ساورکر:ایک پرجوش انقلابی سے بزدل بننے تک کی کہانی-اشوک پانڈے

ترجمہ: نایاب حسن
27مئی کو جواہر لعل نہرو کا یوم وفات تھا تو اگلے ہی دن ساورکر کا جنم دن۔ ظاہر ہے کہ سوشل میڈیا پر ہنگامہ مچنا تھا،مچا۔ ویسے ان لوگوں کو پچھلے کچھ سالوں میں پیدا ہونے والے ماحول کا احسان مند ہونا چاہیے کہ یہ یاد کیے جانے لگے،ورنہ تو رسمی تقریب کے علاوہ کہاں کوئی یاد کرتا تھا۔ ایک طرف سے فرضی واٹس ایپ میسجز چلے تو دوسری طرف بھی تاریخ کی بازدید کی ضرورت محسوس کی گئی۔ گالم گلوچ کے بیچ نوجوانوں کا ایک وہ طبقہ بھی ہے، جو کتابوں اور مصنفین تک جاکر سچ کی تلاش کرنا چاہتا ہے۔ نو پالیٹکس پلیز کے بھاشن اب بے معنی ہوتے جارہے ہیں اور ہر موبائل اب سیاست کا ایک لائیو اکھاڑا ہے۔
ابھی ساورکر کی بات کرتے ہیں۔ آج تک کے ریڈیو پاڈکاسٹ کے لیے مجھ سے ان کے بارے میں پوچھا گیا تو جواب میں پہلا جملہ یہی نکلا کہ ساورکر ایک نہیں،دو ہیں ۔ گرفتاری سے پہلے کے ساورکر اور رہائی کے بعد کے ساورکر۔ حال ہی میں سمپت کی جو کتاب آئی ہے ،وہ اپنے حساب سے پہلے ساورکر سے دوسرا ساورکر بننے تک کی کہانی بیان کرکے چھوڑدیتی ہے۔ یہ کتاب اپنے طورپر ساورکر کا دفاع کرتی ہے اور یہ بتانے کی کوشش کرتی ہے کہ ان کی معافیاں ’جائز اور مناسب‘تھیں ۔ یہ بھی بتاتی ہے کہ جیل میں رہ کر وہ کیا کرلیتے؟لیکن شاید یہ 1924پر رک بھی اس لیے جاتی ہے کہ آگے جانے پر بتانا پڑتا کہ جیل سے چھوٹ کر انھوں نے کیا کیا؟ اگر معافی ایک حکمتِ عملی تھی تو رہائی کا مقصد کیا تھا؟اگر مقصد دیش کی آزادی تھا،تو رہائی کے بعد اس آزادی کے لیے کیا کیا گیا؟یہ کہنا آسان ہے کہ خلافت تحریک سے ناراض تھے،اس سوال کا جواب دینا مشکل ہے کہ رہا ہونے کے بعد مسلم مخالف تحریک چلاکر اور 1937 میں احمد آباد کی ہندو مہا سبھا کی میٹنگ میں صدارتی خطاب کرتے ہوئے یہ کہہ کر کہ ہندو اور مسلمان دو الگ الگ قومیں ہیں،کونسے اکھنڈ بھارت کی تاسیس کی کوشش کی جارہی تھی؟امبیڈکر کا نظریہ یہ تھا کہ جناح اور ساورکر دونوں ہی دوقومی نظریہ کے حامی ہیں۔ سمپت اگر ریکارڈ کھنگالتے تو کپور کمیشن کو نہیں چھوڑ پاتے جس نے یہ نتیجہ نکالا تھا کہ گاندھی کے قتل کی واحد وجہ ساورکر کی سازش ہے۔ یہی وہ الجھن ہے،جس کا ذکر میں نے کیاہے۔ پورا ساورکر نہ دکھانے کی الجھن ۔
