہ اس دلکش عمارت میں ایک چھوٹی سی اینٹ غلط کھسکا دیتا ہے۔ اس کتاب کے پیچھے ایک ایساہی نفسیاتی نکتہ رہا ہے جو مذہب کے سارے اصولوں سے انکار کا حوصلہ رکھتا ہے۔سید محمد اشرف بھی ایسے ہی آرکیٹکٹ ہیں جو فکشن کی عالیشان عمارت میں ایک داغ دھبہ تک نہیں چھوڑتے،وہ مداخلت بھی کرتے ہیں،وہ جدید بھی ہیں اور قدیم بھی . وہ قدیم وراثت اور تہذیبوں کا تحفظ چاہتے ہیں ـ ان کی محبت انسانوں سے ہے اور یہ انسان کسی بھی مذھب کا ہو سکتا ہےـ
”اب دور نکل آئے ہیں۔ بتاؤ تو سہی۔ کیا بات تھی؟ سرفراز نے گاڑی روک دی۔“ باغ کی میڑپر درختوں کے درمیان ایک آدمی جھکا کھڑا تھا۔ اس کے ہاتھ میں کوئی ہتھیار تھا، جسے وہ زمین پر ٹکائے ہوئے تھا۔“
’آدمی‘ ____سید محمد اشرف
وہ آدمی کون تھا ؟ وہ خوف کی علامت تھا یا وہ ہمارے خوفزدہ بازار کا حصّہ تھا . وہ کیا چاہتا تھا ؟ فکشن کے نئے سماجی ڈسکورس میں اب انحراف اور بغاوت کردہ اصولوں کو جگہ مل رہی ہے .یہ انسان فرائیڈ کی تحقیقات سے آگے کا انسان ہے . سید محمد اشرف کی کہانیوں کا کلیدی یا مرکزی کردار .
یہ ڈارون کے خیالوں سے بھی الگ کا انسان ہے جس کے بارے میں کہا گیا تھا کہ کائنات میں انسان کا وجود کسی رحم دل خدا کی وجہ سے نہیں ہوا ہے۔
ٹیسٹ ٹیوب بے بی اور کلوننگ سے آگے نکل کر اسی اشرف المخلوقات کے بارے میں یہ بھی کہا گیا___
”انسان صرف ایک پیشہ ور جینیٹک روبوٹ کی عارضی مشین ہے۔“
لیکن سید محمد اشرف ہر حال میں انسان سے محبت کے فلسفہ کو خود سے جدا نہیں کرتے .
اب ایک دوسری کہانی ملاحظہ ہو۔ نئے زمانے کے چار پانچ بچے اور ایک لاولد چچا جان— بوڑھا چچا اپنی وصیت ان بچوں کے نام کرنا چاہتا ہے۔ بچے ایک اندھیری خوفناک رات میں اس بوڑھے کے ساتھ ٹرین میں سفر کررہے ہیں۔ اسٹیشن ابھی دور ہے۔ چھوٹے چھوٹے دلچسپ قصوں سے بات ٹاٹا، برلا، ٹیلکو، اور شیئرس کی ہونے لگتی ہیں۔
”زیادہ تر لوگ سمجھتے ہیں کہ ٹا ٹا ہی سب سے اچھا ٹرک بناتا ہے۔ نہیں صاحب۔ تھیوری اور ہے اصل حقیقت اور ہے۔ کیا آپ کو معلوم ہے؟ سب سے زیادہ اور اچھا ٹرک کون بناتا ہے۔ اس کمپنی کانام لی لینڈ۔ آپ پوچھیں گے ایسا کیوں؟ پوچھئے صاحب۔“
ایک دراز قد مسافر نے ہاتھیوں کے موسمی ہجرت کے بعد واپسی کے سفر کی کہانی شروع کی۔
اچانک ہم نے دیکھا گزرگاہ کے پاس ایک ہاتھی کے سر اور ٹانگوں کی بڑی بڑی سفید ہڈیاں پڑی ہیں۔ دو بڑی بڑی مادائیں ہاتھوں کے جھنڈ سے الگ ہوکر ان ہڈیوں کے پاس گئیں۔ شاید وہ رو رہی تھیں۔ لیکن منہ سے ایسی آواز نکال رہی تھیں جو سنائی تو نہیں دے رہی تھی لیکن اس کے ارتعاش سے جنگل کے تمام درخت کانپتے ہوئے محسوس ہور رہے تھے۔“
