سعودی عرب: ’وادی سینما‘ میں مارچ تک 5 فلموں کی نمائش

ریاض :سعودی عرب میں ثقافتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے ساتھ فلموں کو بھی فروغ دیا جا رہا ہے۔ درعیہ دو سالہ ثقافتی پروگرام کے ذریعے پیش کی جانے والی باہمی ثقافتی، تعلیمی اور تربیتی سرگرمیاں جاکس کے پڑوس میں جانے والوں کے لیے دلچسپی کا باعث ہیں۔’وادی سینما‘ سعودی فلموں کی ایک مربوط سیریز پیش کرتا ہے جو وادی سنیما میں دکھائی جاتی ہیں۔ اس میں فلموں، سیمینارز اور آرٹ مُکالموں کی پیشکش کے ذریعے تخلیقی مکالمے کو تحریک دینے کے پروگرام بھی شامل ہیں،جن میں ہدایت کاروں، نقادوں اور مصنفین کا انتخاب ہوتا ہے۔فنکارانہ اقدام کلاسک، آرٹ، کلاسیکی اور آزاد فلموں کی پیشکش پر مبنی ہے۔ اینی شی ایٹیو درعیہ بینالے کی سرگرمیوں کے اندر 23 دسمبر 2021 سے شروع کیا گیا تھا جو 11 مارچ 2022 کو میلے کے اختتام تک جاری رہے گا۔.اس تقریب کے دوران 5 سعودی فلمیں دکھائی جائیں گی جن میں ”دی لیڈی آف دی سی” ہے۔ یہ فلم سب سے نمایاں فلموں میں سے ایک ہے جس کی ہدایت کاری شاہد امین نے کی ہے۔اس کا پریمیئر 2019 میں 76ویں وینس فلم فیسٹیول میں ہوا۔اس کے بعد ماہا الساطی کی ہدایت کاری میں بننے والی فلم ”فیئر ان وائس” ہے اور اس کے واقعات انسانوں اور تہذیب کے درمیان کشمکش کے گرد گھومتے ہیں۔اسامہ کی زندگی پر بننے والی فلم ”بدیل” کی بات ہے تو یہ 1993ء کے اختتام کے بعد ایک انجان جگہ پر دو لوگوں کے سفر کے گرد گھومتی ہے۔ فلم کا آغاز ان دو افراد سے ہوتا ہے جو ایک دوسرے کو تلاش کرنے کے سفر پر نکلتے ہیں اور اپنے وطن کو دریافت کرتے ہیں۔ڈرامہ فلموں میں سے ایک ”الکندرجی” ہے جو عہد کامل نے کی ہدایت کاری میں تیار کیا گیا ہے۔ اس کے واقعات صابر نامی ایک ایسے شخص کے گرد گھومتے ہیں جو جوتوں کی مرمت میں مہارت رکھتا ہے۔وہ دو سال تک قابض افواج کے ہاتھوں ناحق پکڑے جانے کے بعد اپنے خاندان کے پاس واپس لوٹتا ہے۔آخر میں بلیک کامیڈی ڈرامہ ’موال تانی‘ جس کی ہدایت کاری ہشام فاضل نے کی ہے۔ اس کے واقعات ایک آزاد انسانی زندگی کے گرد گھومتے ہیں جو اپنے اندرونی خیالات سے مسلسل تنگ رہتی ہے۔