سعودی عرب:نصابِ تعلیم میں تبدیلی،اسرائیل کے خلاف مواد کو نکالنے کا فیصلہ

مقبوضہ بیت المقدس:اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ صہیونی حکومت اور عالمی صہیونی لابی نے سعودی عرب کو درسی نصاب میں تبدیلی پر قائل کرلیا ہے جس کے بعد اب سعودی درسی کتابوں سے اسرائیل ، یہودیوں اور صہیونیوں کیخلاف مواد ہٹا کر اس کی جگہ اسرائیل سے ’دوستی‘ کا سبق پڑھایا جائے گا۔اسرائیل کے پالیسی اسٹڈیز ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی طرف سے تیار کردہ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کو اب سعودیوں کی طرف سے پریشان ہونے کی چنداں ضرورت نہیں، کیونکہ سعودی عرب بہت حد تک بدل چکا ہے۔ سعودی عرب نے رواں سال ایک نیا نصاب تعلیم تیار کیا ہے جس میں اسرائیل سے نفرت ختم کردی گئی ہے۔ یہ نیا نصاب آئندہ تعلیمی سال سے رائج کیا جائے گا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب میں تعلیمی نظام میں جوہری تبدیلیاں لائی جا رہی ہیں۔ حکومت نے ایک ایسا نصاب تعلیم مرتب کیا ہے جسے پڑھنے والے بچے اور نئی نسل اسرائیل کےخلاف نفرت نہیں کرے۔ نئے نصاب میں تشدد پر اکسانے والا تمام مواد ہٹا دئے گئے ہیں ۔ وہ تمام مضامین اور درسی مواد جس میں یہودیوں اور اسرائیل سے نفرت سکھائی جاتی تھی، مکمل طور پر ختم کردیے گئے ہیں ۔ اب سعودیہ کے نصاب میں ایسی کوئی چیز نہیں باقی نہیں رہی، جسے پڑھ کرطلبا میں شوقِ شہادت پیدا ہوگی۔