اب اس کہانی کا تیسرا اور آخری حصہ ملاحظہ کیجئے۔ گاڑی رکتی ہے۔ مسافر سڑک پار کرتے ہیں۔ ایک ٹرک ایک شخص کو کچلتا ہوا آگے بڑھ جاتا ہے۔
وصیت کرنے والابوڑھا سناٹے میں ہے۔
لڑکی پوچھتی ہے— کون تھا وہ؟ اور یہی اس کہانی کا ٹرننگ پوائنٹ ہے۔
’حالانکہ اندھیرا تھا۔ میں ٹھیک سے دیکھ نہیں سکا۔ لیکن میرے لیے یہ بتاپانا مشکل نہیں ہے کہ وہ ٹرک یا تو اشوک لی لینڈ کمپنی کا تھا یا پھر ٹاٹا کمپنی کا‘
اور اس طرح سید محمد اشرف اس کہانی کا انجام لکھنے بیٹھ جاتے ہیں۔
’بوڑھے کے سینے سے اٹھنے والی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔ لیکن ان آوازوں کا ارتعاش اتنا زبردست تھا کہ دوڑتی ہوئی بس کا ایک ایک حصہ کانپنے لگاتھا۔‘

یہ کیسا ارتعاش ہے۔ انسان سے برانڈ بننے تک کا عمل— رشتے ناطے، تعلقات کے ڈائنوسار نے اس لیے دم توڑدیا کہ اس کے زندہ رہنے کے لیے جس اچھے ماحول اور آب وہوا کی ضرورت تھی وہ اسے حاصل نہیں ہوسکا۔ اور اب اپنی ذاتی زندگی کے خول میں بند انسان کے لیے موت، کیا سے کیا ہوگئی ہے۔ لڑکی مرنے والے کے بارے میں جاننا چاہتی ہے اور لڑکے کے کمپیوٹر دماغ میں یہ کشمکش چل رہی ہوتی ہے کہ ٹرک اشوک لی لینڈ کمپنی کا ہے یا ٹاٹا کا— حقیقتاً انسان برانڈ بن گیا۔ زندگی اور موت اسی برانڈ کا حصہ بن گئی۔
عسکری نے فکشن کا رخ لے دے کر منٹو کے ارد گرد موڑدیا۔ اس کے بعد کسی نے نہ منٹو سے آگے دیکھا۔نہ منٹو سے پیچھے۔ بس اردو کی تمام کہانیاں منٹو کے آگے پیچھے گھومتی رہیں۔
عسکری کے بعد کے نقادوں کے لیے، منٹو کے اس چیلنج کو توڑنے لیے ایک دوسرے بت کو کھڑا کردینا ضروری تھا۔ لیجئے، منٹو کے پاس پاس بیدی کا پتلا بھی کھڑا کردیا گیا۔ پھر معاملہ کچھ یوں آگے بڑھا کہ ایک گروپ کے لیے بیدی فکشن کا سب سے بڑا فنکار تھا تو دوسرے کے لیے منٹو اور ماضی، حال مستقبل کا سارا فکشن بس لے دے کر انہیں دونوں پر شروع اور ختم تسلیم کرلیا گیا۔ لیکن ایسا نہیں ہے . منٹو اور بیدی کے بعد جب فکشن میں سید محمد اشرف نے قدم رکھا تو وہ نہ تو منٹو تھے نہ بیدی .وہ اپنا منفرد اسلوب لے کر اے تھے . اور ان کے پہلے ہی ناولٹ نے اردو والوں کو اسیر کر لیا . ایک حیرت انگیز دنیا . اور ایسا لگتا ہے جیسے مصنف حقیقت میں شکاری ہے ، ایسا منجھا ہوا شکاری جس کی نگاہوں سے کچھ بھی اوجھل نہیں . ایسی جزیات منظر نگاری پہلی دفعہ کسی ناولٹ کا حصّہ بنی تھی .
اور اس ناولٹ کے بعد اشرف عوام و خواص کی نظر میں ایسے فکشن رائیٹر تھے ، جنکی تحریر کا موازنہ آسانی سے مغربی شاہکار کے ساتھ کیا جا سکتا تھا .
