سعودی نصاب میں رامائن اور مہابھارت کی شمولیت کا مسئلہ ۔ایم ودود ساجد

 

نوجوان عالم دین یاسر ندیم الواجدی نے اپنی وہ پوسٹ واپس لے لی ہے جس میں سعودی Vision 2030 کے تحت نصاب میں راماین اور مہابھارت سمیت ہندؤں کی مذہبی تعلیم کی شمولیت کا الزام تھا۔ انہوں نے جس "بے حجاب” سعودی خاتون نوف المروعی کے ٹویٹ کو بنیاد بناکر یہ پوسٹ لکھی تھی’ اب خود اسی خاتون نے وضاحت کردی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ الزام انتہائی بے بنیاد’ فرضی’ مکروفریب سے پُر اور جھوٹا تھا۔ یاسر ندیم الواجدی نے اعلی ظرفی کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے پچھلے مضمون سے رجوع کرلیا ہے۔ یہ بہت اچھی بات ہے لیکن اس سے بھی اچھی بات یہ ہوتی کہ محض ایک غیر مانوس’ غیر معروف اور وضع قطع سے آزاد خیال نظر آنے والی خاتون کے ایک ٹویٹ کی بنیاد پر کچھ لکھنے سے پہلے وہ کچھ اور ذرائع سے بھی تصدیق کرلیتے ۔ ان کے پچھلے چند سطری مضمون اور پھر مزید تفصیلی مضمون پر جو سخت تبصرے آئے وہ بہت ناگوار تھے۔ لیکن وہ فطری بھی تھے۔

یاسر ندیم الواجدی نے جن الفاظ اور جس انداز سے رجوع کی وضاحت کی ہے وہ قابل تحسین ہے۔اب ان پر سخت تبصروں کا سلسلہ تھم جانا چاہئے۔ غلطی کا ہوجانا فطری ہے لیکن اس کا اعتراف اعلی اخلاقی وصف ہے۔ میں سعودی عرب کے تعلق سے ہمیشہ محتاط رویہ اختیار کرتا ہوں۔ وجہ یہی ہے کہ درست خبریں آنے کا کوئی راست، مصدقہ اور سریع رفتار نظام نہیں ہے۔ مشکوک خبروں کی تردید کا بھی کوئی انتظام نہیں ہے اور حرمین کے حوالے سے دنیا بھر کے مسلمانوں کا سعودی عرب سے جو تعلق ہے وہ اسلام دشمن طاقتوں کی آنکھوں میں کھٹکتا رہتا ہے۔
اس کے لیے یہ طاقتیں بسا اوقات خود سعودی شہریوں میں سے ہی آزاد خیال کمزور ایمان والوں کا استعمال کرتی ہیں۔ ان میں بھی اکثر خواتین ہوتی ہیں۔ یہاں تفصیل کا موقع نہیں ہے لیکن گزشتہ ایک دہائی میں ایسی کئی خواتین کے ذریعہ شر پھیلائے جانے کے کئی واقعات سامنے آئے ہیں۔ ایسے شر کا ہمیں حصہ نہیں بننا چاہیے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*