سوالاکھ کروڑ کے بعد – محمدشارب ضیاء رحمانی

 

بہار الیکشن کے وقت بہت زوروشور سے سوالاکھ کروڑ کے پیکیج کا اعلان ہوا تھا،جس طرح ابھی بیس لاکھ کروڑ کااعلان ہواہے،پتہ چلاہے کہ ان میں 8 لاکھ کروڑ تو پرانے والے ہی ہیں-ویسے آنے والے دنوں میں معلوم ہو جائے گاکہ نچلے اورمتوسط طبقے کو کچھ نھیں ملنے والا ہے-

بہار کے لیے خصوصی پیکیج نہ اب بی جے پی کو یاد ہیں اور نہ تین انجن سرکار کے مکھیا کو مانگنے کی ہمت ہے-بے چارے نتیش جی کے پاس تو اپنی مادرعلمی کو سینٹرل یونی ورسیٹی کا درجہ تک دلانے کی اوقات نھیں ہے،وہ بہار کو خصوصی ریاست کادرجہ خاک دلائیں گے-پٹنہ یونی ورسیٹی کی تقریب میں گڑگڑاکر مانگنے کے بعد کے ردعمل کا منظر کسے یاد نھیں ہوگا،لکھ کر رکھ لیجیے کہ خصوصی ریاست کا مدعا پانچ برس سونے کے بعد الیکشن کے وقت جاگ جائے گا-ہوسکتاہے کہ پھر انترآتما بھی جاگ جائے-
پندرہ سال کی سرکار میں ‌میڈیکل سسٹم چوپٹ ہی رہا-مرکزاورریاست میں ایک اتحاد کی حکومت کے باوجود نتیش کمار کے چہرے پر بے بسی نمایاں ہے-وہ مزدوروں کے غصے سے بری طرح گھبرائے ہوئے ہیں اور جملوں میں الیکشن تک الجھاکر رکھناچاہتے ہیں،چراغ پاسوان نے مزدوروں ‌کی ناراضگی پر اپنی تشویش ظاہرکردی ہے،انھیں الیکشن کا ڈر ستانے لگاہےبلکہ حلیف لوجپا لگاتار راشن معاملے پر اپنی سرکار کو گھیررہی ہے-جب غریبوں کے لیے ایک ایک دن مشکل رہاہو،ڈیڑھ ماہ تک دس لاکھ راشن کارڈکی منظوری بہار حکومت کی بے حسی کی وجہ سے التواء میں رہی-یہ خود رام ولاس،چراغ پاسوان بتاچکے ہیں،مزدوروں ‌کی ناراضگی کی وجہ سے بہار سرکار چاہتی ہے کہ وہ کم سے کم واپس آئیں کیوں کہ اگر یہ مزدور اکتوبر یعنی الیکشن تک بہار میں رک گئے تو کھٹیاکھڑی ہے-اسی لیے جب ساری ریاستیں اپنے لوگوں کو بلارہی ہیں،نتیش سرکار ٹرین بھر کر اپنےمزدوروں کو تلنگانہ بھیج دیتی ہے،دیگرریاستوں سے ان کی واپسی پر سب سے زیادہ آناکانی بہار حکومت نے کی ہے-بلکہ چیف سکریٹری نے نقل مکانی پر مرکزی وزارت داخلہ کو خط لکھ کر ناراضگی ظاہرکردی تھی-

وہ اس لیے بھی ڈرے ہوئے ہیں کہ بہار سرکار کے پاس طبی وسائل کی بہت کمی ہے-عمدہ انتظام کادعوی کچھ ہو،لیکن قرنطینہ مراکز کی بدحالی،کھانے میں چاول،نمک کی خبریں آچکی ہیں،گھبراہٹ میں اب بہار کے قرنطینہ مراکز پر میڈیاکی انٹری بند کردی گئی ہے-
نتیش کمارخود شکایت کرتے ہیں کہ ٹیسٹ کٹس کی کمی ہے-سوال پھر یہی ہے کہ کیسی دوستی ہے کہ مرکز نظرانداز کررہاہے،اور کوئی حیثیت باقی نھیں رہی کہ پریشر بناسکیں-11کروڑ 95لاکھ کی آبادی والے بہار میں دس لاکھ افراد پر صرف 313ٹیسٹ ہورہے ہیں جب کہ 1کروڑ 98لاکھ کی آبادی پر مشتمل دہلی میں دس لاکھ میں 5355افراد کی جانچ ہوئی ہے-اسی طرح کشمیرکی آبادی1کروڑ 32لاکھ ہے،وہاں دس لاکھ پر 4069ٹیسٹ ہورہے ہیں-اندازہ لگاییے کہ ان چھوٹی ریاستوں کے مقابلے میں بہار کہاں کھڑاہے-بلکہ جو تیرہ ریاستیں زیادہ متاثر ہیں ان میں بہار سب سے پیچھے ہے-اسی سے سمجھ سکتے ہیں کہ تین انجن کی بہار سرکاریا تو بے بس ہے یابے حس اور نکمی ہے-
سی ایم کو جی ایس ٹی کے بقایا تک مل نھیں رہے ہیں،ریاستیں ہر میٹنگ میں اپنے حق کے پیسے مانگ رہی ہیں لیکن بہلاوا دیاجارہاہے-بنگال کے 52000کروڑاور پنجاب کے تقریباپچاس ہزار کروڑ مرکز پر باقی ہیں-جب انھیں اپنے جی ایس ٹی کے پیسے نھیں مل رہے ہیں تو بیس لاکھ کروڑ پر کیسے بھروسہ کرلیاجائے-

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)