اب سید محمد اشرف کے ناول آخری سواریاں کا ذکر میں ضروری سمجھتا ہوں، یہ ناول ایسے موقع پر شائع ہوا جب ملک ہنگامی حالات سے گزر رہا تھا۔ سیکولرزم اور جمہوریت کی دھجیاں بکھر رہی تھیں۔ ایک نیا کلٹ صدیوں کی ملت اور ہمہ آہنگی کے رشتے کو منقطع کرتا ہوا پیدا ہوا تھا۔ایک ایسی فضا جہاں سانس لینا بھی دشوار تھا۔ سید محمد اشرف نے نہ صرف ہماری تہذیب کا نوحہ بیان کیا، بلکہ بہادر شاہ ظفر، شاہی دسترخوان، سلطنت مغلیہ کے عروج و زوال کی داستان کو نرم لہجے میں اس طرح بیان کیا کہ ہر صفحہ پر صدیاں سمٹ آئیں اور سواریوں کا رخصت ہونا تہذیبوں کے تصادم اور زوال کی علامت بن گیا۔ اس ناول کا ایک خوبصورت باب وہ ہے، جہاں ایک بیوہ کی لالٹین کو رہزن لوٹ لیتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی اشرف اس رہزنی کو گنگا جمنی ثقافت کا ایک مضبوط حصّہ بنا دیتے ہیں۔ ہندوستانی مظاہروں میں آج ہندو مسلم ایک پلیٹ فارم پر کھڑے ہیں اور ایسا خیال ہوتا ہے کہ اشرف نے بہت قبل اس حقیقت کو محسوس کر لیا تھا کہ فسطائی طاقتیں زیادہ دنوں تک ہماری ملت کو نقصان نہیں پہنچا سکتیں۔ لیکن کیا یہ ناول نیم تاریخی یا صرف ہندوستانی تہذیب کا نوحہ ہے، جس کی راکھ نے مغلیہ سلطنت کے زوال سے جنم لیا؟ ایسا نہیں ہے۔ اس ناول کی عظمت یہ ہے کہ یہ عالمی سیاست اور تہذیبوں سے جنم لینے والی کثافت کا حیرت انگیز بیان بھی ہے۔ یہ اقتباس ملاحظہ ہو۔
سو اریاں بہت تیزی سے گزر رہی ہیں۔ایک ایک چیز نہ مجھے نظرآ رہی ہیں نہ میں بیان کر پاؤں گا۔آ پ بھی تو کوشش کریں۔ دکھیے! وہ دیکھیے سامنے والی سواری میں ٹوٹی ہوئی محرابیں اور کنگورے لدے ہیں۔ ان کے پیچھے والی سواری میں کٹاؤ دار در اور نقشین دریچے ہیں۔مینار اور گنبدوں کی سواری پیچھے آ رہی ہے۔ اور یہ جو سامنے سے سواری گزر رہی ہے،اس میں سنگھاردان، سرمہ دانی، خاص دان، پان دان اور عطر دانوں کا انبار ہے۔اس کے ٹھیک پیچھے والی سواری میں عماموں، کلف دار ٹوپیوں، خرقوں، جبوں اور عباوں کے گٹھر لدے ہیں۔ ان کے پیچھے طوطوں اور میناوں کے پنجروں کی سواریاں ہیں۔ وہ جو ایک سجی ہوئی سواری ہے اس میں عطر کی شیشیاں بھری ہوئی ہیں۔اس کے پیچھے جو سواری ہے اس میں منھ سے پھونکنے والے اور ہاتھ سے بجانے والے موسیقی کے آلات ہیں…. اور…..اُف! دیکھو یہ جو بالکل ہمارے پاس سے سواری گزر ی، اس میں مثنویوں،قصیدوں؟ مر ثیوں،رباعیوں،بارہ ماسوں، قصوں، کتھاوں اور داستانوں کے دفتر کے دفتر کتنے پھوہڑ انداز میں لادرکھے ہیں۔ خطاطی کے بیش قیمت نمونے قدم قدم پر زمیں پہ گرتے جا رہے ہیں۔
” (ص ۲۰۷)
سواریاں لٹتی ہیں۔پھر نئی سواریاں آ جاتی ہیں۔ وقت کے ساتھ یہ کھیل چلتا رہتا ہے۔ ناول کی دنیا میں موضوع کے لحاظ سے یہ اہم ترین ناول ہے جس کی گونج برسوں سنائی دے گی۔
’ڈار سے بچھڑے‘ سید محمد اشرف کا پہلا افسانوی مجموعہ ہے۔
ترقی پسندی کو زوال آ چکا تھا ، جدیدیت فیشن کا شکار ہو رہی تھی ،اس وقت سید محمد اشرف ڈار سے بچھڑے لکھ رہے تھے— اگر آپ اس دور کو نظر میں رکھیں تو اشرف نے اپنی آمد کے ساتھ ہی یہ اعلان کر دیا تھا کہ اب اردو فکشن میں تبدیلی کا دور آ چکا ہے .اشرف پرانے لکھنے والوں سے متاثر نہیں تھے ، اس لئے اپنا راستہ بنایا .اپنی ڈگر چلے
