ثری سے ثریا تک ـ نجیب محفوظ

ترجمہ: ڈاکٹر طارق انور

اس زندگی سے اور کیا امید ہو سکتی تھی؟ وہ خاندان کی فردِ فرید تھی، مگر ساتھ ہی اس سے الگ تھلگ بھی۔ اس کی زندگی بالکل حاشیے پہ گزر رہی تھی، حالاں کہ وہ ایسا مرکز تھی جس کے ارد گرد ہر چیز گھوم رہی تھی۔ وہ سب سے پہلے اٹھتی کہ ناشتہ تیار کرسکے اور اس کے بعد لگا تار کام کرتی رہتی، جن کی انتہا رات کے کھانے کے بعد برتن دھونے پر ہوتی۔ اسے خاندان سے جڑے ہونے کا احساس بس اس وقت ہوتا جب وہ خاندان کے بقیہ افراد کے ساتھ کھانے کی میز پر بیٹھتی، یا جس وقت وہ روزانہ کے معمولات سے فراغت کے بعد ٹیلی ویژن کے سامنے اپنی جگہ لیتی ۔ پھر دس بھی نہیں بجتے کہ اس کی سوتیلی ماں خانم تفیدہ دو ٹوک اور مصنوعی شفقت بھرے لہجے میں اس سے مخاطب ہوتی:
‘‘نعیمہ، اب جاؤ سوجاؤ کہ تمہیں بھی تھوڑا آرام مل سکے’’۔

اس خاتون کو نعیمہ کے آرام کی فکر ہی کہاں تھی، ہاں وہ یہ ضرور چاہتی تھی کہ نعیمہ صبح سویرے اٹھ جایا کرے۔اس بات کی دلیل ان کی جڑ پکڑی ہوئی ایک دوسرے سے نفرت تھی جس کا اظہار کبھی خاموشی سے تو کبھی تیز کلامی سے ہوجایا کرتا تھا۔ اس خاتون نے تو اس کی زندگی تباہ کردی تھی اور ایک موٹی دیوار کے سہارے امید کا راستہ بند کردیا تھا۔صبح سات بجے کے قریب، اس کے والد بکری صاحب اپنی رہائش گاہ سے سرکاری دفتر کے لئے نکلتے اور ان کے بعد اس کی تینوں بہنیں بھی اپنی اپنی ملازمت پرجو انہیں حال ہی میں یونیورسٹی کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ملی تھی، چلی جاتیں۔ رہ گئی نعیمہ، تو وہ خانم تفیدہ کی زیر نگرانی اپنے روزمره کے کام میں مصروف ہو جاتی۔ وقت ایسا آگیا تھا کہ کسی نوکرانی کو کرایہ پر رکھنا بس میں نہیں تھا، سو اب اس خلا کو نعیمہ ہی بغیر کسی معاوضے اور احسان کے پر کر رہی تھی، مانو کہ وہ یہ فریضہ اس گھر میں جس کے بارے میں خیال تھا کہ وہ اس کے باپ کا ہے، اپنے کھانے اور رہنے کے عوض ادا کر رہی ہو۔ اس نے اپنی حالت زار پر اسی طرح سرخم کرلیا تھا جس طرح اس کا باپ اپنی بیوی کی مرضی کے آگے سرنگوں تھا۔ دونوں کو حکم بجالانے میں ذہنی کدورت سے نجات مل گئی تھی۔ نعیمہ کام کرنے، خانم تفیدہ کی نفرت سہنے، سستے عام سے موٹے جھوٹے کپڑے پہننے اور اپنی واجبی سی تعلیم پر اسی دن سے راضی ہوگئی تھی، جب سے خانم نے اسے گھر ہی میں رکھنے پرزور دیا تھا تا کہ وہ ان کا اپنے مستقبل کو داو پر لگا کر اور ان کی دائمی نفرت کا شکار ہوکر گھر کے کاموں میں ہاتھ بٹا سکے۔ اسے اپنے کمزور باپ کا بھی کچھ ساتھ نہ ملا تھا۔ جب وہ آٹھ سا ل کی تھی، اس نے اپنی ماں کو کھودیا تھا، تب سے اسے کوئی سہارا نہ ملاتھا اور اب جب وہ اکیلے اٹھائیس پار کر رہی تھی، اس کی خوبصورتی پر لاپروائی، گندگی، جہالت، عمر اور غربت کا جو پردہ پڑا ہوا تھا، کوئی اسے ہٹا نہیں سکتا تھا۔ مستقبل اپنی پھیکی مسکراہٹ کے ساتھ اسے خواب ہی میں نظر آتا تھا اور خواب تو خواب تھا، حقیقت کیوں بنتا۔ تو کیا وہ اپنی شومی قسمت کا کڑوا گھونٹ پورا کا پورا پی لیتی؟ اس کا باپ اس پر کبھی کبھار خانم سے چھپ چھپا کر اپنے گوشہ چشم سے شفقت کی نظر ڈال لیتا، پھر زندگی کے الجھنوں میں الجھ کر اس سے بالکل لا پروا ہو جاتا، اور وہ سسکتے ہوئے پکار اٹھتی:
۔میرا باپ بھی مجھے بھول بیٹھا ہے جس طرح اس سے پہلے اس نے میری ماں کو بھلا دیا۔
اور جب کبھی وہ اپنی سوتیلی ماں سے ہلکا پھلکا زور آزمائی بھی کرتی، تو گھر کے سارے لوگ، چاہے بہنیں ہوں یا باپ، سب اس پر ایسا ٹوٹ پڑتے کہ وہ ہار مان کر تن تنہا ایک کونے میں جا پڑتی۔ یہ گھر ایک ظالم کا تھا، جہاں اس کا بغیر کسی ہمدردی کے استحصال ہو رہا تھا اور وہ اس گھر سے اپنے زخم خوردہ دل کی گہرائیوں سے نفرت کرنے لگی تھی۔ اس نے اپنی جوانی کے دنوں میں کئی دفعہ اچھی قسمت کا خواب بھی دیکھا تھا کہ خوابوں کا ایک شہزادہ آئے گا اور اس کی بدحالی و جہالت کے باوجود اسے اپنے دل سے لگائے گا اور خوشی وشادمانی کے آسمانوں میں اسے لے جائے گا، مگر وہ نہ آیا اور نہ اس نے وقت کا انتظار کیا۔ اسے کبھی بالکنی میں دھلے ہوئے کپڑے پھیلاتے ہوئے یا راستے میں بازار کرتے ہوئے لگتا کہ کچھ نگاہیں اسے پسندیدگی سے دیکھ رہی ہیں ، وہ محض نگاہیں ہی تھیں جن سے نہ کوئی کام ہوتا اور نہ ہی امید باندھی جاسکتی تھی۔ بسا اوقات اس کی سوتیلی ماں اس کے اندرون میں جھانکتی اور اسے سناسنا کر اپنی بیٹیوں سے کہتیں:
اپنے پاؤں پر کھڑی ہوکر پیسے بچایا کرو، تمہارا باپ کسی بیٹی کو جہیز دینے کی قدر ت نہیں رکھتا!
سیانی کا اصل مخاطب تو بس نعیمہ ہوتی، وہ اس کے باپ سے کہتی:
آج کل لڑکے کو تو ایک ایسی بیوی کی ضرورت ہوتی ہے جو اس کا زندگی کا بوجھ اٹھانے میں ساتھ دے سکے اور ملازمہ تو اپنی تنخواہ کے ساتھ ہمارے زمانے میں صاحب جائداد کی طرح ہے’’۔
وہ خاموش نہ رہ پاتی اور بول اٹھتی:
۔اگر مجھے اسکول چھوڑنے پر مجبور نہ کیا جاتا، تو میں آج ملازمت کر رہی ہوتی’’۔
خانم قطعیت کے ساتھ جواب دیتی۔
۔تو تو پڑھنے میں کمزور تھی، تو میں نے تجھے ملکہ خانہ بنا دیا اور کچھ ہونا نہ ہونے سے تو بہتر ہے’’۔
وہ نہ چاہتے ہوئے بھی چلا اٹھتی:
۔میرا رب آپ سے نمٹ لے گا!
