سعودی حکومت کے اقدامات: ہنگامہ ہے کیوں برپا؟۔ مسعود جاوید

سعودی حکومت کی جانب سے تبلیغی جماعت پر پابندی اور بے بنیاد گمراہ کن بیان کہ یہ جماعت "شرک و بدعات اور قبر پرستی کو فروغ دیتی ہے اور دہشتگردی کا دروازہ ہے” کی وجہ سے پوری دنیا کے مسلمانوں میں اضطرابی کیفیت دیکھنے اور سننے کو مل رہی ہے۔ بالخصوص برصغیر ہندوپاک بنگلہ دیش کے دیوبندی مکتبہ فکر کے لوگ غم و غصہ کا اظہار کر رہے ہیں جبکہ بعض دوسرے مکتب فکر بالخصوص غیر مقلدین کے بعض لوگ کھل کر یا دبے لفظوں میں اس پابندی کا دفاع کر رہے ہیں۔

سعودی عرب ایک آزاد اور خود مختار ملک ہے اور کسی بھی خود مختار ملک کی طرح اسے بھی اپنے ملک کے مفاد میں اپنی مرضی کے مطابق اقدام کرنا اس کا اندرونی معاملہ ہے اس لئے اس کے کسی فیصلے پر کسی شخص کو اعتراض کرنے کا حق نہیں ہے۔

بحیثیت ایک خودمختار ریاست اس کے حکمرانوں کو اس کی مکمل آزادی ہے کہ وہ جس ملک سے چاہے سفارتی، ثقافتی اور تجارتی تعلقات استوار کریں، اپنی ریاست کے باشندوں کی سیر و تفریح کے لیے سینما گھر، رقص و موسیقی کے ہال قمار خانے کیسینو فحاشی کے اڈے جسم فروشی کے چکلے کھولیں، لیو ان ریلیشن شپ کی اجازت دیں۔

لیکن سعودی عرب کی حیثیت نہ صرف مشرق وسطی میں ایک آزاد ملک کی ہے بلکہ عالم اسلام کے مقدس ترین مقامات مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ اس ملک میں ہونے کی وجہ سے ہر مسلمان اس پورے ملک کو تقدس کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور شریروں کے شر سے محفوظ دیکھنے کی تمنا کرتا ہے۔ عالم اسلام کا ہر شخص اس کا بھی متمنی اور دعا گو رہتا ہے کہ وہاں ایسا کچھ نہ ہو جس سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح ہوں۔

مسلمانان عالم کی یہ سادہ لوحی ہے یا غایت درجہ تقدس کا غلبہ کہ انہوں نے حرمین شریفین کی بجائے پوری مملکت سعودی عرب کو اپنا مقدس ملک سمجھ لیا۔‌ حالانکہ وہ کوئی اسلامی ریاست نہیں ہے پھر بھی مسلمانانِ عالم وہاں سلیبریٹیز عالمی اداکار و اداکارائیں اور گلوکار و گلوکارہ کے رقص و موسیقی کے کنسرٹ اور دیگر تفریح اور لہو و لعب کے مقامات فراہم ہونے پر برہم ہوتے ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل سے تعلقات پر اعتراض کرتے ہیں۔ جب وہ آزاد اور خودمختار ریاست ہے تو پھر دوسروں کو ان کے کسی بھی اقدام پر اعتراض کرنا چہ معنی دارد!