دائیں بازوکی سیاست پہلے والے ساورکر کو سلیبریٹ کرتی ہے اور دوسرے پر چپی سادھتی ہے۔ کبھی بہت چالاکی سے پہلے والے کو دوسرے والے سے الگ کردیا جاتا ہے۔ واقعات کو بہت بڑا کرکے دکھایا جاتا ہے اور چیزوں کو بلَر کر دیا جاتا ہے۔ سچائی سب کے لیے پریشان کن ہے۔
ساورکر پر سب سے زیادہ مشہور کتاب دھننجے کیر کی ہے۔ ساورکر کی موت کے بعد جب اس کا دوسرا ایڈیشن آیا تواس کا نام’ویرساورکر‘کردیا گیا۔ دھننجے کیر بہت عقیدت کے ساتھ سوانح لکھتے ہیں ۔ امبیڈکر کی بھی ، تلک کی بھی اور ساورکر کی بھی؛لیکن اس عقیدت میں بھی بہت کچھ نکل آتا ہے۔ پریشان کن چیزیں تو خود ساورکر نے بھی بہت لکھی ہیں ، پہلے والے دور میں لکھا ’’1857 کی جنگ آزادی‘‘۔ یہ تو سب جانتے ہیں لیکن یہ جو تماشا مچایاگیا کہ انڈمان کی جیل میں وہ کتاب ناخن سے لکھی گئی،یہ خالص جھوٹ ہے۔ کتاب تو اس سے پہلے لکھی گئی تھی۔ اتنا تو کیر کو پڑھتے ہی جان سکتے ہیں ۔ ناخن سے دیواروں پر نعرے لکھے جاسکتے ہیں ،چار سو صفحات کی کتاب لکھنے کے لیے چار کلو میٹر لمبی اور اتنی ہی چوڑی جیل کی کوٹھری چاہیے اور فلیکسیبل سیڑھی بھی ۔ لیکن اس جھوٹ کا خوب پرچار کیاگیاہے۔ سرسوتی شیشو مندر میں پڑھنے کے زمانے میں میں نے بھی یہ قصہ سنا ہے اور سالہا سال اسے سچ مانا ہے۔ایک کتاب ہے’’سکس گلوریئس ایپو آف انڈینس ہسٹری‘‘ یہ ان کی آخری کتاب تھی جو ان کے مرنے کے بعد 1971میں شائع ہوئی۔ پہلی اور آخری کتاب انھوں نے مراٹھی میں لکھی۔ ’’ہندو‘‘توانگریزی میں لکھی گئی تھی۔ اس کے علاوہ ساورکر کی تحریروں،تقریروں وغیرہ کو جمع کرکے بھی شائع کیاجاچکا ہے۔
تاریخ نسل پرستانہ قومیت کا پسندیدہ ہنٹنگ گراؤنڈ ہوتی ہے۔ ساورکر نے بھی ان دونوں کتابوں میں تاریخ لکھنے کا بھرم پیدا کیاہے؛البتہ ’’1857 کی بھارتی جنگ آزادی‘‘ میں تو معاملہ تھوڑا پوشیدہ ہے،اس میں ایک نوجوان کا جوش ہے، فوجیوں کی بغاوت کہہ کر مسترد کی گئی 1857 کی لڑائی کو پہلی جنگ آزادی قرار دینے کی ضد ہے اور اسی لیے شیواجی کی اولادوں کے ذریعے انگریزوں کی غلامی قبول کرنے پران کی تیکھی تنقید ہے تو بہادر شاہ ظفر اور عظیم اللہ خان کی تعریف ۔ یہاں ان کا مسلم مخالف نظریہ اور تاریخ کی ناپختہ سمجھ جہاں تہاں جھلکتی ہے؛لیکن بیان و اظہار میں ایمانداری بالکل واضح ہے۔ جو انگریزوں کے ساتھ ہیں وہ دشمن اور جوان کے خلاف ہیں وہ دوست۔ یہ ایک قوم پرستانہ موقف تھا اوراس دور کے مطابق شاندار تھا،اتنا کہ اس کتاب کی وجہ سے انگریز پریشان ہوگئے تھے اور اسے چوری چھپے شائع اور تقسیم کیاگیا؛لیکن جو دوسری کتاب ہے وہ ان کے سفر کے آخری پڑاؤ اور پہلے و بعد کے ساورکر کے درمیان فرق کو واضح کرتی ہے۔ یہاں وہ چھ سنہرے ادوار کی بات کرتے ہیں اور اگر آپ نے سرسوتی شیشو مندر کی تاریخ کی کتابیں پڑھی ہوں تو لگتا ہے کہ سیدھے یہیں سے کاپی پیسٹ کی گئی ہے۔ ہوائی بیان بازی اور مسلمانوں کے تئیں تلٌخ تعصب بھرا ہوا ہے؛لیکن اس کے آگے بھی اور کئی چیزیں ہیں۔ مسلمان خواتین کی عصمت دری کو سیاست کا حصہ بتایاگیا ہے۔ میرے مطالعے میں آنے والی یہ پہلی کتاب ہے جہاں عصمت دری کو نہ صرف صحیح ٹھہرایا گیاہے؛بلکہ حکمتِ عملی کا حصہ بنادیاگیا ہے۔ اس کتاب کا مصنف ایک تھکا ہوا،کینہ پرور،نفرتوں سے بھرا ہوا اور کمزور بوڑھاہے۔ 1857 کی تاریخ لکھنے والا نوجوان اس کتاب کے آنے تک پوری طرح ختم ہوچکا ہے۔ اس کے آئیڈیلز کو گھن لگ چکی ہے اور گاندھی کے قتل کے بعد سے گمنامی کی زندگی گزارنے والا شخص اپنی ہی بنائی ہوئی انانیت کی فینٹسی میں الجھ کر اس قدر گھنونا ہوگیا ہے کہ پرنالے کو گنگا سمجھ کر کھیلے جارہاہے۔ ساورکر کا سفر ایک مثالیہ پسند اور انقلابی جوان سے لے کر ایک کینہ پرور اور شکست خوردہ بزرگ میں بدلنے کی کہانی ہے،جسے ’ویر‘ہونے کی خوش فہمی اور مصائب و مشکلات سے بھاگنے کی بزدلانہ صفت نے ایک سازشی میں بدل دیا ۔
جس بے غیرتی و بزدلی کے ساتھ انڈمان سے رہائی حاصل کرنے کے لیے یہاں تک وعدہ کر آئے تھے کہ میں اپنے نوجوان حامیوں کو انگریزوں کے خلاف آزادی کی لڑائی میں شامل ہونے سے روکوں گا وہ یقینا انھیں اندر اندر کاٹتا ہوگا۔ انڈیا ہاؤس کا فائر برانڈ ساورکر یاد آتا ہوگا۔ کرزن وائلی کا قتل کرنے کے لیے مدن لال ڈھینگرا کو بھیجنے والا ساورکر یاد آتا ہوگا اور خود سے گھن آتی ہوگی ۔ خود اس گھن کو دور کرنے کی کوشش کرتے ہوں گے۔ میں ایک مثال دیتا ہوں:
’’لائف آف بیرسٹر ساورکر‘‘ نامی کسی چتر گپت کی لکھی کتاب 1926میں چھپی(یعنی جب ساورکرمعافی مانگنے کے بعد انڈمان سے رہا ہوکر آگئے تھے اور گھر میں نظر بند تھے) اس کتاب میں ساورکر کی خوب تعریفیں کی گئی تھیں۔ لکھا تھا کہ ’’ساورکر پیدایشی نایَک ہیں ۔ وہ ایسے لوگوں سے نفرت کرتے ہیں جو خوف کے مارے اپنی راہِ عمل سے منحرف ہوجاتے ہیں ۔ اگر وہ ایک بار صحیح یا غلط یہ طے کرلیں کہ سرکار کی کوئی پالیسی لوگوں کے درمیان تفریق وامتیاز برتنے والی ہے تواس برائی کو ختم کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے‘‘۔ یہی وقت تھا جب1909 میں ان کے بلاوے پر انڈیا ہاؤس میں آکر خطاب کرنے والا دبلا پتلا انسان مہاتما گاندھی کے نام سے مشہور ہوچکا تھا اور اس پر بھی کتابیں لکھی جارہی تھیں۔ ساورکر پر بھی لکھی گئیں؛لیکن دونوں میں ایک فرق تھا۔ ساورکر پر لکھنے والے چتر گپت کو ان کی زندگی میں کوئی نہیں جانتا تھا اور ان کے مرنے کے بعد کتاب کے ناشر نے بتایا کہ چترگپت کے نام سے دراصل ساورکر نے خود اپنی سوانح لکھی تھی۔ ان کی ذات کا ایک حصہ دوسرے سے نفرت کرتا تھا۔
ایک طرف یہ جھنجھلاہٹ اور دوسری طرف کسی سیاسی سرگرمی میں حصہ نہ لے پانے کی مجبوری ۔ حالت یہ ہوگئی کہ ایک ایک بیان کی صفائی دینی پڑتی تھی ۔ ایسے میں صرف ایک کام تھا جس سے ویرتا(بہادری) کا بھرم بھی قائم رہے اور انگریزوں کی ناراضی بھی مول نہ لینی پڑے اور وہ کام تھا فرقہ وارانہ سیاست کرنے کا۔ حالاں کہ ایسا بھی نہیں تھا کہ ساورکر اس سے پہلے سیکولر تھے؛لیکن بہت زیادہ فرقہ پرست بھی نہیں تھے۔ رہائی کے بعد وہ ممبئی میں مقیم ہوگئے اور مہاراشٹر کا دورہ شروع کیا۔ پونے میں وہ پہلے تو خود کو تلک پنتھی کہنے والے سناتنیوں کی جماعت ڈیموکریٹک سوراج پارٹی کی حمایت میں کھڑے ہوئے،پھر ہندو مہا سبھا کے حامی ہو گئے۔ یہ مزے دار بات ہے کہ اس کے ٹھیک پہلے وہ رتناگیری میں چھوت چھات اور سماجی اصلاح کی تحریک چلا رہے تھے،جبکہ سناتنی اور ہندو مہاسبھائی اس کے خلاف تھے۔ اسی زمانے میں گاندھی چھوت چھات مخالف تحریک چلارہے تھے اور کچھ ہی دن پہلے پونے میں انھیں جان سے مارنے کی کوشش ہوئی تھی؛ لیکن ساورکر سناتنیوں کے ساتھ گئے۔ کِیر نے اس کی صرف ایک وجہ بتائی ہے… ساورکر اور سناتنیوں میں گاندھی کے تئیں مشترکہ نفرت ۔
یہی نفرت انھوں نے اپنے چیلے ناتھو رام گوڈسے اور اس کے ساتھیوں میں اُنڈیلی۔ گوڈسے کی ان سے ملاقات رتناگیری میں ہوئی تھی جہاں ناتھو رام اپنے والد کےٹرانسفر ہونے کے بعد دوسال رہا تھا۔ اس دوران وہ ساورکر کے پرسنل سکریٹری کی طرح کام کرتا تھا۔ ساورکر نے اسے انگریزی بھی سکھائی اور اپنا نظریۂ کینہ پروری و تشدد بھی اس کے اندر منتقل کیا ۔ ایک دیومالائی عقیدے کے تحت لڑکی کی طرح پرورش پانے والا اور سولہ سال کی عمر تک خاموش رہنے والا ناتھورام ساورکر کا شاگردِ رشید ثابت ہوا۔ خاص قسم کی جھنجھلاہٹ سے بھرا ہوا مثالیہ پرست اور لگ بھگ جاہل ۔ جب اس نے پونے سے اخبار نکالنے کا ارادہ کیا تو ساورکر نے اسے پندرہ ہزار روپے دیے۔ چیلے نے فرقہ وارانہ زہر سے بھرا اخبار’’اگرنی‘‘ نکالا تو اس کے ہر شمارے میں ساورکر کی تصویر چھپتی تھی۔ ’’اگرنی‘‘پر پابندی لگی تو ’’ہندو راشٹر‘‘ نکلا؛لیکن تصویر بدستور چھپتی رہی ۔