خاتون چلاتی:
۔اب تم مجھے بد دعا دے رہی ہو!؟
باپ اور بہنیں بیچ میں آجاتیں اور وہ معمول کے مطابق بازی ہار جاتی ۔ ویسے بھی بات کرنے اور بحث و مباحثہ کا فائدہ کیا، جوانی تو امید کے ساتھ ڈھل ہی رہی تھی؟اب تو اسے ایک نئی طرح کے المیے کا سامنا تھا۔ بڑی بہن: دریہ کا ہاتھ مانگنے ایک لڑکا آیا تھا اور فلیٹ نہ ملنے کے امکان پر رشتہ ٹوٹ گیا تھا۔ اس رات خاندان میں شادی کے اخراجات کو لیکر ایک لمبی غمناک بحث چلی، اس کے بعد نعیمہ کو پتہ چل گیا کہ اس کی بہنوں کی قسمت بھی اس کے مقابلے میں زیادہ اچھی نہیں ہے۔ واقعی دنیا بدل چکی ہے اور وہ مستحق اور غیر مستحق سب سے انتقام لے رہی ہے۔سردی کے آخری دنوں کی ایک صبح تھی، نعیمہ اپنے کستوری رنگ کی میکسی میں خاکی رنگ کے شال سے چہرہ لپیٹے ہوئے بازار سے واپس ہوئی تھی اور اس کے ہاتھ میں سبزیوں کا ٹوکرا تھا، وہ حسب معمول رک کر دربان کی بیوی سے دو چار باتیں کرنے لگی، اتنے میں خاتون نے کہنا شروع کیا:
‘‘میں تمہیں دیکھ رہی ہوں، خواہ مخواہ نوکرانی بنی ہوئی ہو’’۔
یہ سننا تھا کہ اس کی پیشانی پہ بل آگئے اور اس کی عزت نفس کو ٹھیس لگی۔ خاتون نے بات جاری رکھی:
۔میں تمہارے حاسدوں کی وجہ سے تمہارے خاندان سے نفرت کرنے لگی ہوں!
نعیمہ نے منہ ہی منہ میں کہا:
۔اللہ سب کچھ دیکھ رہا ہے۔
خاتون نے لگاوٹ کے ساتھ پوچھا:
۔تمہارا کیا خیال ہے، آج کل نوکرانی کی کیا تنخواہ ہوتی ہوگی؟
وہ ابھی تک خود کو کم ازکم دوسروں کے سامنے ایک خاندان کی ایک شریف خاتون سمجھ رہی تھی۔
۔اور کیا تنخواہ ہی سب کچھ ہے؟
۔یقینا، اپنے جان کی دشمن نہ بنو۔
وہ اس رات سوچ سے سو نہیں پائی۔ تنخواہ ہی بس ایک محرک نہیں تھی، بلکہ وہ تفیدہ خانم کی بالادستی، اپنے باپ کی کمزوری اور اپنی بہنوں کی انا پسندی سے بھی آزاد ہونا چاہ رہی تھی۔ اس کے اور دربان کی بیوی کے درمیان گفتگو ہو ہی رہی تھی۔ اس نے کسی آراستہ فلیٹ میں کام کرنے کا ٰخیال چھوڑ دیا اور خودداری کے ساتھ کہنے لگی:
۔میں ایک باعزت لڑکی ہوں۔تو خاتون نے جواب دیا:
۔اور میرے پاس بھی ایک باعزت خاندان ہے!
اور نعیمہ نے گھر چھوڑ دیا پھر واپس نہیں آئی۔ انجینئرز ٹاؤن کے ایک خاندان کے فلیٹ میں اسے سو پونڈ پر کام مل گیا، اس کا پہناوا اوڑھاوا بھی اور اس کی صحت بھی ٹھیک ٹھاک ہو گئی اور دو سالوں کے اندر ہی اس کی شادی ایک بہت ہی لائق بجلی مستری سے ہو گئی۔اس کے دل میں خواہش ہوئی کہ وہ اپنے خاندان والوں سے ملاقات کرے تاکہ اس کا شوہر بھی جان لے کہ وہ میکے والی ہے اور اس کے میکے والے بھی جان لیں کہ ان کے چنگل سے چھٹکارا حاصل کرنے کے بعد اس کا نصیب کتنا اچھا ہو گیا۔
جس دن وہ اپنی پرانی رہائش گاہ پر خوش و خرم شوہر کی رفاقت میں اپنے نئے خدو خال اور خوبصورت لباس میں پہنچی، وہ اس کی زندگی کا سب سے مبارک دن تھا۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*