Home تجزیہ ستارا میں مسجد پر قابلِ مذمت حملہ !-شکیل رشید

ستارا میں مسجد پر قابلِ مذمت حملہ !-شکیل رشید

by قندیل

( ایڈیٹر ، ممبئی اردو نیوز )

مہاراشٹر کے ضلع ستارا میں ، کراڈ ٹاؤن کے قریب ، ایک گاؤں پوسے ولی میں ، ۱۱ ستمبر کی شب ، شیڈ والی مسجد اور مسجد کے اندر ٹھہرے ، الله کی راہ میں نکلے تبلیغی جماعت کے مختصر سے لوگوں پر ، سات سو سے زائد شرپسندوں کے حملے ، اور حملے میں ایک جماعتی کی شہادت ، اور گاؤں میں مسلمانوں کے گھروں ، دکانوں اور گاڑیوں کو آگ کے حوالے کرنے کے واقعے کی جس قدر مذمت کی جائے وہ کم ہے ۔ اقتدار کے نشے میں چور ہندوتوادی شرپسندوں کی بے شرمی اور ڈھٹائی نے تشدد کو ایک کھیل بنالیا ہے ، ایک ایسا کھیل جس نے پوری ریاست کو بارود کے ڈھیر پر لا کر کھڑا کر دیا ہے ۔ جب مہاراشٹر میں مہا وکاس اکھاڑی کی حکومت تھی اور شیوسینا کے سربراہ ادھو ٹھاکرے کانگریس و این سی پی کے تعاون سے ریاست کے وزیراعلیٰ کے طور پر کاروبارِ حکومت سنبھال رہے تھے ، تب ریاست میں بڑی حد تک امن و چین تھا ، حالانکہ بی جے پی اور ادھو ٹھاکرے کے چچازاد بھائی راج ٹھاکرے کی سیاسی پارٹی مہاراشٹر نونرمان سینا( منسے) اور سنگھیوں کی پوری کوشش تھی کہ مسجدوں سے لاؤڈ اسپیکر کے بہانے پوری ریاست کو تشدد کی بھٹی میں جھونک دیں ۔ ادھو ٹھاکرے نے ایک وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے امن و امان کی صورت حال کو قابو میں رکھا تھا ، اور شرپسندوں کے خلاف تیزی کے ساتھ کارروائی کرنے میں کسی طرح کی ہچکچاہٹ نہیں دکھائی تھی ۔ لیکن ایکناتھ شندے نے ، جب سے ادھو ٹھاکرے سے بغاوت کرکے ، اور شیوسینا کو دو حصوں میں تقسیم کرکے ، بی جے پی کا ہاتھ تھاما اور ادھو ٹھاکرے کی جگہ وزیراعلیٰ بنے ہیں ، ریاست بھر میں یوں لگتا ہے کہ شرپسندوں کو کھلی چھوٹ مل گئی ہے ۔ شندے کے اس دور میں فرقہ وارانہ تشدد اور فرقہ وارانہ جھڑپوں کے کئی واقعات ہو چکے ہیں ۔ شیو جینتی پر جگہ جگہ تشدد کے واقعات ہوئے تھے ۔ مالونی میں شیو جینتی کے جلوس میں شامل شرپسندوں نے جس ڈھٹائی اور بے شرمی کے ساتھ ایک مسجد کے سامنے مذہبی شدت پسندی کا مظاہرہ کیا ، اور اشتعال انگیز نعرے لگائے تھے ، وہ بھلائے نہیں جا سکتے ۔ ’ سکل ہندو سماج ‘ کے جھنڈے تلے نکالے جانے والے جلوسوں کو مسلمانوں کے خلاف نفرت کے پرچار کا ایک ذریعہ بنالیا گیا تھا ۔ ان جلوسوں میں ٹی راجہ ، کاجل ہندوستانی اور سریش چوہانکے جیسے نفرت کے سوداگر تو شریک ہوتے ہی تھے بی جے پی کے لیڈران بھی شامل رہتے تھے ۔ سپریم کورٹ تک نے ان جلوسوں میں بولی جانے والی نفرت کی بھاشا پر سخت لہجہ اپنایا ، اور ہدایت دی تھی کہ ہیٹ اسپیچ کرنے والوں کے خلاف کسی کی طرف سے شکایت درج کرانے کا انتظار کیے بغیر ایف آئی آر درج کی جائیں ، لیکن شندے سرکار انہیں چھوٹ دیے رہی ، اور اب بھی وہ نفرت کی بولی بولنے کے لیے آزاد ہیں ۔ شندے کوئی کارروائی کر بھی نہیں سکتے کہ وہ بی جے پی کے دَم پر وزیر اعلیٰ بنے ہیں ، اور ریاست کے سارے شرپسندوں کو بی جے پی کا آشیرواد حاصل ہے ۔ ریاست کے سابق بھاجپائی وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس اب نائب وزیر اعلیٰ اور وزیر داخلہ ہیں ، گویا پولیس ان کی مٹھی میں ہے ۔ جب مہاراشٹر میں مغل فرمانروا اورنگ زیب اور مراٹھا راجہ شیواجی کے نام پر سوشل میڈیا کی پوسٹوں سے کشیدگی بڑھی تھی ، تب فڈنویس نے بابر اور اورنگ زیب کی اولادوں کا نفرت انگیز تذکرہ کیا تھا ۔ ہندوتوادی شرپسندوں کو یہ منظور نہیں ہے کہ کوئی شخص اورنگ زیب اور ٹیپو سلطان کا ذکر اچھے لفظوں میں کرے یا اپنے موبائل فون پر ان کے اسٹیٹس لگائے ۔ اور اگر کسی نے ایسا کردیا تو وہ غدار اور ملک دشمن قرار دے دیا جاتا ہے ۔ چند مہینے پہلے سوشل میڈیا کی کئی پوسٹوں کی بنیاد پر ریاست کو تشدد کی بھینٹ چڑھانے کی کوشش کی گئی تھی ۔ کولہاپور ، احمدنگر ، بیڑ ، اورنگ آباد ، اکولہ ، شیگاؤں ، سنگمنیر ، جلگاؤں ، ممبئی اور ناسک کو نشانہ بنایا گیا تھا ۔ ستارا تب سے ہی نشانے پر تھا ۔ اتوار اور پیر کی درمیانی شب پوسے ولی گاؤں میں مسجد پر ، جو شیواجی مہاراج کے زمانے کی یادگار ہے ، شرپسندوں کا حملہ سوشل میڈیا کی ایک ایسی پوسٹ کو بہانہ بنا کر کیا گیا جس میں مبینہ طور پر شیواجی مہاراج کی توہین کی گئی تھی ۔ حالانکہ اب تک ثابت نہیں ہوسکا ہے کہ پوسٹ واقعی توہین آمیز تھی ! نہ ہی یہ ثابت ہوسکا ہے کہ پوسٹ کا قصور وار کوئی مسلمان تھا ! جس موبائل نمبر سے مبینہ توہینِ آمیز پوسٹ بھیجی گئی تھی وہ کسی مسلمان کی ہے ، اسے حراست میں لے لیا گیا ہے ، لیکن پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک مہینے کے دوران ستارا میں کئی مسلمانوں کے موبائل فون نمبر ہیک کیے گئے ، اور ان کے ذریعے ہندو مخالف پروپیگنڈا کیا گیا ہے ۔ اس موبائل فون نمبر کے تعلق سے بھی یہی دعویٰ ہے کہ اسے ہیک کیا گیا ہے ۔ کچھ عرصہ قبل اسی ستارا میں ایک ہندوتوادی کارکن فون نمبر ہیک کرنے کے الزام میں پولیس کے ہتھے چڑھ چکا ہے ۔ خیر اس موبائل فون نمبر کی تفتیش جاری ہے ، جو بھی سچ ہوگا سامنے آ ہی جائے گا ۔ سوال یہ ہے کہ ، اگر موبائل جس سے مبینہ توہین آمیز مواد پوسٹ کیا گیا ہے ، اگر واقعی کسی مسلمان کا ہے بھی تو کیا یہ کسی مسجد پر ، جماعتیوں پر ، مسلمانوں کے گھروں ، دکانوں اور گاڑیوں پر حملے کا جواز بن سکتا ہے؟ کسی کو جان سے مارنے کا جائز سبب مانا جا سکتا ہے؟ قطعی نہیں ۔ یہ شرپسندی بھی ہے ، اور ملک کے آئین اور قانون کے خلاف بھی ہے ۔ اس تشدد میں بی جے پی کے ریاستی نائب صدر وکرم پاؤسکر کا نام لیا جارہا ہے ۔ بی جے پی کی حالت مہاراشٹر میں خستہ ہے ، اسی لیے وہ فرقہ پرستی کی سیاست کھیل رہی ہے ۔ جو سروے آئے ہیں وہ بی جے ہی کے ہوش اڑانے والے ہیں ، لہذا فسادات کے آزمودہ نسخے پر عمل کیا جا رہا ہے ۔ عوام کو بشمول مسلمان ، محتاط رہنا ہوگا ۔ مہا وکاس اکھاڑی کے سیاست دانوں کو بی جے پی کی چالوں سے بچنا ہوگا ۔ مہاراشٹر کو آنے والے دنوں میں فرقہ وارانہ تشدد کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔ اچھی بات یہ ہے کہ شیواجی مہاراج کے ایک وارث بی جے پی کے ایم پی ادئین راجے بھونسلے نے ، جو اس سے پہلے این سی پی میں تھے ، ستارا کے تشدد پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے ، انہوں نے شیڈ والی مسجد کا دورہ بھی کیا ہے ، اور ہندو مسلم اتحاد کو شیواجی مہاراج کا پیغام قرار دیا ہے ۔ شیواجی کے بھائی چارے کے پیغام کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ ان کے نام پر جو نفرت پروسی جا رہی ہے اُس پر روک لگ سکے ۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

You may also like