مولانا ڈاکٹر ابواللیث خیر آبادی کی”سرگزشتِ حیات” پر تاثراتی نوٹ -محمد رضی الرحمن قاسمی

استاذ شریعہ و عربی زبان۔ ینبع، مدینہ منورہ

کل رات "سر گزشت حیات” کا نسخہ ملا، عشائیہ کے بعد پڑھنا شروع کیا، رات ایک بج کر چالیس منٹ پر نگاہ آخری سطر پر تھی، دوران مطالعہ کبھی آنکھیں نم ہوئیں اور کبھی بے ساختہ ہونٹوں پر مسکراہٹ بھی آئی۔ ڈاکٹر صاحب کی گھریلو اور خاندانی تفصیلات سرسری طور پر پڑھا؛ لیکن علمی و عملی زندگی کے حالات اور تصنیفی و تالیفی فتوحات کو پوری دقت نظر سے سطر بہ سطر ، لفظ بہ لفظ پڑھا۔
ڈاکٹر صاحب کی داستان حیات صبر و عزیمت، انتھک محنت اور جہد مسلسل، اللہ پر بھروسہ، کثرت سے دعائیں کرنے اور رب کے حضور ہاتھ پھیلانے، رب کریم کی طرف سے بندہ عاجز کی دست گیری، دعاؤں کی قبولیت اور غیبی مدد و نصرت کا وہ قصہ ہے، جو مجھ جیسے کم ہمت اور کم علم فرد کے لیے شوق کو مہمیز کرنے والا اور حوصلے کو نئی اڑان دینے والا ہے۔ فجزاھم الله خيرا
ڈاکٹر صاحب کی داستانِ زندگی میں "و ان ليس للإنسان إلا ما سعى، وأن سعيه سوف يرى، ثم يجزاه الجزاء الاوفى” جھلکتا ہی نہیں روز روشن کی طرح دکھتا ہے۔ سادہ مگر پرکشش انداز اور لب و لہجے میں لکھی ہوئی یہ آپ بیتی ہمیں سبق دیتی ہے کہ حالات چاہے جیسے بھی ہوں، اگر چار باتوں کاانسان التزام کر لے تو جلد یا بدیر حالات موافق و سازگار ہوتے ہی ہیں اور انسان منزل تک پہنچ کے ہی رہتا ہے:
1۔ منزل و مقصد کا تعین ہو اور ہر وقت وہ دل و نگاہ میں رہے۔
2۔ منزل تک پہنچنے میں کسی بھی طرح کی چھوٹی یا بڑی مشکل نظر آئے، تو بجائے الجھنے، پریشان ہونے اور ہمت ہارنے کے اپنی پوری قوت اس کا کوئی بہتر حل ڈھونڈنے میں لگادیا جائے۔
3۔ جہد مسلسل اور انتھک محنت کو اپنا شعار بنالیا جائے کہ:
دنیا نہیں مردانِ جفاکش کے لئے تنگ
4۔ ان اوپر مذکور تینوں باتوں سے پہلے اور ان کے ساتھ دعاؤں کو اور رب کریم کی چوکھٹ پر سر رکھ کر بے پناہ عاجزی و الحاح و زاری کو اپنا ہتھیار بنالیا جائے اور اس کریم ذات سے یہ بھروسہ رکھا جائے کہ وہ ان دعاؤں اور آنسوؤں کی برکت سے جو ہم چاہ رہے ہیں اور جس مقصد کے لئے کوشاں ہیں،یا تو وہی یا اس سے بہتر کسی چیز سے نوازے گا۔
یہ”سرگزشت حیات” جہاں بہت سے افراد؛ بلکہ ایک عہد کی دستاویز ہے، وہیں یہ کتاب مجھ جیسے طالب علم کے لیے مشعلِ راہ اور حوصلہ کو مہمیز کرنے والی بھی ہے۔ دعا ہے کہ اللہ عزوجل ڈاکٹر صاحب کو صحت و عافیت کے ساتھ لمبی عمر عطا کرے اور ان کے علمی و فکری پراجیکٹس کو اپنی بارگاہ میں قبول کرے اور اسے انسانیت کے لیے نفع بخش بنائے، اور ان کا فیض رسانی کا دائرہ کیفیت و کمیت کے اعتبار سے بڑھتا ہی رہے۔ والله الموفق و هو المستعان
میرے استاذ و مشفق مولانا ضیاء الحق خیرآبادی صاحب (حاجی بابو) کی اس کتاب کی تہذیب و ترتیب میں خوش ذوقی صاف جھلک؛ بلکہ چھلک رہی ہے، ان کے مقدمہ نے اس کتاب کو مزید مفید بنادیا ہے۔ اللہ عزوجل ان کو بھی صحت و عافیت کے ساتھ لمبی عمر عطا کرے اور امت کے لئے سدا نافع بناکر رکھے۔ اس مفید کاوش پر مولانا ڈاکٹر ابواللیث خیر آبادی اور حاجی بابو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد قبول فرمائیں!