گاندھی کا قتل ہوا تو سرکاری گواہ بننے والے دگمبر بڑگے ہی نہیں؛ بلکہ ایک فلم اداکارہ نے بھی گواہی دی تھی کہ ساورکر آپٹے اور گوڈسے سے ملنے گئے تھے؛ لیکن جج صاحب نے اسے کافی ثبوت نہیں ماناـ دوسرے کئی واقعات بھی تھے،جنھیں پڑھ کے لگتا ہے کہ شاید سرکار میں کوئی ایسا تھا جو چاہتا تھا کہ ساورکر کو سزا نہ ہو۔ مجرم قرار دیے گئے سبھی لوگوں نے اس فیصلے کے خلاف اپیل کی؛لیکن سرکار نے ساورکر کو سزا دینے کے لیے کوئی اپیل نہیں کی جبکہ جانچ افسر ناگروالا کا کہنا تھا کہ میں آخری سانس تک یہی مانوں گا کہ یہ سازش ساورکر کی ہے۔ باقی تفصیل کتاب میں تو لکھوں گا ہی ۔
لیکن جب گوپال گوڈسے رہا ہوا تواس کے استقبال میں منعقدہ تقریب میں تلک کے نواسے کیتکر یہ بول گئے کہ ناتھو رام نے انھیں پہلے ہی گاندھی کے قتل کے بارے میں بتایا تھا۔ جب اس پر ہنگامہ ہوا تو سرکار نے ریٹائرڈ جج کپور کی صدارت میں ایک کمیٹی بنائی ۔ اس کمیٹی نے بہت تفصیل سے جانچ کی اور ساورکر کے گارڈز سمیت کئی لوگوں نے گواہی دی کہ قتل کے لیے نکلنے سے پہلے ناتھورام اور آپٹے و ساورکر ملے تھے۔ جانچ میں یہ ثابت ہوا کہ گاندھی کے قتل کی سازش میں ساورکر کا ہاتھ تھا۔ مگر اس وقت تک وہ گمنام زندگی گزار کر دنیا سے جا چکے تھے۔ وہ رپورٹ تاریخ کا حصہ بن گئی۔ سالہاسال تک ساورکر اور وہ رپورٹ گمنامی میں ہی رہے؛لیکن اب ساورکر چرچا میں آئے ہیں تواس رپورٹ کا ذکر بھی ضرور آئے گا۔
ایک پرجوش انقلابی کی بزدلی نے اسے جس جھنجھلاہٹ میں مبتلا کردیا تھا،گاندھی کے قتل نے اسے اس سے نجات دلانے میں مدد کی ہوگی ۔ لیکن بد قسمتی سے ساورکر اپنی زندگی میں ناکام رہے،گمنام اور بے نشان۔ اب جو ان کی واپسی ہوئی ہے تو انھیں چمکانے کی چاہے جتنی کوشش ہو،یہ داغ ان کے ساتھ ہمیشہ رہے گا۔ لکھنے والے "ویر” لکھتے رہیں، مگر وہ تاریخ میں ایک غدار اور سازشی کی حیثیت سے درج ہوچکے ہیں ۔ جھاگ بیٹھے گی تو یہی سچائی رہ جائے گی ۔

  • شاہ زیب افتخار
    4 جون, 2020 at 10:24 شام

    کیا جج کپور کی زیر سرپرستی بنائی جانے والی کمیشن رپورٹ پی ڈی ایف میں مل سکتی ھے?

Leave Your Comment

Your email address will not be published.*