سعودی عرب: بلند آواز پر قدغن؟ ـ ایم ودود ساجد

چند روز قبل ایک گروپ میں سعودی عرب کے ایک شہر کی مسجد کے امام کا ایک پیغام موصول ہوا۔ اس میں "ہانپتے کانپتے” بتایا گیا کہ مسجدوں میں لاؤڈ اسپیکر پر اذان دینے پر پابندی لگادی گئی ہے۔ یہ امام ہندوستانی ہیں ۔ میں نے انہیں مشورہ دیا کہ آپ احتیاط رکھیں اور اس انداز سے اس کی تشہیر نہ کریں ۔

مجھے اندازہ تھا کہ امام صاحب کو یا تو درست خبر نہیں پہنچی یا کسی اور نوعیت کی خبر کو انہوں نے جوش میں آکر اضافی نوعیت کی خبر بناکر پیش کردیا۔

آج Yahoo News نے سعودی گزٹ کے حوالے سے خبر شائع کی ہے کہ سعودی عرب کی وزارت مذہبی امور نے مساجد کے ذمہ داران کو ہدایت دی ہے کہ لاؤڈ اسپیکر پر صرف اذان اور اقامت (تکبیر) ہی کہی جائے اور اس کی Maximum volume کی ایک تہائی آواز کردی جائے ۔۔ نماز پڑھاتے وقت امام صرف مسجد کے داخلی اسپیکر کا استعمال کرے ۔

وزیر برائے "الشؤن الاسلامیہ’ والدعوہ والارشاد” ڈاکٹر عبد اللطیف بن عبد العزیز آل الشیخ نے کہا ہے کہ بلند آواز سے مختلف مساجد سے اذان’ اقامت اور نماز کی آواز سے مساجد کے پاس رہنے والے مریضوں’ ضعیفوں اور بچوں کو پریشانی ہوتی ہے اس لیے یہ فیصلہ کیا گیا ہے ۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شریعت کی رو سے جماعت سے ہونے والی نماز کے دوران امام کی آواز مسجد کے اندر موجود نمازیوں تک پہنچنی چاہئے اور مسجد سے باہر اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔سعودی گزٹ نے مساجد کے قریب رہنے والے نمازیوں کی آرا بھی شائع کی ہیں جنہوں نے کہا ہے کہ ایک ہی وقت میں مختلف مساجد سے آنے والی اذان اور نماز کی آوازیں نہ صرف اضافی طور پر ایک دوسرے سے ٹکراتی ہیں بلکہ ایک دوسرے کو Overlap بھی کرتی ہیں ۔

میرا خیال ہے کہ سعودی حکومت کا یہ فیصلہ انتہائی موزوں ہے۔اس سے پہلے کہ شرپسند عناصر سعودی عرب کا حوالہ دے کر ہندوستان میں جاری اسی صورتحال کے خلاف آواز اٹھائیں اور مسلمانوں کے خلاف ایک نیا شوشہ چھوڑیں صورت حال کی اصلاح کےلیے مساجد کے ذمہ داران کو خود ہی پہل کرنی چاہیے ۔

سعودی عرب میں بیشتر مساجد میں خوش الحان امام و مؤذن رکھے جاتے ہیں ۔۔ لیکن ہندوستان میں اس کا کوئی خیال نہیں رکھا جاتا ۔ خوش الحانی تو بہت دور تلفظ اور مخارج کی ادائیگی پر بھی کوئی توجہ نہیں دی جاتی۔اوپر سے اذان کی طرز انتہائی غیر مطلوب اور سماعت پر گراں ہوتی ہے۔ایک تو اسپیکر کا Decibel پوائنٹ زیادہ سے زیادہ ہوتا ہے اور اس پر اذان دینے والا بھی پوری طاقت لگا دیتا ہے۔ جب ایک ہی وقت میں محلہ کی مختلف مساجد سے اذان کی آوازیں آتی ہیں تو اذان کے الفاظ ایک دوسرے میں خلط ملط ہی نہیں ہوجاتے بلکہ مختلف آوازیں مل کر ایک عجیب صوتی ماحول پیدا کردیتی ہیں ۔

مجھے اندازہ ہے کہ کل اخبارات میں کس طرح کی شہ سرخیاں اور کس طرح کی خبریں شائع ہوں گی۔ مسئلہ کی نوعیت کو سمجھے بغیر ایک ملک اور اس کے حکمرانوں سے نفرت یا کراہت کی بنیاد پر خبر کا رخ ہی بدل جائے گا۔ صورتحال کی نزاکت کو سمجھ کر اصلاحی اقدامات نہ کرکے سعودی حکمرانوں کو القابات سے نوازا جائے گا۔خدا کےلیے یہ طرز فکر بدلیے۔ہمیں شرعی احکامات پر پوری طاقت سے عمل بھی کرنا ہے اور شرعی حدود کا بھی خیال رکھنا ہے۔ الله اور اس کے رسول کو ہم سے یہی مطلوب ہے۔