مسلمانان عالم اپنا قبلہ درست کریں:
سعودی عرب میں لبرلزم کی لہر پر لوگوں میں غم وغصہ اس لیے ہے کہ لوگوں نے پورے ملک کو تقدس کا درجہ دیا ہوا ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے لیے مقدس وہاں صرف مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ ہیں۔‌ مسلمانان عالم جس دن یہ حقیقت سمجھ لیں گے ان کی اضطرابی کیفیت ختم ہو جائے گی۔
مسلمانان عالم کو سمجھنا چاہیے کہ یہ کوئی اسلامی ریاست یا امارت اسلامیہ نہیں ہے یہ مملکت سعودی عرب ہے جہاں اسلامی یا جمہوری نہیں شہنشاہی نظام ہے۔
جس ملک نے اپنا آفیشیل نام اسلامی جمہوریہ پاکستان رکھا وہاں کون سا ایسا خلاف شریعت عمل ہے جو نہیں کیا جا رہا ہے۔ بے حیائی، زناکاری، ناحق قتل و غارت گری، چوری ڈکیتی، رشوت، دغابازی، مسلک و فرقہ کے نام پر خون بہانا وغیرہ عام بات ہے۔ تو کیا کسی دوسرے ملک والے کو اس پر تنقید اور اعتراض کرنے کا حق ہے ؟ ظاہر ہے نہیں تو پھر سعودی عرب پر کیوں !
سعودی عرب پر اس لئے ہے کہ مکہ مکرمہ میں بیت اللہ شریف ہم سب کا قبلہ ہے۔ وہاں ہمارے مقدس مقامات ہیں اور یہ ریاست سعودی عرب کے جز ہیں۔ ان دو شہروں کو ہم‌ عیسائیوں کے مقدس شہر یا عیسائی مرجع دارالخلافہ ویٹیکن سٹی کی طرح جدا نہیں کرسکتے ہیں۔
اسلام کا مرجع قرآن مجید اور احادیث نبویہ علیہ الصلوٰۃ والسلام ہیں اور عیسائیوں کے مرجع اعلی اور پادری اعظم کے برعکس مسلمانوں پر کوئی دینی اتھارٹی نہیں ہے۔ ہر ملک میں مستقل علماء ہیں جو قرآن کریم اور احادیث مبارکہ سے جامعہ ازہر مصر یا سعودی عرب کے علماء سے رجوع کیے بغیر راست دینی و فقہی احکام کا استخراج کرتے ہیں۔

ہمارے لیے سعودی عرب نہیں صرف مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ مقدس ہیں لیکن یہ ویٹیکن سٹی کی طرح کسی ایک مقام پر فصیل شہر کے اندر نہیں ہیں۔
ویٹیکن سٹی اٹلی ریاست کے اندر ایک ریاست ہے۔ یہ اٹلی کے شہر روم میں واقع ایک خود مختار ریاست ہے۔ یہ ریاست تقریبا چاروں طرف سے دیواروں سے گھری ہوئی ہے جس کا کل رقبہ 44 ہیکٹر ہے اور یہ دنیا کی آبادی اور رقبے کے لحاظ سے سب سے چھوٹی خود مختار ریاست کہلاتی ہے۔

سعودی عرب پر رقص و موسیقی کی محفلیں سجانے پر ہمیں اعتراض کا حق ہے اور نہ کسی جماعت پر پابندی لگانے پر۔ ان کا ملک ہے وہ اپنے ملک کے مفاد میں کن سرگرمیوں کو مفید یا مضر سمجھتے ہیں یہ ان کے صوابدید پر ہے۔ تا ہم‌ تبلیغی جماعت کو دہشتگردی کا دروازہ کہنا نہ صرف بے بنیاد اور قابل اعتراض ہے بلکہ دنیا کے مختلف ممالک میں جہاں جہاں مسلمان ہیں ان ملکوں کے بدنیت متعصب عناصر کو مسلمانوں کو دہشت گرد کہنے کے لیے استدلال اور جواز فراہم کرتا ہے۔
جہاں تک پابندی کے دوسرے اسباب مثلاً ضعیف احادیث، کشف و کرامات اور من گھڑت واقعات ترغیب و ترہیب کےلیے  ہی سہی دین حنیف میں روا نہیں ہے۔ ایسی باتوں پر سعودی حکام کا نوٹس لےکر عوام کو بیدار کرنا درست ہے۔ ہمارے یہاں بھی اس پر باتیں اٹھتی رہی ہیں لیکن تبلیغی جماعت والوں نے کبھی ایسی اصلاحی باتوں کو قابل اعتناء نہیں سمجھا۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*