ڈار سے بچھڑے ہویا لکڑ بھگا سیریز کی کہانیاں، یا پھر مجموعے کی پہلی کہانی آدمی ہو— تقسیم وطن اورحالیہ چند برسوں کے سیاسی منظرنامے پر روز مرہ کی گفتگو میں جوشک وشبہات جنم لیتے ہیں دراصل یہ کہانیاں اسی مرکزی نقطہ سے پیدا ہوئی ہیں، مگر اشرف کے فکری افق نے ایسی ہر کہانی کو شاہکار میں تبدیل کر دیا ہے . اس سے انکار ممکن نہیں کہ اشرف کے یہاں زبان و بیان کا لطف بھی ہے اور داستانی سیر کا ذائقہ بھی ـ کہانی پراشرف کی گرفت مضبوط ہے زبان میں روانی ہے۔ اسلوب دلکش ہےـ
ڈار سے بچھڑے کی اشاعت کو کئی سال گزر چکے ہیں لیکن اس کی کہانیاں آج بھی پرامید کرتی ہیں کہ اردو کہانیوں کا دامن اچھی کہانیوں سے خالی نہیں۔ اشرف کو داستانیں پسند ہیں۔ آنکھیں کھولیں تو خانقاہوں کا ماحول تھا۔ راجے رجواڑے، جاگیریں ختم ہوچکی تھیں — اشرف نے اس بدلتے ہوئے منظرنامے کو نہ صرف اپنی کہانیوں میں جیا ہے بلکہ ڈار سے بچھڑے اور لکڑ بگھا سیریز جیسی کہانیاں تو ادب میں شاہکار کا درجہ رکھتی ہیں۔
باد صبا کا انتظار — تخلیق کا سفر واقعی پر اسرار ہے۔ ڈار سے بچھڑے کا افسانہ نگارایسا سیاح ہے، جو سفر سے سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں۔ اس کا تخلیقی کرب ایک ڈار سے دوسری ڈار تک اسے بھٹکاتارہتا ہے۔ انسان کو دیکھنے اور سمجھنے کی یہ جستجو اسے مسلسل ایک سفر سے دوسرے سفر کی جانب کھینچتی رہتی ہے۔ شاید اسی لیے اشرف کے اندر کا افسانہ نگار کبھی چین سے نہیں بیٹھا۔
تخلیق کے اس پر اسرار سفر میں، اشرف کویہ غیر مہذب انسان اس قدر جنگلی نظرآیا کہ خود بخود ان کے افسانوں میں ایک جہاں پناہ جنگل آبادہو گیا ۔ روگ سے نمبردار کا نیلا تک ان کی تخلیقی تمثیل سازی کے ایک سے بڑھ کر ایک نمونے سامنے ہیں۔ مگر انسان کی حیثیت ان کے نزدیک مسلم ہےـ
جلد ہی اشرف کو اس بات کا احساس ہوگیا کہ انسانی مسائل کی سرنگوں میں گم ہونے سے کام نہیں چلے گا، اور یہ تخلیق کار کا منصب بھی نہیں کہ وہ محض نئی دنیا کی پنچ تنتر میں کھوجائے۔ اس لیے ا شرف نے ’باد صبا کا انتظار‘ کیا اور’تلاش رنگ رائیگاں‘ جیسا خوبصورت ناولٹ اردو زبان کو دیا۔ تلاش رنگ رائیگاں اسی رائیگاں رنگ کی تلاش کانام ہے، جسے محبت کہتے ہیں …… محبت ہر سال جوش وخروش سے ولنٹائن ڈے منانے کے باوجود اتنی سرد اور مشینی بن چکی ہے کہ اب مہذب دنیا سے جیسے اپنا ناطہ ہی توڑ چکی ہے۔اس مجموعے سے ایک بار پھر مدتوں بعد اردو افسانہ کی دنیا میں محبت کی واپسی ہوئی ہے . انسانی ذات ابھی بھی سات پردے میں قید ہے اور ہر پردہ اس کی شناخت کو غیر اہم بنا رہاہے۔ یہاں خود شناسی کا ایک مضبوط سلسلہ تصوف کی کتابوں میں آباد ہے جہاں خدا کی ذات و صفات میں گم یا تحلیل ہونا ہی شناخت سے تعبیر بھی ہے اور نجات کی صورت بھی۔ تصوف میں ایک مقام وہ بھی کہ خدا اور بندے کا فرق مٹ جاتا ہے۔بایزید بسطامیؒ سے روایت کہ عبادت گزارلمحوں میں کہا کرتے، ’سبحانی ما اعظم شانی۔‘اے خدا دیکھ میری ذات کتنی عظیم۔ منصور حلاّج نے اسی مقام پر آکر اناالحق کو صدا دی تھی۔ اشرف کے پاس دونوں جہاں کی حقیقتیں ہیں . انکابسیرا تصوف کی اس چھاؤں میں ہے ، جہاں ابو بن ادھم کا بسیرا تھا اور جہاں انسانی محبت کو معراج کا درجہ حاصل تھاـ اشرف کی دوسری حیثیت فکشن نگار کی ہے .یہاں بھی ان کا کوئی ثانی نہیں ۔ تاریخ کے ویران، گرد وغبار میں مدفون کنج سے باہر آئیے تو خوابوں کا ایک جہاں آباد ہے۔ یہ دو مختلف دنیا اشرف کی تخلیقی کائنات کا حصّہ بن کر فکشن کے نیے ڈسکورس کی شروعات کرتی ہیں ـ

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*